انگلیاں چٹخاتے ہوئے آواز کیوں آتی ہے؟

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ بالاخرانہوں نے اس معمہ کا حل دریافت کرلیا ہے کہ جب ہم اپنی انگلیوں کو چٹخاتے ہیں تو اتنی شدت سے چٹخنے کی آواز کیوں آتی ہے۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کی اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق کے مطابق اس گتھی کو سلجھانے کے لیے ایک میتھں میٹیکل (ریاضی) ماڈل کا استعمال کیا گیا تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ ہمارے ہاتھوں کے اندر یہ بہت سارے چھوٹے چھوٹے بلبلے کیسےبنتے ہیں اور پھر زور دار آواز پیدا کرنے کے ساتھ ہی اسی وقت ختم ہوجاتے ہیں۔

سائنس دانوں کے ماڈل کے مطابق جوڑوں کے حرکت کرنے کی وجہ سے دبائو میں ایک تبدیلی سی پیدا ہوتی ہے، مثلاً جب آپ اپنی انگلیوں کو چٹخاتے ہیں تو اسکے نتیجے میں مائیکرواسکوپک بلبلے ختم ہوجاتے ہیں۔ تو یہ اپنے خاتمے کے ساتھ ہی آواز کی لہر کو جنم دیتے ہیں، جو کہ چٹخنے کی آواز کا سبب بنتے ہیں۔

سائنس دان اس معمے کے حل کے لیے بیسویں صدی کی ابتدا سے ہی کوششیں کررہے تھے۔ تاہم اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے مقالے میں جو نظریہ پیش کیا گیا ہے وہ تقریباً دراصل پچاس برس پرانا ہے۔ پہلی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے بلبلے جو کہ چٹخنے کی آواز کا سبب بنتے ہیں کو بعد میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں رد کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ بلبلے چٹخنے کے بعد بھی موجود رہتے ہیں۔

لیکن حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ بلبلے ہی دراصل چٹخنے کی آواز کا سبب ہیں۔ جبکہ یہ بھی معلوم ہوا کہ جزوی طور پر بلبلوں کے ختم ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ سائنسدانوں نے اپنی بات کو درست ثابت کرنے کے لیے ریاضی کا ماڈل پیش کیا جس میں اسکی وضاحت کی گئی تھی۔

ایک تحقیق کے مطابق 25 سے 54 فیصد لوگوں کو انگلیاں چٹخانے کی عادت ہوتی ہے جن میں مردوں کی تعداد خواتیں سے زیادہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں