اوبر کا بھرم کھل گیا

ٹمپا ، ایرزونا….. مشہور کمپنی اوبر نے چند ماہ قبل بغیر ڈرائیورکے چلنے والی جدید ترین گاڑیاں روشناس کرائی تھیں اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسے تجرباتی طورپر سڑکوں پر لایا گیا ہے اور اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو ایسی بہت ساری گاڑیاں چلتی نظر آئیں گی۔ ان گاڑیوں کا تجرباتی مرحلہ 6ماہ پر محیط بتایا گیاتھا۔ مگر ابھی چند ماہ باقی ہیں کہ یہ اوبر جسے کچھ لوگ موت کا پھندا بھی قرار دے رہے ہیں اب شکوک و شبہات کے دائرے میں آگئی ہے جس سے یقینا اوبر کمپنی کو دھچکا لگا ہے۔یہ ایک ایسا حادثہ ہے جو اوبر کمپنی ہرگز نہیں چاہتی تھی۔ حادثے کے فوری بعد اوبر نے شہر میں چلنے والی ایسی تمام کاروں کی سروس معطل کردی ہے اور تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔ اس حادثے کی لپیٹ میں آنے والی 49سالہ خاتون ایلن ہزبرگ کا کہناہے کہ ایسی گاڑی سڑکوں پر نہیں چلنی چاہئے کیونکہ اس کے تمام پارٹس ایک دوسرے سے مربوط نہیں اور ایسے حادثات اسی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ خاتون کو حادثے کے فوری بعد اسپتال لیجایا گیا جہاں زخموں کی مرہم پٹی کی گئی مگر پھر وہ چل بسیں۔ حادثے کے وقت خاتون سائیکل پر تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں