انصاف فراہم کرنا کسی پر احسان نہیں ہماری ذمے داری ہے : چیف جسٹس پاکستان

لاہور (سنہرادور): چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ کپتان ساری ٹیم کا محتاج ہوتا ہے، سپریم کورٹ آصف سعید کھوسہ کے بغیر نا مکمل ہے، لوگوں کے کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔، عدلیہ مکمل آزاد ہے اور آپ کو اس پر فخر ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہم جمہوریت کو پامال نہیں ہونے دیں گے، ملک میں صرف آئین کی حکمرانی ہو گی۔

چیف جسٹس پاکستان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا بنچ کے تمام لوگ دیانتداری اور قابلیت کا بہترین نمونہ ہیں، جسٹس اعجاز افضل کے بغیر میرا بنچ نا مکمل ہے۔ انہوں نے کہا برطانیہ میں کالاکوٹ نہیں گاؤن پہنا جاتا ہے، وکیل فیس نہیں لیتے، بار بنچ کی اور بنچ بار کی طاقت ہے، دونوں میں سے کوئی مفلوج ہو جائے تو ادارہ مفلوج ہو جاتا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا عدلیہ کا کام فتنہ ختم کرنا ہے، انصاف فراہم کرنا کسی پر احسان نہیں ہماری ذمے داری ہے، قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کسی جج کو اختیار نہیں اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مزید کہا کہ ساری زندگی خدمت کرنیوالے ادارے سے پنشن لینے کیلئے بھی سفارشیں کرنا پڑتی ہیں، ملازم جب ریٹائرڈ ہوجاتا ہے اسکا افسر ہی پینشن میں رکاوٹ بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا جنھوں نے مظلوموں کی داد رسی کرنی ہے وہ کر نہیں پا رہے، قوموں کی زندگی میں چیلنجز آتے ہیں مگر قومیں کھڑی ہو جاتی ہیں، ایک سال ایمانداری سے کام کریں تو اس کی لت پڑ جائے گی۔ ان کا کہنا تھا نہال ہاشمی کیس میں جسٹس کھوسہ کو بنچ کا سربراہ مقرر کرتا ہوں اور جلد سماعت ہوگی، ہم نے تحمل اور بردباری سے انصاف فراہم کرنے کا کام کرنا ہے، ہمیں تعلیم، ایماندار قیادت، مضبوط عدالتی نظام کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں