امریکی انتخابات میں مداخلت ،13 روسی شہریوں پر فرد جرم عائد

امریکا کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کے الزام میں 13 روسی شہریوں پر فرد جرم عائد کردی گئی۔ صدر ٹرمپ نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ آج یہ سے ثابت ہوگیا کہ ان کی ٹیم کے روسی اہلکاروں سے کوئی رابطے نہیں تھے۔

روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخا رووا نے کہا کہ امریکا میں 2016 کے صدارتی انتخاب میں مداخلت کے امریکی الزامات انتہائی احمقانہ بات ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ صرف 13 افراد نے ایک ایسے انٹیلی جنس ادارے کے ہوتے ہوئے مداخلت کیسے کر لی جس کا بجٹ اربوں ڈالر ہے اور وہ جدید ترین ٹیکنالوجی رکھتا ہے۔

وفاقی گرینڈ جیوری نے جن روسی شہریوں پر فرد جرم عائد کی ہے ان میں سینٹ پیٹرز برگ کے 12 ملازمین شامل ہیں ۔

فرد جرم میں ’انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی‘ کا نام بھی لیا گیا ہے جو روس کے پروپیگنڈا کا ایک ادارہ ہے۔ ادارے پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ’انتخابات اور سیاسی عمل سے متعلق کارروائیوں‘ میں ملوث رہا ہے۔

دستاویز کے مطابق اس ادارے کے 13 ملازمین پر 2014ء سے لے کر اب تک ’امریکا کو ہدف بناتے ہوئے مداخلت پر مبنی کارروائیاں‘ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

امریکا کے معاون اٹارنی جنرل نے کہا کہ روسی مداخلت کا مقصد امریکا میں اختلافات کو ہوا دینا تھا تاکہ جمہوریت کے حوالے سے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچایا جاسکے۔ اسپیشل کونسل، رابرٹ مؤلر کے دفتر نے فرد جرم کا اعلان کیا۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا کہ روسی باشندوں پر فرد جرم سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کی ٹیم کے روسی اہلکاروں سے کسی قسم کے کوئی رابطے نہیں تھے۔ روس نے امریکا کے خلاف مہم کا آغاز میرے صدارتی مہم کے آغاز سے 2 سال پہلے سے کر رکھا تھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں