”افسوس رہیگا کہ کالاباغ ڈیم پر اتفاق رائے نہ کروا سکا“ : ثاقب نثار

لاہور میں جاری سالانہ ادبی میلے میں اس بار سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی مدعو کیا گیا۔ میلے کے پہلے ہی روز ان کی نشست رکھی گئی۔ موضوع تھا انہی کا اپنا پسندیدہ جی ہاں ‘پانی’۔ سیکیورنگ پاکستانز واٹر فیوچر”پاکستان کے پانی کا مستقبل محفوظ بنانا“ نامی اس نشست کی میزبانی رینا سعید خان نے کی جبکہ ”پانی کے قوانین“کی ماہر ارم ستار اور ٹیکنوکریٹ شمس الملک نے اس نشست میں شراکت داری کی۔
سابق چیف جسٹس کی کسی بھی عوامی مقام پر ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ پہلی انٹری تھی۔ جیسے ہی وہ الحمراء آرٹ سنٹر میں میں داخل ہوئے تو رینجرز اہلکاروں نے انہیں اپنے حصار میں لیا ہوا تھا۔ انتہائی سخت سیکیورٹی کے باعث ان کے مداح ان کے ساتھ سیلفیاں نہ بنا سکے۔ نشست کا آغاز ہوا تو سابق چیف جسٹس کو سب سے پہلے بولنے کا موقع دیا گیا۔ انہوں نے انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پانی کو محفوظ بنانا ان کا مشن ہے اور وہ مرتے دم تک اس سے جڑے رہیں گے۔ سابق چیف جسٹس نے اپنی تقریر میں اپنے دور میں کئے گئے اقدامات کا بھرپور دفاع کیا اور بتایا کہ کیسے پانی کا معاملہ بنیادی انسانی حق سے متعلق ہے اور کیسے آئین پاکستان شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بنیادی حق مجروح ہو رہا ہو تو سپریم کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ وہ اس حق تلفی کو واپس کروائے۔ انہوں نے کہا کہ ”مجھے اس بات کا افسوس رہے گا کہ کالاباغ ڈیم پر اتفاق رائے نہ کروا سکا۔ جب مجھے اس بات کی سمجھ آئی کہ یہ نہیں ہوسکتا تو پھر میں نے پاکستان ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا“۔
سابق چیف جسٹس کی تقریر طوالت اختیار کر گئی تو میزبان کو انہیں روکنا پڑا۔ نشست میں دوسری شراکت دار ارم ستار نے اپنی باری پر کہا کہ ملک میں پانی سے متعلق قوانین انگریز کے دور کے ہیں واٹر لاء پر کام ہونا چاہئے عدلیہ اور پارلیمنٹ ایسے نئے قوانین مرتب کریں جو پانی کے مسائل کو حل کرنے میں معاون ہوں۔ تاہم نشست کے تیسرے شریک شمس الحق نے ان کی رائے سے اختلاف کیا ان کا یہ کہنا تھا کہ اصل مسئلہ ٹیکنالوجی کا ہے۔ جب تک جدید تکنیکوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جائے گا تب تک پانی کے مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکتا قوانین ثانوی معاملہ ہے۔ اپنی اپنی رائے دینے کے بعد نشست کے آخری حصے میں حاضرین کو سوال کرنے کا موقع بھی دیا گیا۔ سابق چیف جسٹس نے سیاسی سوالات کے جواب دینے سے گریز کیا۔ اور پھر اسی سخت سیکیورٹی میں وہ ادبی میلے سے چلے گئے۔ لاہور لٹریری فیسٹیول اتوا ر24 فروری تک جاری رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں