اللہ تعالی کی کمالِ خلاقی ، فنگر پرنٹ

    آج کل لوگوں کی پہچان کیلئے فنگر پرنٹ کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ ایک سائنسدان نے کافی ریسرچ کے بعد یہ بات کہی تھی کہ  ہماری انگلیوں کے نشان بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ ہر انسان کے فنگرپرنٹ دوسرے انسان کے فنگر پرنٹ سے (چاہے وہ  مر چکا  ہو، یا زندہ ہو یا پیدا  ہوگا) مختلف یا منفرد ہوتے ہیں جبکہ وہ جڑواں بچے جو بالکل ایک شکل  کے ہوتے ہیںاور جن کے ان کے اپنے والدین بھی ا ن کو پہچاننے میں دھوکا کھاجاتے ہیں، ان کی انگلیو ں کے نشان بھی منفر دہوں گے۔
    پہلے زمانے میں لوگ انگلیوں کے نشان کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ ا ن کے نزدیک یہ معمولی ٹیڑھی میڑھی  پیچ و خم کھاتی لکیریں ہیں جن کی کوئی اہمیت نہیں ۔ قران میں اللہ تعالیٰ نے  آج سے14 سو سال پہلے انگلیوں کے نشان کی اہمیت بتائی ہے۔ اس جانب انسان کی توجہ بھی مرکوز کی تھی لیکن انسان نے آخر کار اس کی اہمیت کا اندازہ کر ہی لیا۔انگلیوں کے نشان کو ہم اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیںکہ آج کل جس طرح ہر طرف  بارکوڈ سسٹم  کا استعمال ہورہا ہے بالکل اسی طرح انسانو ں میں انگلیوں کے نشان اللہ تعالیٰ کی طرف سے بارکوڈ سسٹم ہے۔ جس طرح ہر چیز  کا منفرد بار کوڈ سسٹم ہوتا ہے اور وہ کسی  دوسرے بار کوڈ سسٹم  سے موافقت نہیں ر کھتا، اسی طرح جب سے دنیا بنی ہے اور جب تک قیامت نہیں آتی ہر انسان کے انگلیوں  کے نشان دوسرے  انسان کے موافقت نہیں رکھیں گے،  اسی لئے پولیس فورس میں مجرموں کی پہچان کیلئے فنگر پرنٹس کا طریقہ استعمال ہوتا ہے ۔ مجرم لاکھ اپنا چہرہ بدل لیں لیکن وہ فنگر پرنٹ سے آسانی سے پکڑے جاتے ہیں۔
    اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے اور وہاں پر اللہ تعالیٰ نے انگلیوں کے نشان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔
    سورۃ القیامہ   آیت 3 اور 4 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ” کیا انسان سمجھتا ہے کہ ہم اسکی ہڈیاں جمع نہیں کر پائیں گے، کیوں نہیں، بلکہ ہم تو اسکی پور پور ٹھیک کرنے پر قادر ہیں۔ “
    جو لوگ گمراہ ہیں وہ  کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد ہم لوگ تو مٹی میں مل جائیں گے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کس  طرح ہم لوگوں کو پہچان سکے گا؟ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ صرف وہ ہڈیاں جمع کرے گا بلکہ  پور پور (فنگر پرنٹس)   بھی دوبارہ بنانے پر بھی قادر ہے۔
     اللہ تعالیٰ کی نشانیوں  پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں کیا فرماتا  ہے اور ویسے بھی  اللہ تعالیٰ نے  ہمارے پیارے نبی ﷺپر جو پہلی وحی بھیجی تھی اس کا ترجمہ ہے :
    ” اپنے رب کے نام سے پڑھ جس نے پیدا کیا۔” (العلق1)۔
    پس قرآن پڑھیں اور غور کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں