افغانستان نے ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

اسلام آباد: افغان وزارت دفاع نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ ملا فضل اللہ کے مارے جانے کی تصدیق کر دی ہے، وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق ملا فضل اللہ امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوا۔

امریکی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل مارٹن او ڈونیل نے بتایا ہے کہ امریکہ نے افغان صوبے کنڑ میں 13 اور 14 جون کی درمیانی شب ڈرون حملہ کیا تھا جس میں ملا فضل اللہ ہلاک ہوا، افغان میڈیا کے مطابق حملے میں اس کے قریبی ساتھی ابوبکر، سجاد، عمران اور مولوی عمر بھی مارے گئے۔

عرب نیوز کے مطابق طالبان ذرائع نے بھی ملا فضل اللہ کے مارے جانے کی تصدیق کر دی ہے تاہم کہا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں سرکاری طور پر اس کی تصدیق کر دی جائے گی۔

پاکستان کے ممتاز دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا ہے کہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت اچھی پیش رفت ہے تاہم پاکستان کے اداروں سے اس خبر کی تصدیق کا انتظار کرنا چاہیے کیونکہ پہلے بھی ایسی خبریں آتی رہی ہیں، انہوں نے مارے گئے طالبان سربراہ کو دہشت گردی کی نشانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملا فضل اللہ کی وجہ سے اس کے کارندے بھی سرگرم تھے۔

جنرل (ر) عبدالقیوم نے ملا فضل اللہ کو پاکستان کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کنڑ ملا فضل اللہ کا گڑھ تھا جہاں سے ٹی ٹی پی کے لوگ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے تھے، پاکستان سرحد کے دونوں طرف انٹیلی جنس شیئرنگ کو تیار ہے، افغان مسئلے کا حل طاقت کے زور پر نہیں کیا جا سکتا، امریکہ کو رویہ تبدیل کرکے ڈائیلاگ پر آنا ہو گا۔

افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی نے ملا فضل اللہ کے مارے جانے پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ ملا فضل اللہ دہشت گردی کی علامت بن گیا تھا، اسے ٹی ٹی پی کا امیر بنانے کا فیصلہ اختلافی تھا، اس کی ہلاکت سے یہ دہشت گرد تنظیم مزید کمزور ہو گی۔

سابق سیکریٹری فاٹا اور دفاعی تجریہ کار بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ کا کہنا تھا کہ پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاکستان نے ملا فضل اللہ کے خلاف کارروائی پر زور دیا تھا، اس واقعے سے لگتا ہے کہ امریکی پالیسی پاکستان کی طرف جھکی ہے، ملا فضل اللہ کی ہلاکت سے ٹی ٹی پی میں مزید پھوٹ پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ کنڑ اور ملحقہ علاقوں میں افغان حکومت کی رٹ نہیں، خراسانی گروپ کے سربراہ خالد خراسانی کو بھی ٹارگٹ کرنا چاہیئے۔

ملا فضل اللہ 1974 میں سوات میں پیدا ہوا، وہ تحریک نفاذ شریعت کے بانی صوفی محمد کا داماد تھا اور 2001 میں پاکستان سے افغان جنگ میں حصہ لینے والوں میں شامل تھا، افغانستان سے واپسی پر فضل اللہ گرفتار ہوا اور تقریباً 17 ماہ جیل میں رہا، 2005-06 میں اس نے سوات میں اپنا ایف ایم ریڈیو شروع کیا اور دھیرے دھیرے علاقے میں اثرورسوخ بڑھانے لگا اور ایک وقت ایسا آیا جب اس نے اپنی عدالتیں بھی قائم کر لیں۔

سوات میں فوجی آپریشن کے بعد ملا فضل اللہ افغانستان چلا گیا جہاں پاک افغان سرحد پر صوبہ کنڑ سے اپنی دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کیں، ملا فضل اللہ سات نومبر 2013 کو حکیم اللہ محسود کی جگہ ٹی ٹی پی کا سربراہ مقرر ہوا۔

اس سے پہلے بھی افغان اور نیٹو فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی خبریں سامنے آتی رہیں لیکن بعد میں غلط ثابت ہوئیں، رواں سال امریکی محکمہ خارجہ نے ملا فضل اللہ کے بارے میں اطلاع دینے پر 50 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں