امام اور موذن کی دل آزاری ، بد ترین گناہ

مومن کی عظمت وشان کا ذکر قر آن واحا دیث میں موجود ہے،مومن کو ستانا گناہ عظیم ہے،ایسا کرنے والے کو اللہ تعالیٰ رُسوا فر ماتا ہے
حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی ۔جمشید پور

مسلم معا شرے میں آج انگنت برائیاں سرایت( پیوست) ہو گئی ہیں۔ایک دو ہوں تو گنایا جائے، دو چار دس ہوں تو اس کا رونا رویا جائے، دین سے دوری وسماجی برائیاں شباب پر ہیں اللہ خیر فر مائے۔آمین۔
     اہل علم خاصکر علماء کی ذ مہ داری بنتی ہے کہ برائیوں کے سد باب کے لیے اپنی قوت کے مطابق کوشش جا ری رکھیں۔ دنیا میں اسلام کے ماننے والے کتنے ہیں؟ یہ بات اہم نہیں بلکہ اہم بات یہ ہو گی کہ مذہب کے ماننے والے لوگ،کیا اپنی مذہبی کتاب قر آن مجید کے بتا ئے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں؟ کیا یہ اپنے پیغمبر ﷺ کی تعلیمات کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں؟ مذہب چاہے کوئی بھی ہو اس کے ماننے وا لوں میں بنیادی کردار’’انسانیت‘‘ ہو نا چاہیے۔ اگر آدمی انسان نہیں بنتا تو معاشرہ جنگل میں بدل جاتا ہے۔ اگر لوگ من مانی کر نے لگیں گے تو مذ ہب کے لا لے(دشوار ہو نا، مشکل ہو نا) پڑ جائیں گے۔ عبادت گاہیں تو کھلی رہیں گی، روحانیت غائب ہو جائے گی، عبادت گا ہوں اور اس کے اطراف کا امن وسکون بر باد ہو جائے گا ۔قرآن کریم میں انسا نیت کی خد مت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ انسانوں کے ساتھ حسن سلوک کر نے، مظلو موں کی مدد کر نے (خواہ وہ دو سرے مذ ہب کا ہی ہو) کا حکم دیا گیا ہے۔ قر آن کریم نے مسلما نوں کو یہ تعلیم دی ہے:
    ’’ نیکی اور تقویٰ کے کا موں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو اور گناہ و ظلم و زیادتی کے کا موں میں کسی کا تعا ون نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ کی سزا بہت سخت ہے۔(المائدہ2)۔
    نبی رحمتﷺ کاظلم وزیا دتی کے خلاف معا ہدہ:
     رسول ﷺنے ظا ہری بعثت سے پہلے مظلو موں کی مدد کے لیے معاہدہ فر مایا ۔عرب میں لوگوں کی جان و مال،عزت محفوظ نہ تھی۔ ظالموں کا ہاتھ پکڑ نے والا کوئی نہیں تھا ،ظلم ہوتا ہوا دیکھتے رہتے اور مظلوم کی مدد نہ کرتے، اسے روکنے والا کوئی نہ تھا، ظلم کا بازار گرم تھا ۔اسے روکنے اور ٹھنڈا کر نے کے لیے کوئی آگے نہیں بڑھتا تھا۔ حرم شریف مکہ جیسے شہر کی حالت بھی اچھی نہیں تھی۔ اس صورتحال سے آپﷺ کو بہت تکلیف،قلق اور صد مہ رہتا تھا۔ اس لیے اسے رحمت عالمﷺ نے بدلنا چا ہا۔آپﷺ نے بعض درد مندوں کو مشورہ کے لیے عبداللہ بن جدعان کے گھر جمع کیا اور فیصلہ کیا کہ ظلم و زیادتی کو ہر قیمت پر روکا جائے، چاہے اس کے لیے جو بھی قر بانی دینی پڑے دی جائے گی لیکن مظلو موں پر ظلم روکا جائے گا ،کسی بھی شخص خواہ ( دوسرے مذہب کا ہی ہو) چاہے وہ مکہ کا رہنے والا ہو یا باہر سے آیا ہواہو، ظلم نہیں ہونے دیا جائے گا اور مظلو موں کی مدد کی جائیگی۔آپﷺ اس معاہدہ(Agreement) میں شریک تھے۔ یہ معاہدہ آپﷺ کی ظاہری بعثت سے پہلے ہوا تھا لیکن بعثت کے بعد بھی آپﷺ اس معاہدہ کی تعریف کرتے ہوئے خوش ہوتے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا: میں عبداللہ بن جد عان کے گھر میں اس معاہدہ میں شریک ہوا۔آپﷺ نے فر مایا: اس معاہدہ کے عوض مجھے سرخ اونٹ(عرب کی سب سے قیمتی اور بڑی دولت) مل جائیں تو بھی پسند نہیں۔ اگر اسلام کے آنے کے بعد بھی مجھے اس کی دعوت دی جائے تو میں اسے قبول کروں گا(ابن سعد، طبقات،ابن ہشام، سیرۃالنبیﷺ)۔
     آپ ﷺنے اس کی تعلیم دی کہ جو شخص بھی ہماری ہمدردی اور مدد کا محتاج ہو اس کی مدد کرنی چاہیے۔ قرآن کریم اور احادیث کے ذخیرہ میں بہت سی احادیث پاک مو جود ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فر مایا:
    ’’رحم اور ہمدردی تو اس شخص سے نکال دی جاتی ہے جو بد بخت ہے۔‘‘( مسند احمد ،تر مذی، باب ما جاء فی رحمت ا لناس)۔
     رسول اللہ ﷺنے فر مایا:
    ’’ تم میں بہترین شخص وہ ہے جس سے خیر کی توقع کی جائے اور جس کے شر سے لوگ محفوظ رہیں اور تم میں بد تر ترین شخص وہ ہے جس سے خیر کی توقع نہ کی جائے اور جس کے شر سے لوگ محفوظ نہ رہیں۔‘‘( مسند احمد)۔
    مومن کو ستانا اور توبہ نہ کرنا سخت عذاب کا باعث:
     مومن کو ستانے پرقرآن مجید میں سخت عذاب کی وعید آئی ہے۔ ا للہ تعالیٰ کا فر مان ہے:     ’’بیشک جن لو گوں نے مسلمان مردوں اور عور توں کو ستایا پھر توبہ( بھی) نہ کی تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور جلنے کا عذاب ہے۔‘‘(البروج10)۔
     آج مسلم سماج میں کمزوروں کو طرح طرح سے ستانا ایک عام بات ہوگئی ہے۔اس خرابی،برائی ،کمی کو رسول اللہﷺ نے اعلان نبوت کے پہلے دور کیا۔ افسوس آج اس طرف توجہ نہیں دی جارہی ۔ اگر کمزوروں میں کوئی کم نصیب شخص بے چارہ امام ہو تو پھر کیا کہنے۔ اس کو ستانے کے ساتھ ساتھ اسکی عزت کو ملیا میٹ کر نے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ بہت سے واقعات ایسے ہیں جو تحریر میں لانے کے لائق ہیں۔
    بقرعید سے پہلے جمعہ 17 اگست 2018 کو مدھیہ پر دیش(ہند) کے ایک گاؤں چاند کھڑی، ضلع اندور کی مسجد میں بیچارے امام صاحب نے جمعہ کے خطبہ میں ’’غیبت‘‘ کے موضوع پر بیان فر مایا۔صف اول کے کسی مسلمان بھائی کو وہ بیان پسند نہیں آیا۔بس پھر کیا تھا…مصلیان کرام نے امام صاحب اور ان کے معصوم بچوں اور بیوی کو زبر دست بارش میں گھر سے باہر نکا ل دیا اور ظلم کی حد پار کرتے ہوئے بے چا رے امام کو گاؤں میں بھی نہیں رکنے دیا ۔اسی بے بسی میں امام صاحب بس اسٹینڈ جاکر گھر جانے پر مجبور ہو گئے ۔2دن بقرعید کے باقی تھے۔ عید تک رکنے کی مہلت بھی نہیں دی ظالموں نے۔ امام صاحب میرٹھ،یو پی کے رہنے والے تھے۔امام صاحب کی اہلیہ گود میں بچی کو لئے باپردہ کھڑی ہیں اور 2 چھوٹی چھوٹی بچیاں بارش میں بھیگ رہی ہیں اور زار وقطار رورہی ہیں ۔انتہائی شرم اورحیرت کی بات ہے، گا ؤں کے لوگ تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ کسی کے اندر ایمانی حرارت نہیں جاگی کہ امام صاحب کی مدد کریں۔یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوا۔ امام صاحب کے ساتھ جو یہ نازیبا انتہائی شر مناک سلوک کر نے والے مسجد کے مومنین کرام ہی ہیں…امریکہ، اسرائیل یا کسی باطل حکومت یا اورلوگوں کا کام نہیں ۔انسانیت سے گرا ہو، ا س طرح کا کمینہ پن مسلما نوں کے دبنگوں نے کیا۔ وہ قرآن کریم واحادیث ِ  رسولﷺ کی با ت کو ہضم نہ کر سکے ۔عضوئے بر ضعیف اپنی طاقت کا مظاہرہ کمزور امام پر کر کے دکھایا۔ ایک سکنڈ کے لیے سوچیں، کیا غیبت کے احکام نازل فر مانے والا رب ذوا لجلال والاکرام بھی امام صاحب کی طرح بے بس لا چار و مجبور ہے کیا ؟( معاذ اللہ ثم معاذ اللہ، ہزار بار توبہ) ہر گز ہر گز نہیں۔ وہ تو قادر مطلق ہے اور پکڑ کی طاقت رکھتا ہے۔قر آن کریم میں خدائے قہار و جبار کا اعلان ہے :
    ’’اللہ کا ہی ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہار ے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا ،پھر جسے چاہے بخشے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘(البقرہ284)۔
     اللہ تعالیٰ ضرور ظالموں کی پکڑ فر مائے گا۔ دل سے دعا ہے ،اللہ ظالموں کی جلد خبر لے اور عبرت ناک انجام سے دوچار کرے۔ تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ اپنے نفس کا جائزہ لیں اور خود ا حتسابی کرتے ہوئے اپنے گریبان میں جھا نکیں۔ امریکہ،اسرائیل، آر ایس ایس ،بی جے پی کو برا کہہ کہہ کر وقت بر باد نہ فر مائیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ سے رجوع کریں اور امام و موذن کی عزت و توقیر کریں۔ اُن ظالموں کا کیا حال ہے معلوم نہیں ، اللہ ضرور ان کی پکڑ فر مائے گا۔ ان شاء اللہ …لیکن امام صاحب کو دوسری مسجد میں امامت مل گئی الحمدللہ۔     اما م و مو ذن کو ستانے وا لوں کے کئی عبرت ناک واقعا ت ہیں جو قا بل ذکر ہیں۔مقالہ طویل ہونے کا خوف ہے2واقعات مطالعہ فر مائیں۔
     ہمارے شہر جمشید پور کی ایک بڑی مسجد کے ذمہ ار بیچا رے موذن پر لعن و طعن جاری رکھنا اپنا فرض منصبی سمجھتے تھے۔ موذن صاحب چھٹی پر گھر گئے اور آنجناب نے فون کر دیا: اب آپ واپس نہ آئیں ہم نے دوسرا موذن رکھ لیا ہے۔ بیچارے موذن صاحب واپس آ ئے اپنا ساراسامان لیکر جانے لگے تو لوگوں سے مصافحہ کیا تو اس گھمنڈی نے مصافحہ بھی نہیں کیا بلکہ ایک طنزیہ ، زہریلی مسکراہٹ سے اپنی خباثت کا اظہار بھی کیا۔ خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ہو تی لیکن ایسی ضرب لگتی ہے کہ بڑے بڑے فر عونوں کی فرعونیت غرق ہو جاتی ہے۔صرف تیسرے دن ہی آنجناب کے بیٹے کو سرکاری نوکری سے سسپنڈ کر دیا گیا اور جیل یاترا بھی کر نے چلے گئے۔اب آنجناب کو ہوش آیا اور موذن کو ستانے کا احساس ہوا، تیر کمان نکل چکا تھالیکن موذن صاحب نے اپنی شرافت کا مظاہرہ فر مایا اور انکی معافی طلبی پر معاف فر مادیا۔
    دوسرا واقعہ بھی بڑا عبرت ناک ہے جس کی پوری تفصیل کے لیے ناچیز کا مضمون’’ مظلوم امام!!! بے حس عوام احساس زیاں جاتا رہا‘‘ نیٹ پر ضرور مطالعہ فر مائیں۔38 سالہ تجر بہ کار امام حافظ و قاری امام الدین صاحب، عمر 55 سال ، انتہائی شریف ،کم سخن، پابند صوم و صلاۃ، مگن پور،ضلع رام گڈھ ،جھار کھنڈ میں 4سال سے امامت فر مارہے تھے۔اپنے وطن چھٹی پر گئے اور دوسرے دن کمیٹی کے ذمہ دار نے فون کر دیا کہ دوسرا امام رکھ لیا ہے آپ کو آنے کی ضرورت نہیں۔ وہ بے چارے ہکا بکا رہ گئے اور صبر کا دامن تھام لیا۔ پھر کیا ہوا ،ان کا صبر اُس ظالم کے لیے ایساقہر بنا کہ جائے عبرت ہے۔ اللہ پکڑ کی قوت رکھتا ہے اور ظالموں کو نہیں بخشتا۔
    ظالم اور مظلوم کا حکم:
     ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    ’’اللہ کسی(کی) بری بات کا بآ واز بلند(ظاہراً وعلانیہ) کہنا پسند نہیں فر ماتا سوائے اس کے جس پر ظلم ہوا(اسے ظالم کاظلم آشکار کر نے کی اجازت ہے) اوراللہ خوب سننے والاجاننے والا ہے۔‘‘(النساء 147)۔
    آیتِ مبارکہ میں ظالم اور مظلوم دو نوں کو احساس دلایا جا رہا ہے۔ ظالم یہ نہ سوچے کے اسکے مظالم کا کسی کو علم ہی نہیں اور دنیا کی کوئی عدالت اسے سزا دے نہیں سکتی یا دنیا کی کوئی طاقت اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی،اللہ تعالیٰ ظالم کے کر تو توں سے واقف ہے اور ظالم کی پکڑ کی قوت بھی رکھتا ہے۔اللہ کی عدالت سے اسے سزا مل کر رہے گی اور مظلوم کو تسلی دی جارہی ہے کہ اگر کوئی دوسر تمہارا داد رسی نہیں کرتا تو صبر کرو اللہ تعالیٰ تیرا فریاد رس ہے، تیری مظلو میت اور بے کسی کا اسے خوب علم ہے اور وہ ضرور پکڑ فر مانے والاہے :
    ’’اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلط کرتے ہیں، بدلہ ان کے کیے کا ۔‘‘( الانعام129)۔
    تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کریمہ کی تفسیر میں صاحب تفسیر یوں لکھتے ہیں:
    ’’ظالم ظالموں کا ،مومن مو منوں کا دوست ہے ۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو جو ایک جیسے اعمال کرتے ہیں تو آپس میں ان کو دوست بنا دیتا ہے ۔ایمان تمناؤں اور ظاہر ی دیواروں کا نام نہیں۔‘‘
    حضرت مالک بن دینار رحمہ اللہ علیہ نے کہا : میں نے زبور شریف میں پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں منا فقین کا انتقام (بدلہ) منا فقین کے ذریعہ سے ہی لوں گا، اور یہ قرآن کریم میں بھی ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :    ’’ہم اسی طرح ایک ظالم کو دوسرے ظالم کا دوست بنا دیتے ہیں۔‘‘
    حدیث شریف میں ہے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
     ’’جس نے ظالم کی مدد کی تو اسی ظالم کو اس پر مسلط (قابض، غالب، زور آور) کردیتے ہیں ۔‘‘
    کسی شاعر نے کہا ہے (ترجمہ):
 کوئی ہاتھ ایسا نہیں جس سے با لا تر اللہ کا ہاتھ نہ ہو
اور کوئی ظالم ایسا نہیں جس کو دوسرے ظالم سے سابقہ نہ پڑے
     اوپر آیت مبارکہ کی تفسیر میں علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ فرما تے ہیں :
     اس آیت کریمہ کے معنیٰ یہ ہوئے کہ جس طرح ہم نے خراب لوگوں کے دوست ان کے بہکا نے والے جن و شیا طین کو بنا دیا، اسی طرح ظالموں میں سے بعض کو بعض کاولی بنا دیتے ہیں اوربعض، بعض سے ہلاک ہو تے ہیں اور ہم ان کے ظلم وشر کسی اور بغاوت کا بدلہ ظالموں سے ہی ظالموں کو دلا دیتے ہیں (تفسیر ابن کثیر) ۔یہ ہے قدرت کا انتقام۔
    کعبہ کی عزت سے زیادہ مومن کی عزت :
    مومن کی عظمت وشان کا ذکر قر آن واحا دیث میں موجود ہے۔مومن کو ستانا گناہ عظیم ہے۔ مسلمان کو ستانے والے کو اللہ تعالیٰ رُسوا فر ماتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث اہل ایمان کے لیے کافی ہے، کہ رسو ل اللہﷺ منبر پر تشریف لائے، بلندآواز سے پکارا اور فر مایا:
    ’’ اے اسلام لانے والے زبانی لو گوں کی جماعت! جن کے دلوں تک ایمان کما حقہ نہیں پہنچا ! مسلمانوں کو تکلیف مت دو، ان کو عارمت دلاؤ اور ان کے عیب نہ تلاش کرو، اس لیے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب ڈھونڈتا ہے،اللہ تعالیٰ اس کاعیب نکالتا ہے، اوراللہ تعالیٰ جس کے عیب نکالتا ہے،اسے رسوا اورذلیل کر دیتا ہے ، اگر چہ وہ اپنے گھر کے اندر کے اندر ہو۔‘‘(ترمذی)۔
    راوی ( نافع) کہتے ہیں: ایک دن ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خانہ کعبہ کی طرف دیکھ کر کہا: کعبہ! تم کتنی عظمت والے ہو! اور تمہاری حر مت (عزت) کتنی عظیم ہے،لیکن اللہ کی نظر میں مو من( کامل) کی حر مت تجھ سے زیادہ عظیم ہے( ترمذی) ۔
    مو من کی عزت اور اس کو باقی ر کھنا اپنے کو جہنم سے محفوظ ر کھنا ہے۔حضرت ابو داؤد رضی اللہ عنہ سے روایت کہ آپ ﷺ نے فر مایا :     ’’جس نے مو من بھائی کو بے عزتی سے بچایا(عزت کو بچایا رُسوا نہ کیا)اللہ تعالیٰ اس کے چہرہ کو قیامت کے دن جہنم سے بچائیگا۔‘‘( مکار م اخلاق خرائطی)۔
     حضرت براء بن عاذب رضی اللہ عنہ سے مر وی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :    ’’سود کے وبال73قسم کے ہیں۔سب سے ادنیٰ قسم ایسی ہے جیسے کوئی اپنی ماں سے زنا کرے   اور سب سے بڑا سود یہ ہے کہ اپنے مو من بھائی کی عزت کے پیچھے پڑ جائے۔‘‘( مطالب عالیہ ، مجمع الزوائد)۔
    مومن کی حر مت کعبہ سے بہت زیادہ ہے۔ ایک پیاری حدیث مطالعہ فر مائیں اور اپنے ایمان میں جلا پیدا فر مائیں۔
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، میں نے رسول اللہﷺ کو کعبہ شریف کا طواف کرتے دیکھا۔ آپﷺ فر ما رہے تھے:
     اے کعبہ! تو کتنا پا کیزہ ہے! اور تیری خوشبو کتنی پاکیزہ ہے۔ تو کس قدرعظیم ہے! تیرا احترام کتنا عظیم ہے! قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد(ﷺ) کی جان ہے! اللہ کے یہاں مومن کی حرمت،تیری حر مت سے بڑھ کر ہے(یعنی اس کے مال اور جان اور یہ کہ اس کے بارے میں اچھا گمان رکھیں)( سنن ابن ماجہ)۔

(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں