اسٹیفن ہاکنگ، عظیم سائنسدان کی عظیم خدمات

عظیم سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ کو نظریاتی طبعیات (تھیوریٹیکل فزکس) میں آئن سٹائن کے بعد سے سب سے باصلاحیت سائنسدانوں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔وہ بلیک ہولز اور نظریہ اضافیت کے بارے میں گراں قدر خدمات کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔

انہوں نے سائنس پر کئی کتابیں لکھیں ان میں مقبول ترین کتاب ’اے بریف ہسٹری آف ٹائم‘ بھی شامل ہے جس کی ایک کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔

یہ کتاب دی سنڈے ٹائمز پر 237 ہفتوں تک سب سے زیادہ خریدی جانے والی کتاب رہی۔ اس کتاب میں لکھی گئی باتیں سمجھانے اور سہل بنانے کیلئے انہوں نے ناسا کی مدد سے خلاء کا دورہ بھی کیا تھا۔

کتاب میں اسٹیفن ہاکنگ نے کائنات کی دریافتوں کیلئے اپنے جوش و جذبے کا اظہار کیا۔

اکثر لوگ اس بات سے اتفاق نہیں کریں گے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ بلیک ہول سے روشنی، جو کہ کائنات کی سب سے تیز ترین چیز ہے، بھی نہیں نکل سکتی تو یہ ہاکنگ ریڈیشنز کہاں سے نکلیں گی؟ ہاکنگ ریڈیشنز بلیک ہول کے اندر سے نہیں نکلتی۔

بلیک ہول کے قریب کشش بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس کشش میں موجود جو مادہ (Matter) رگڑ کھاتا ہے تو وہ توانائی میں تبدیل ہوتا ہے، اسی توانائی کو ہاکنگ ریڈی ایشن کہا جاتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی پتہ لگایا کہ بلیک ہول بننے کے بعد جب تابکار توانائی خارج ہوتی ہے تو اس کی کمیت میں کمی واقع ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

انہوں نے 30؍ سال تک یہ دلیل دی کہ بلیک ہولز اپنی کشش سے ہر چیز کو تباہ کر دیتے ہیں لیکن بعد میں یہ گتھی سلجھائی کہ ضروری نہیں کہ تمام چیزیں اس کشش کی وجہ سے تباہ ہوجا تی ہوں، کچھ معلومات بچنے میں کامیاب بھی ہو جاتی ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی کی جانب سے حال ہی میں ان کے پی ایچ ڈی کا مقالہ ویب سائٹ پر ڈائون لوڈ کیلئے رکھا گیا تو انٹرنیٹ صارفین کے رش کی وجہ سے ویب سائٹ کریش ہوگئی تھی جس سے ان کی مقبولیت، کام کی نوعیت اور اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

ان کی بیٹی لوسی، بیٹوں رابرٹ اور ٹم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمارے والد ایک عظیم سائنسدان اور ایک غیرمعمولی شخص تھے جن کا کام اور وراثت آنے والے برسوں میں زندہ رہے گی۔

انہوں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ اگر یہ کائنات ان لوگوں کا گھر نہ ہوتی جن سے آپ محبت کرتے ہیں تو یہ ایسی نہ ہوتی۔ ہمیں ہمیشہ اپنے والد کی کمی محسوس ہوگی۔‘‘

2016ء میں پروفیسر ہاکنگ نے کہا تھا کہ انسانیت کو انسان کی اپنی تخلیقات کی وجہ سے خطرات کا سامنا ہے۔

ان کی آخری تصنیف ’دی گرینڈ ڈیزائن‘ 2010 میں شائع ہوئی۔ معروف سائنسدان نے نہ صرف تعلیم کے شعبے میں مقبولیت حاصل کی بلکہ کئی ٹی وی پروگرامز بشمول دی سمپسنز، ریڈ ڈوارف اور دی بگ بینگ تھیوری میں شرکت کی۔

وہ 2008ء سے موٹر نیورون مرض میں مبتلا افراد کی ایسوسی ایشن (موٹر نیورون ڈیزیز ایسوسی ایشن) کے سرپرست اعلیٰ تھے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ معروف سائنسدان کے انتقال کے بعد سے ویب سائٹ پر خیرات اور عطیات جمع کرانے والے افراد کے رش کی وجہ سے ویب سائٹ کریش ہوگئی۔

اپنی آخری نصیحت میں پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ نے کہا تھا کہ انسانوں کو کسی بھی اجنبی مخلوق سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کرنے چاہئے۔

2010ء میں ڈسکوری چینل کیلئے فلمائی گئی دستاویزی فلم میں اسٹیفن ہاکنگ نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ انسانوں کے علاوہ یقیناً کوئی نہ کوئی مخلوق کہیں ضرور آباد ہے۔ لیکن اس کے ساتھ انہوں نے انسانوں کو خبردار کیا کہ ایسی مخلوق سے رابطے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔

اسٹیفن ہاکنگ کا موقف تھا کہ ایسی مخلوق بنی نوع انسان کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی مخلوق انسانوں سے چالاک ہوسکتی ہے اور عین ممکن ہے کہ وہ زمین پر آکر ہمارے وسائل چھین لیں۔

اسٹیفن ہاکنگ نے مرنے سے قبل نصیحت کی تھی کہ وفات کے بعد ان کی قبر پر اُنہی کی ایک مساوات لکھی جائے۔ یہ مساوات ہاکنگ کی زندگی کی سب سے اہم دریافت’ہاکنگ ریڈی ایشنز‘ کو بیان کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں