الیکٹرانک فضلہ : نظروں سے اوجھل خزانہ ، ماحولیات کے لئے زہر

کرہ ارض کا ماحول بدلتا جارہا ہے۔ اب ویسا نہیں رہا جیسا کہ ہزاروں برس سے چلاآرہا تھا۔ طرح طرح کے مہلک امراض پھیلتے چلے جارہے ہیں۔ ایسے امراض کثیر تعداد میں سر ابھار رہے ہیں جو لاعلاج ہیں۔ یہ امراض نئے بھی ہیں اور خطرناک بھی۔ دنیا بھر کے انسانوںکو ان امراض سے نمٹنے کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہوگا۔ انہی آفات میں الیکٹرانک فضلہ بھی ہے۔ 
  • ماحولیات کے لئے زہر قاتل:
اگر الیکٹرانک فضلے کا مناسب طریقے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا  اہتمام ہوجائے تو یہ پورے جہاں کو مالدار بنادے اور اگر اسے یونہی چھوڑ دیا جائے تو یہ انسانی صحت کی تباہی کا بہت بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔
الیکٹرانک فضلے میں زہر بھرا ہوتا ہے اورکرہ ارض طویل عرصے تک الیکٹرانک فضلے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ سالانہ 50ملین میٹرک ٹن الیکٹرانک فضلہ پیدا ہورہا ہے جو پوری دنیا کے مجموعی فضلے کا 75فیصد ہے۔
  • الیکٹرانک فضلہ  ’’E-waste ‘‘ کیا ہے؟
سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ضروری ہے کہ الیکٹرانک فضلہ جسے انگریزی میں ’ای ویسٹ‘ کہا جاتا ہے ،  آخر ہے کیا؟ یہ الیکٹرانک ویسٹ کا مخفف ہے۔  اس سے مراد 
 ٹی وی ، کمپیوٹر، موبائل ، خشک بیٹریاں، جدید ساختہ اور ایسے مختلف الیکٹرانک آلات  ہیںجو استعمال کے قابل نہ رہے ہوں۔ یہ ناکارہ الیکٹرانک مصنوعات انسان او رماحول کے لئے انتہائی زہریلے مواد پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اگر انہیں بے ڈھنگے طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ تباہ کن ثابت ہوسکتی ہیں۔ 
  • ری سائیکلنگ کے طریقے:
 الیکٹرانک فضلے کو مندرجہ ڈیل طریقوں سے ری سایئکل کیا جا سکتا ہے
 – الیکٹرانک فضلے کی ری سائیکلنگ اور اسے از سر نو استعمال کے قابل بنانے کیلئے اسپیشلسٹ فیکٹریوں کا قیام۔
–  الیکٹرانک فضلے کے نقصانات سے معاشرے کو آگاہ کرنا۔
 –  اعلی خوبیوں  سے آراستہ الیکٹرانک اشیاء کے استعمال کی ترغیب، نقلی اور محدود مدت آلات کے استعمال سے بچنے کی تاکید۔
 –  الیکٹرانک آلات کی اصلاح و مرمت کا نظام الاوقات اور اسکی پابندی۔
–  الیکٹرانک آلات تیار کرنے والی کمپنیو ںکو صحت اور ماحولیاتی سلامتی کے قواعد و ضوابط اور معیار کا پابند بنانا ۔
  • الیکٹرانک فضلے کی ری سائیکلنگ کے فائدے کیا ہیں؟
 –  الیکٹرانک فضلے سے پیدا ہونے والی آلودگی کی شرح کم ہوگی۔
 –  دنیا بھر میں موجود 75فیصد زہریلے فضلے کا تعلق الیکٹرانک فضلے سے ہے۔
 –  الیکٹرانک فضلے کی ری سائیکلنگ میں سوئٹزرلینڈ اور جرمنی مثالی ممالک میں شمار کئے جاتے ہیں۔
 –  جاپان نے الیکٹرانک فضلے سے 60فیصد سے زیادہ نئے الیکٹرانک آلات کی تیاری میں کامیابی حاصل کی ہے۔
  • زبردست چیلنج:
 متحدہ عرب امارات میں سماجی اصلاحات کی سرگرم رہنما حبیبہ حسن المرعشی نے المدینہ اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  ’’جی سی سی اور عرب ممالک کو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے واضح تصور قائم کرنا ہوگا۔افرادی قوت کی قلت  اورشرح آبادی میں اضافے سے پیدا ہونے والی نئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عرب ممالک کو نئی حکمت عملی ترتیب دینی ہوگی۔بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے الیکٹرانک آلات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور الیکٹرانک فضلے سے استفادے کے مثالی طریقے اپنائے بغیر بات نہیں بنے گی۔ ایسا کرکے ہی ہم مالی منفعت حاصل کرسکیں گے ۔ یہ منفعت ری سائیکلنگ کے نتیجے میں ملے گی اور دوسری جانب الیکٹرانک فضلے کے نقصانات سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے گا۔‘
حبیبہ المرعشی عرب امارات میں مختلف اداروں کی سماجی فرائض کے عرب نیٹ ورک کی بانی اور ایگزیکٹیو چیئرپرسن ہیں۔ 
  • ری سائیکلنگ واحد حل:
حبیبہ المرعشی نے آلودگی اور زہریلے فضلے کے سنگین نتائج سے خبردارکرتے ہوئے توجہ دلائی کہ تعمیر و ترقی اور سبز معیشت قائم کرنے کے لئے زہریلے فضلے کی ری سائیکلنگ کو فروغ دینا ہوگا۔ عرب ممالک میں  پلاسٹک کا فضلہ دنیا میں سب سے زیادہ  پیدا ہورہا ہے۔
حبیبہ المرعشی نے کہا کہ الیکٹرانک فضلے کی مقدار کامسلسل بڑھنا ماحول کے لیے خطرناک ہے۔ یہ دنیا بھر میںمجموعی فضلے کا 75فیصد تک ہوگیا ہے۔ ہر سال 50ملین میٹرک ٹن الیکٹرانک فضلہ پیدا ہورہا ہے ۔ اس میںخام قیمتی مواد بھی شامل ہوتا ہے جس سے الیکٹرانک آلات تیار کئے جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت الیکٹرانک فضلے کے سنگین نتائج سے خبردارکئے ہوئے ہے۔ادارے نے انتباہ کیا تھا کہ ہزاروں افراد مہلک امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔  عجیب بات یہ ہے کہ الیکٹرانک فضلہ انمول معدنیاتی خزانے پر مشتمل ہے۔ الیکٹرانک فضلے کی مقدار دنیا بھر میں بڑھتی چلی جارہی ہے۔2014ء میں41.4ملین میٹرک ٹن فضلہ پیدا ہوا تھا۔ 2016ء میں 8فیصد اضافہ ہوا۔2021ء میںالیکٹرانک فضلہ 60ملین میٹرک ٹن سے تجاوز کر جائیگا۔
حبیبہ المرعشی نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت ہمیں خبردار کئے  ہوئے ہے کہ پرانے موبائل ،الیکٹرانک اور برقی فضلے سے ماحولیاتی خطرات سر ابھار رہے ہیں۔ انکی ری سائیکلنگ مناسب طریقے سے نہیں ہورہی ہے جس سے بچوں کی ذہانت پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ پھیپھڑے تلف ہو رہے ہیں اورکینسر کا مرض لاحق ہورہا ہے۔ سال رواں کے اختتام تک الیکٹرانک فضلے میں19 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ 
  • کن اشیاء کی ری سائیکلنگ  ہوتی ہے؟
 –  فلوریسنٹ بلب  (المونیم ، شیشہ ، پارہ)
 –  خشک بیٹریاں
–  موبائل
 –  ٹی وی
 -کمپیوٹر
  • الیکٹرانک فضلے کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد :
 سیسہ: یہ اعصابی نظام اور انسان کے خون کے نظام پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔
 پارہ:یہ تنفس کے نظام اور دماغ کیلئے انتہائی پر خطر  ہے۔ اس سے جلد بھی متاثر ہوتی ہے۔
 آرسینک: اس سے جلد کے مختلف امراض جنم لیتے ہیں۔ یہ اعصابی نظام کی رسد کی رفتار کم کردیتا ہے۔ اس سے پھیپھڑوں کا کینسر بھی ہوتا ہے۔
شش جہتی کیمیائی مادہ:جسم اسے آسانی سے جذب کرلیتا ہے اور خلیوں کو مسموم کردیتا ہے۔
کیڈمیم مادہ: یہ پھیپھڑوں کو بھاری نقصان پہنچاتا ہے اور گردے تلف کردیتا ہے۔
 الیکٹرانک فضلے سے متعلق اعدادوشمار:
–   الیکٹرانک فضلے کی مقدار میں سالانہ 35فیصد اضافہ ہورہا ہے۔
 –  الیکٹرانک فضلے سے نجات کا بہترین طریقہ ری سائیکلنگ ہے۔
 –  ہر سال الیکٹرانک فضلے سے 50ملین میٹرک ٹن سامان تیار کیا جاتاہے۔
 –  امریکہ ہر سال  30ملین کمپیوٹر سے چھٹکارا حاصل کرتا ہے۔ 
 –  یورپی ممالک ہر سال 100ملین موبائل  پھینک دیتے ہیں۔
 –  تحفظ ماحولیات ایجنسی کا تخمینہ ہے کہ 15سے  20فیصد الیکٹرانک فضلے کی ری سائیکلنگ ہورہی ہے۔
 –  آئندہ عشرے میں الیکٹراک فضلے کی مقدار بعض ممالک جیسے کہ ہندوستان میں 500فیصد تک بڑھ جائیگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں