امریکا کا افغانستان میں مزید مشیر اور فوج بھیجنے کا فیصلہ

واشنگٹن : امریکی اخبار کے مطابق انتظامیہ امریکا نے افغانستان کیلئے مزید مشیر اور فوج بھیجنے کا فیصلہ ہے، تاہم حتمہ فیصلہ ایوان میں ہوگا۔

امریکی اخبار کی جانب سے جاری اطلاعات کے مطابق امریکا جنگ زدہ ملک افغانستان میں ایک بار پھر مزید فوجی تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے، اخباری ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال تین ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے بعد امریکا اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

افغانستان کی مزید بگڑتی صورت حال کے پیش نظر ایک بار امریکی انتظامیہ نے مزید فوجی دستوں کو افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں مزید فوج بھیجنےکی تیاری کر رہے ہیں۔ امریکی اخبار کے مطابق پنٹاگون نے پہلے ہی تین ہزار اضافی اہلکار بھیج کر افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد چودہ ہزار تک بڑھا دی ہے، جب کہ جلد ہزاروں امریکی مشیر بھی افغانستان کی سرحد پر اہلکاروں کی مدد کے لیے موجود ہوں گے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی جنرل نکلسن فوجیوں کی تعداد نسبتا کم بڑھائیں گے، جب کہ دہشت گردوں، طالبان اور داعش کے ٹھکانوں پر زیادہ سے زیادہ بمباری کی جائے گی، تاہم دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئے سال 2018 میں افغانستان کی صورت حال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

امریکی جنرل نکلسن کا کہنا ہے کہ ایک ہزار مشیر پہلے سے ہی افغانستان میں موجود ہیں، جب کہ سال نو پر اس تعداد میں ایک ڈرامائی حیثیت سے اضافہ ہوگا۔

امریکی میڈیا کے مطابق مشیروں اور فوجیوں میں اضافہ کسی حد تک پاکستان پر دباؤ بڑھانے کیلئے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ امریکی کمانڈر کے مطابق افغانستان میں مشیروں اور فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا مقصد دہشت گردوں اور داعش کے خلاف ایکشن اور آپریشنز میں تیزی لانا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں