استعمال شدہ درآمدی گاڑیاں مارکیٹ میں لانے کا فیصلہ

کراچی: کراچی پورٹ پر کھڑی 10 ہزار سے زائد استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کو 6 اکتوبر 2017 کی پالیسی کے تحت مارکیٹ میں لانے کے حکومتی فیصلے سے آٹو پارٹس مینو فیکچرنگ کمپنیوں اور شعبوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) کے سابق چیئرمین عامر اللہ والا اور منیر کے بانا نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کو پرانی پالیسی کے تحت مارکیٹ میں لانے کے لیے ایمپورٹرز کو خوش کیا اور 4 ماہ کے اندر ہی پالیسی میں تبدیلی کا فیصلہ کر ڈالا۔ پاپام کے سابق چیئرمین نے خبردار کیا کہ استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں سے متعلق حالیہ پالیسی سے ملکی صنعت کو دھچکا لگا اور نئے آنے والوں کے لیے منفی رحجانات کا باعث بنے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک درآمدی گاڑی سے مقامی صنعت کو تقریبا 3 لاکھ روپے کا نقصان ہوتا ہے جب کہ گزشتہ برس 80 ہزار گاڑیوں کو درآمد کرنے سے 24 ارب کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ پاپام کے سابق عہدیداروں نے زور دیا کہ حکومت قابل فہم اور شفاف پالیسی کو یقینی بنائے تاکہ مینوفیکچررز کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ زیادہ سرمایہ کاری کریں جس سے ان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو گا اور نئے کاروباری حضرات بھی متوجہ ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹو پارٹس مینو فیکچرنگ شعبے سے تقریبا 20 لاکھ 25 ہزار افراد بالواسطہ یا بلا واسطہ واسبتہ ہیں تاہم حکومت کی جانب سے پروڈکشن اور یوٹیلائزیشن کی سطح پر غیر متوقع پالیسی سے خدشات غیر معمولی ہیں۔ دوسری جانب آل پاکستان موٹر ڈیلرایسوسی ایشن (اے پی ایم ڈی اے) کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے کہا کہ حکومت کے حالیہ فیصلے سے قومی خزانے کو 12 ارب کا فائدہ پہنچے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں