انسانی جسم میں کتنا خون ہونا چاہئے اور اسکا انسانی وزن سے کیا تعلق ہے؟ انتہائی اہم بات جسے نظر انداز کرنا بیماریوں کو دعوت دیتا ہے

لاہور(حکیم محمد عثمان ) انسانی جسم کی کارکردگی کا انحصار اسکے بدن میں موجود خون کی مقدار پر بھی ہوتا ہے۔شاید ہی کوئی یہ بات جانتا ہوگا کہ اسکے جسم میں جو خون دوڑرہا ہے کیا وہ اسکے وزن کے مطابق ہے ۔وزن سے کم خون سے تمام اعضا کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور اس وجہ کو فوری معلوم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ جسم میں خون کیوں کم ہے۔خون کے سرخ خلیوں کا سب سے اہم حصہ ہیموگلوبن ہوتا ہے اور یہ پھیپڑوں سے آکسیجن لے کر جسم کے باقی حصوں تک پہنچاتا ہے۔ اگر جسم میں سرخ خلیوں یا ہیموگلوبن کی کمی واقع ہوجائے تو جسم کے دیگر حصوں کو آکسیجن نہیں پہنچ پاتی جس کے باعث جسم کے دیگر حصوں کو کام کرنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔خون کی کمی کے باعث شدید تھکاوٹ و نقاہت ،کم ہمتی اور پیلاہٹ معروف نشانیاں ہیں لیکن ایسے انسان کے دل گردے اور دماغ کی کارکردگی اور سیلزکی افزائش بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔
انسان کے اندر کتنا خون ہونا چاہئے ؟خون پورا اور صحت مند ہوتو یہ جسم کو تازہ آکسیجن مہیا کرتا ہے۔ اس حوالے سے تازہ تحقیق بتاتی ہے کہ ہر انسان کا خون اسکے وزن کا ساتواں حصہ ہونا چاہئے ۔مثلاً ایک انسان کا وزن ایک سو پچا س سے ایک سو اسّی پونڈتک ہے تو اسکے اندر چار اعشاریہ سات سے پانچ اعشاریہ پانچ لیٹر خون ہونا چاہئے ۔البتہ چھوٹے بچوں میں اسکے برعکس وزن کا ساڑھے تین حصہ ہونا چاہئے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں