انگریزی نے ’تولو زبان‘ سے جنم لیا تھا، حیرت انگیز تحقیق

بنگلور میں رہنے والے ایک شخص کو یقین ہے کہ انگریزی زبان ہندوستان کے جنوب مغربی ساحل سے سفر کر کے اس خطے میں جا پہنچی تھی، جسے آج برطانیہ کہا جاتا ہے۔

نئی دہلی: (ویب ڈیسک) انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی ہندوستان سے تعلق رکھنے والے محقق پی شیو پرساد رائے نے منفرد نظریہ پیش کیا ہے کہ انگریزی زبان نے تولو زبان سے جنم لیا تھا جو جنوب مغربی شہر منگلور کے نواح میں بسنے والے 10 لاکھ افراد بولتے ہیں۔ شیو پرساد کے نظریے کے مطابق انگلستان کے ابتدائی اینگلو آباد کار بحری سفر کرنے والے تولو تھے، جنہوں نے ساتویں یا آٹھویں صدر قبل از مسیح میں ہندوستان سے نقل مکانی کی اور انجام کار پانچویں صدی عیسوی میں انگلستان پہنچے۔

ہندوستانی فضائیہ کے سابق افسر رائے نے کہا کہ انگریزی اور تولو کا تقابلی مطالعہ، نحو، قواعد اور خود نثر کی ہیت میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ رائے کا مقالہ بعنوان انگریزی کی اصل تولو دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ اس نے محققین، مدبرین اور مشاہیر ذرائع ابلاغ کے ساتھ ہونے والی مراسلت کا ایک وقیع ذخیرہبڑی محنت سے مرتب کر کے شائع کیا ہے۔ اس ذخیرہ مکاتب میں راجیو گاندھی اور ان کی بیوہ سونیا گاندھی کا ایک خط بھی شامل ہے۔

انسائیکلوپیڈیا بری ٹینیکا نے اس نظریے کو اپنے حوالی جاتی کتب خانے کی زینت بنا لیا ہے جبکہ برٹش کونسل لندن نے ایک خط پر یہ تبصرہ کیا ہے کہ رائے نے متعلق لسانی عناصر کو ایک جرات مندانہ سوچ عطا کی ہے۔ کونسل نے اس امر پر اظہار مسرت کیا کہ ان کے مقالے نے دلچسپی کا ایک جہاں پیدا کیا ہے۔ کلکتہ کے ایک موقر جریدے نے تبصرہ یا کہ باوجودیکہ اس نظریے کو علمی حلقوں میں سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا، بحہرحال یہ برطانیہ میں پروان چڑھنے والی لسانی آزاد روش کے حالیہ تنازع کو ایک نئی اور مقبول جہت دے سکتا ہے۔

فاضل مقالہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ بات ضرور قابل ذکر ہے کہ 1500 برس پہلے انگریزی محض چند ہزار قبائل کی زبان تھی جنہوں نے پانچویں صدی عیسوی میں جزآئر برطانیہ کا ایک حصہ آباد کیا تھا، جبکہ دوسری طرف تولو دوسری صدی قبل از مسیح میں آریہ قوم کی لشکر کشی سے قبل پورے ہندوستان میں بڑے پیمانے پر بولی جاتی تھی۔

اس انکشاف کے مطابق انگریزی چھٹی صدی عیسوی میں برطانیہ میں داخل ہوئی۔ یہ اینگلیئن حملہ آور قبائل کی زبان تھی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے صدیوں پہلے اپنے آبائی وطن جنوب مغربی ساحل ہند سے بحری سفر کر کے مصر اور شلیزوگ، جرمنی کے راستے وہاں جا کر آباد ہوئے۔ اینگلس نے اپنے بینِ براعظم عارضی قیام کے دوران میں ایک ذخیرہ الفاظ کا ایک بڑا حصہ مستعار کیا، مگر وہ تولو کی ایک ایسی زبان بولتے تھے جو سیکسن اور کیٹلک بولیوں سے متاثر نہیں تھی۔

رائے کا کہنا ہے کہ انگریزی زبان نے دیگر زبانوں سے ذخیرہ الفاظ مستعار لینے کا سلسلہ جاری رکھا ہے، لیکن تمام اصل یا حقیقی انگریزی الفاظ کے علم کا ماخذ صرف تولو ہے۔ انگریزی کی یک حرفی ساخت، اس کی نغماتی نثر، متحرک جزم اور صوتیات، سب کی سب تولو کی آئینہ دار ہیں۔ مثال کے طور پر یہ فقرہ ایک مرتبہ کا ذکر ہے جو طلسماتی کہانیوں کے آغاز می استعمال ہوتا ہے، تولو کے مخصوص فقرے وونگ آن اونجی کالوٹ کا براہ راست استعارہ ہے۔

جناب رائے نے اس امر کی نشان دہی کی ہے کہ ایسا کوئی فقرہ کسی اور زبان میں موجود نہیں ہے باوجودیکہ مغربی محققین تولو انگریزی اکفاظ کی ایک لغت مرتب کر چکے ہیں۔

رائے کا کہنا ہے کہ ما سے شروع ہونے والے بہت سے الفاظ تولو اور انگریزی میں مخصوص معنی کے حامل ہیں۔ مثلاً ماگ (یعنی بیٹا تولو) قدیم انگریزی زبان میں بھی ماگ ہی ہے، نیز ماگل یعنی بیٹی (تولو) قدیم انگریزی میں ماج ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں