اثاثہ جات ریفرنس: پاناما جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء بطور گواہ پیش

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے حوالے سے دائر ریفرنس کی سماعت کے دوران پاناما پیپز کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ اور استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء احتساب عدالت میں پیش ہوئے تاہم اصل ریکارڈ نہ ہونے پر بیان ریکارڈ نہ ہوسکا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحٰق ڈار کے خلاف پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے حوالے سے ریفرنس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران جج محمد بشیر نے واجد ضیاء سے سوال کیا کہ آپ کے پاس جے آئی ٹی رپورٹ نہیں ہے؟

جس پر واجد ضیاء نے جواب دیا کہ میرے پاس رپورٹ کی کاپی ہے اصل ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کردای دی تھی اور اس میں رازادری رپورٹ میں ایک والیم بھی شامل ہے۔سماعت کے دوران جج محمد بشیر نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ یا کوئی اور ریکارڈ بھی چاہیے؟

اس موقع پر نیب پروسیکیوٹر عمران شفیع نے کہا کہ رپورٹ کی جلد ون اور نائن اے چاہیے اور اس حوالے سے سپریم کورٹ سے اصل ریکارڈ کے لیے درخواست دی ہے۔جس پر عدالت نے آئندہ سماعت 12 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے واجد ضیاء کو دوبارہ طلب کرلیا۔یاد رہے کہ گزشتہ سماعت میں احتساب عدالت نے پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کو بطور گواہ طلب کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں