احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دے دیا

اسلام آباد: احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس میں مسلسل غیر حاضری پر اسحاق ڈار کو اشتہاری ملزم قرار دے دیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت کی، اسحاق ڈار کے وکیل نے اپنے موکل کی نئی میڈیکل رپورٹ جمع کرادی۔ وکیل قوسین مفتی نے کہا کہ اسحاق ڈار کی ایم آر آئی کا انتظار تھا، ان کے سینے میں تکلیف ہے اور ابھی مزید ٹیسٹ ہونے ہیں، تاہم دل کے آپریشن کی ضرورت نہیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم کی ہر میڈیکل رپورٹ پہلے سے مختلف ہوتی ہے، درحقیقت اسحاق ڈار کو دل کی کوئی تکلیف نہیں، ملزم عدالتی حکم کے باوجود پیش نہیں ہورہا، اس لئے اسے اشتہاری قرار دیا جائے۔

اسحاق ڈار کے وکیل قوسین مفتی نے کہا کہ اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل لاہور کے پتے پر کی گئی جب کہ وہ تو وہاں رہتے ہی نہیں۔ جس پر پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ ملزم کو عدالتی کارروائی کے بارے میں معلوم ہے، لہذا وارنٹ لندن بھجوانے کی ضرورت نہیں۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دے دیا، عدالت نے ضامن کو ہدایت کی کہ اگر آئندہ سماعت پر اسحاق ڈار نہ پیش ہوئے تو 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے ضبط ہوجائیں گے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں اس وقت کے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا۔ پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی حتمی رپورٹ میں کہا کہ اسحاق ڈار کے اثاثوں میں بہت کم عرصے کے دوران 91 گنا اضافہ ہوا اور وہ 90 لاکھ روپے سے بڑھ کر 83 کروڑ 10 لاکھ روپے تک جا پہنچے۔

خیال رہے اسحاق ڈار بطور ملزم اب تک 7 مرتبہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ اب تک 5 گواہوں نے اپنے بیانات قلمبند کرائے، تین پر جرح مکمل کر لی گئی۔ 14 نومبر کو عدم حاضری پر عدالت نے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جبکہ 21 نومبر کو مسلسل عدم حاضری پر احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کو مفرور ملزم قرار دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں