احساسِ زیاں

مقدر عباس

باپ زندگی کی آخری گھڑیاں گزار رہا تھا اپنے چھوٹے بچوں پر مایوسی سے لبریز نگاہ ڈالی اور قریب بیٹھے عزیز سے  کہا میرے عزیز میں جلد سفر ابدی کی طرف کوچ کر جاؤں گا نہیں معلوم میرے بعد میرے نو نہالوں پر کیابیتے گی تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ انہیں کنڈ)پشت( نہ کرنا یعنی ان کا خیال رکھنا۔باپ اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔غم تازہ،احساس یتیمی کا ابتدائی ایام میں بہت خیال رکھا گیا لیکن زمانہ بیتنے کے ساتھ ساتھ اس عزیز نے وصیت پرکچھ اس طرح عمل کیا کہ ان یتیموں کی جائیداد کو ہتھیانے لگا۔لیکن جب  بھی  بچوں سے ملتا ان کے بوسے لیتا اور انہیں پشت  تک نہ کرتا تھا۔سوال یہاں پر یہ اٹھتا ہے کہ آیا اس نے طبق وصیت عمل کیا  یا نہیں تو جواب ظاہراً یہی ملے گا کہ جو باپ کی حسرت تھی وہ حسرت ہی رہی اور حرص و طمع و دنیا پرستی نے احساس کے رشتے کوکچل کر رکھ دیا۔اگر ہم تھوڑا غور کریں اور حدیث ثقلین کا مطالعہ کریں تو کچھ ایسی ہی صورتحال ہمارے سامنے آئے گی کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کے بعد ہم نے قرآن و اہل بیت علیھم السلام کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔ ظاہراً  بوسے بھی لیے پشت بھی نہیں کی لیکن مانی ایک بھی نہیں۔نظری طور پر ہم مانتے ہیں لیکن عملی طور پر ہماری زندگیوں میں اس کا فقدان پایا جاتا ہے۔ہمارا دعویٰ ہے کہ قرآن میں ہر خشک و تر موجود ہےلیکن عملی طور پر جب نظام بنانے کی بات آتی ہے تو سب نظام سامنے ہوتے ہیں سوائے قرآن واہلبیت علیھم السلام کے۔یعنی دنیا کیلئے دیگر نظام اور قبر کیلئے قرآن و اہل بیت علیھم السلام۔دنیا کے مہم ترین نظاموں میں سے ایک،  نظام تعلیم ہے۔جس طرح کسی بھی ہدف تک پہنچنا ہو تو اس کیلئے ایک وسیلہ کلیدی کردار ادا کرتا  ہے اور اگر وہ وسیلہ دستیاب نہ ہو تو انسان اپنے ہدف تک نہیں پہنچ پاتا مثلاً  مجھے پاکستان کے کسی بھی شہرکا سفر کرنا ہو تو میں اس سواری کا انتخاب کروں گا جو آسان ترین ہو جس تک میری رسائی ہو اور اگر میرے پاس یہ وسیلہ ہی نہ ہو تو میں اپنے ہدف تک نہیں پہنچ پاؤں گا۔اسی طرح تعلیم کے بنیادی اہداف تک رسائی کیلئے جو چیز اہم کردار ادا کرتی ہے وہ زبان ہےہر معاشرے کے لیے اسکی زبان ہی بہترین ذریعہ تعلیم ہو سکتی ہے اور اللہ تعالی  نے قرآن مجیدمیں ارشاد فرمایا ہے۔

ہم نے ہر نبی کو اس کی قومی زبان میں بھیجا ہے تاکہ ان کے سامنے وضاحت سے بیان کر دے۔ اللہ جسے چاہےگمراہ کر دے۔ اور جسے چاہے راہ دکھا دے۔وہ غلبہ اور حکمت والا ہے۔ سورہ ابراہیم آیت 4  یعنی قرآن مجید ہمیں اس مسئلے میں بھی راہنمائی فرما رہا ہےکہ ہر نبی اسی قوم کی  زبان میں بھیجا گیا ہے۔ اگر ہم اس نظریے کو دنیا میں دیکھیں تو ہر قوم نے اپنی ہی زبان میں ترقی کی ہے  چین ،  جاپان،روس،فرانس،امریکہ،برطانیہ، اسرائیل اور دنیا میں تعلیم کے میدان میں سب سے اگلی صفوں میں میں کھڑا ہونے والا فن لینڈ  سب نے  اپنی ہی زبان میں ترقی کی ہےلیکن ہم برصغیر پاک و ہند کے باسی ہی اس معرفت کامل کا ادراک کر چکے ہیں کہ نہیں ہم زیادہ باصلاحیت ہیں جو اس فطرتی اصول سے ہٹ کر ترقی کرنا چاہتے ہیں بالکل اس شخص کی مانند جو بس میں سیٹ ہونے کے باوجود کھڑا ہوا تھا لوگوں نے کہا کہ بیٹھ جاؤ کہنے لگا  مجھے جلدی ہے اس لیے بیٹھ نہیں سکتا۔اگر ہم اسں تلخ حقیقت کے پس منظر کا سفر کریں تو ایسٹ انڈیا کمپنی کے میدان میں لارڈ میکالے اور ووڈذ ڈسپیچ)مراسلہ( نے جو ہمارے ساتھ کھیل کھیلا اور ہمیں اپنی اصلیت سے ہٹا کر ایسے رستے پر لگایا کہ ساری زندگی انہیں کےغلام بن کر رہیں اور ہمیں یہ ضرب المثل  بھی تاریخ میں لکھی ہوئی نظر آئی کہ پڑھو فارسی بیچو تیل یعنی نوکری چاہیے تو انگریزی پڑھو  ورنہ فارغ رہویعنی اس سے پہلے تعلیم عبادت کے طور پر حاصل کی جاتی تھی لیکن ایسٹ انڈیا کمپنی اور کچھ اپنے مہربانوں کی مہربانی کہ تعلیم برائے کمائی۔

بقول علامہ اقبالؒ :

عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے

قبض کی روح تیری دے کے تجھے فکر معاش

وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں

جس علم کا حاصل ہو جہاں میں دو کف جو

یعنی ہم اس بچے کی مانند ہیں کہ جس کے منہ سے ماں کا دودھ چھین کر فیڈر تھما دیا جاتا ہے اور مزے لے لے کر پی رہا ہوتا ہے حالانکہ اس بیچارے کو نہیں معلوم کہ اس سے حقیقت کو چھین لیا گیا ہے یا اس مسافر کی طرح کہ جس کی گاڑی کا راستہ ہی تبدیل کر دیا جاتا ہے اورمسافر جھوم جھوم کر سفر کا لطف اٹھا رہا ہوتا ہے لیکن اسے نہیں معلوم کہ اس نے جانا مشرق کی ِطرف تھا مگر گاڑی اسے مغرب کی طرف لےکر جارہی ہے۔

متاع کارواں بھی گیا اور احساس زیاں بھی نہ رہا

 انگریز نے یہ نہیں کہا کہ علامہ اقبال کو نہ پڑھو بلکہ وہ وسیلہ ہی تبدیل کر دیا کہ جس کے ذریعے سے ہم اقبال سے وابستہ تھے اب اولاد باپ کی قبر پرصرف فاتحہ پڑھنے جاتی ہے اور اتنی بے بس ہے کہ باپ کی قبر پر تحریر، اس وصیت کو پڑھنے سے بھی عاجز۔

گویا بزبان اقبالؒ؛

سنے گا اقبال کون ان کو یہ انجمن ہی بدل گئی ہے

نئے زمانے میں آپ ہم کو پرانی باتیں سنارہے ہیں

میں دیگر زبانوں کے سیکھنے یا بولنے کا بالکل بھی منکر نہیں ہوں لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہوں گا کہ جتنی زبانیں سیکھ لیں اپنی زبان کو ترک نہ کریں ورنہ قومیں آپکو گونگا کہیں گی کیونکہ زبان آپکی فرہنگ ، تہذیب وتمدن اور تاریخ کی آئینہ دار ہوتی ہےاور جو قوم اپنے ماضی کو بھول جائے اس کا حال و استقبال دگرگوں ہوتا ہےبالکل اس اولاد کی طرح کہ جن کے آباؤاجداد سے لٹیرے مال و متاع چھین کر لے گئے اور خوبصورت محل تعمیر کیے اور وہی اولاد جب گزرتے ہوئے لٹیروں کے محلات کو دیکھتی تو واہ! واہ !کیا عالی شان تعمیرات ہیں حالانکہ بیچاروں کو نہیں پتہ کہ انہیں کا  لوٹا ہوا  مال ہے اس کا سبب وہ وصیت تھی جس میں باپ نے اپنے دوستوں اور دشمنوں کا ذکر کیا تھا مگر اولاد کیونکہ اپنے باپ کی زبان سے ناآشنا تھی اس لیے دوست و دشمن کو نہ پہچان سکی۔ )باپ علامہ اقبال ہے اور اولاد ہم (

اگر انگریزوں کی تقلید کا اتنا ہی جنون ہے تو ہم ان کی اس معاملے میں تقلید کیوں نہیں کرتے کہ جب مسلمان علمی دنیا پر مسلط تھے اور انہوں نے ہمارے آباؤ اجداد کے علمی ورثے کو اپنی زبانوں میں ڈھالا اور پوری قوم کو نہیں کہا کہ سب عربی،فارسی پڑھو بلکہ ایک گروہ کو اس کام کیلئے مختص کیا کہ وہ ترجمہ کریں اور پوری قوم اس سے اپنی زبان میں ہی استفادہ کرےاور انہوں نے بھی اگر ترقی کی ہے تو اپنی ہی زبان میں اس بات پر بھی علامہ اقبال نوحہ کناں ہیں کہ

مگر وہ علم کے موتی اور کتابیں اپنے آباء کی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

ہمارے وزیراعظم صاحب نے پچھلے دنوں جب گورنر ہاؤس کے  ایک حصے کو یہ کہہ کر گرانے کا کہا کہ یہ غلامی کے آثار ہیں تو ذہن میں یہ بات آئی کہ خداوندِمتعال ان کو توفیق دے کہ یہ غلامی کی ہر تصویر کو گرائیں جن میں سب سے اولین ہمارا نظام تعلیم ہے کہ جس میں ہم آزاد ہونے کے باوجود بھی غلام ہیں۔

کچھ تلخ حقائق ہم نے خود مشاہدہ کیے ہیں کہ استاد بالخصوص ابتدائی مراحل میں جب بچے کو دوسری زبان میں تدریس کرتا ہے تو اگر استاد واقعا چاہے کہ بچے پر مطالب واضح ہوں تو اسے تین زبانوں میں ترجمہ کرکے سمجھانا پڑھتا ہے اور ماہرین تعلیم یہ کہتے ہیں کہ بچہ اپنی زبان میں اگر %۱۰۰ سیکھتا ہے تو دوسری زبان میں %۵۰۔پرانے زمانے میں ہمارے بزرگوں کو ۲۰  تک کے پہاڑے زبانی یاد ہوتے تھے اور آج کا بچہ فقط” ٹو بائی ٹو فور “میں اٹکا ہوا ہے اور دوسری تلخ حقیقت  بی۔اے  کے طالب علموں کے لیے انگلش کا پھندا ہے وہ کہتے ہیں مجھے اردو ادب کا شوق ہے یا دیگر علوم انسانی میں جانا چاہتا ہوں لیکن نظام کہتا ہے کہ نہیں تمہیں اس پھندے کو گلے میں ڈالنا پڑے گا اور اس طریقے سے نا جانے کتنے غالب و میر انیس مایوسی کا شکار ہو گئے۔بہرحال اگر ہم نے سارے پاکستانیوں کو امریکہ برطانیہ بھیجنا ہے تو پھر تو صحیح۔ لیکن اگر %۲کیلئے اگر ہم ,%۹۸کو قربانی کا بکرا بنا رہے ہیں تو سوالیہ نشان ہے…؟ اگر ہم پھر بھی نہیں سنبھلے تو یہ لطیفے سننے کو ملتے رہیں گے کہ چین کے وزیراعظم کا پاکستان میں خطاب چینی زبان میں ہوتا ہے اور ہم اپنی ہی پارلیمنٹ میں انگریزی بول رہے ہوتے ہیں۔ یہاں سوائے عقلوں پر ماتم کے اور کیا ،کیاجا سکتا ہے۔؟

آخر میں علامہ اقبالؒ کا پیغام کہ :                                          

خوش تو  ہیں  ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر

لب خنداں سے نکل آتی ہے فریاد بھی ساتھ

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم

کیا خبر تھی چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

اور  یہ اہل  کلیسا  کا  نظامِ تعلیم

اک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف

اپنا تبصرہ بھیجیں