’’الیکشن کمیشن کے پاس یہ اختیار کہاں سے آیا؟‘‘

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے سیکریٹری الیکشن کمیشن سے استفسار کیا ہے کہ بتائیں الیکشن کمیشن کی جانب سے کس قانون کے تحت بھرتیوں پر پابندی لگائی گئی؟ الیکشن کمیشن کے پاس پابندی کا اختیار کہاں سے آیا؟

الیکشن کمیشن کی جانب سے سرکاری اداروں میں بھرتیوں پر پابندی کے کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے ریٹائرڈ و حاضر سروس پولیس افسران کی اپیل پر کیس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں پوچھا کہ بعض اہم ترین اداروں میں سربراہان کی تقرریوں کا عمل چل رہا ہے، کیا الیکشن کمیشن کی پابندی کا اطلاق ان اداروں پر بھی ہوگا، اس پابندی کے فیصلے کی وضاحت ضروری ہے۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے انہیں جواب دیا کہ آرٹیکل 218کے تحت شفاف انتخابات کی ذمے داری الیکشن کمیشن کی ہے، بھرتیوں کی شکایت ہائی کورٹس میں بھی دائر ہوتی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کسی قسم کی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے، آئندہ انتخابات اپنے وقت پر ہونے چاہئیں، ان میں تاخیرنہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوموٹو لینے کا مقصد بھی آپ کو بتا دیتا ہوں، کیا الیکشن کمیشن کے ایسے اختیار سے متعلق کوئی عدالتی فیصلہ موجود ہے؟

چیف جسٹس نے مزید استفسار کیا کہ کیا اس طرح کا فیصلہ حکومت کے امور کو متاثر نہیں کرے گا، اسمبلیاں تحلیل ہونے سے پہلے کیا ایسا حکم دیا جاسکتاہے؟ بھرتیوں پر پابندی کا اختیار کس قانون میں ہے؟

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ الیکشن ایکٹ 217بھی الیکشن کمیشن کو اختیارات دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 218کے تحت شفاف انتخابات کی ذمے داری الیکشن کمیشن کی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہائی کورٹس سے کہہ دیتے ہیں کہ ایسے مقدمات کو جلد نمٹائیں، الیکشن کمیشن کا کام وقت اور آئین کے مطابق انتخابات کروانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیتے ہیں، بھرتی پر پابندی کے معاملے پر پنجاب اور بلوچستان کی ہائیکورٹس میں کس نے درخواستیں دائر کی ہیں۔

چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اچھی بات ہے کہ نوکریاں الیکشن سے پہلے نہ دی جائیں، البتہ ایسی پابندی کی وضاحت ہونی چاہیے، آج سے پہلے کبھی ایسے نکتے کی وضاحت نہیں ہوئی۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ وفاقی حکومت نے بعض بھرتیوں پر اجازت مانگی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں