اقوام متحدہ نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا امریکی اعلان مسترد کردیا

امریکا کی جانب سے یروشلم (مقبوضہ بیت المقدس) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے منتقل کرنے کے اعلان کیخلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرار داد کو ویٹو کرنے کے بعد معاملہ جنرل اسمبلی میں اٹھایا گیا تھا۔

نیویارک میں قائم اقوام متحدہ کے مرکز میں ووٹنگ کے دوران امریکی فیصلے کے خلاف قرار داد پر 137 ممالک نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، 128 ممالک نے امریکی اعلان مسترد کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت ماننے سے انکار کردیا۔

اقوام متحدہ میں پولنگ کے دوران صرف 8 ممالک نے دنیا کے طاقتور ترین ملک امریکا کی حمایت کی، امریکی حمایت میں صرف 9 ووٹ پڑے جبکہ امریکی دھمکیوں کے بعد 35 ممالک نے ووٹ نہیں ڈالا۔

واضح رہے کہ سلامتی کونسل میں امریکی ویٹو کے بعد معاملہ جنرل اسمبلی میں لے جایا گیا تو امریکا نے رکن ممالک کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن کیخلاف ووٹ دینے کے خواہشمند شوق پورا کرلیں، ایسے ممالک کی کی امداد بند کردیں گے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے بھی اپنے ٹویٹر پیغام میں رکن ممالک کو دھمکی دی تھی کہ امریکا کیخلاف ووٹ دینے والے ہر ملک کا نام صدر ٹرمپ کو بتایا جائے گا اور امریکا ایک ایک ووٹ کا حساب رکھے گا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دورہ اسرائیل کے موقع پر یروشلم (مقبوضہ بیت المقدس) کو یکطرفہ طور پر اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان اور اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس پر تمام مسلم ممالک اور یورپ بھر میں بھرپور رد عمل سامنے آیا تھا بیشتر ممالک نے امریکی فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے خطے کی صورتحال خراب کرنے کے مترادف قرار دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں