اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْھُوْدًا

قرأت ہر نماز کا لازمی جزو ہے اور فجر کی نماز میں سب سے زیادہ تلاوت کرنی چاہئے،صلوٰۃ فجر کی تعبیر قرآن الفجر سے کی گئی ہے
 ڈاکٹر محمد سعید کریم بیبانی۔ جدہ

سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 78 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:
     اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقَ الَّلیْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ،اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْھُوْدًا ۔
    “قائم رکھو نماز کو سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک اور قرآن پڑھنا فجر کا، بے شک قرآن پڑھنا فجر کا ہوتا ہے روبرو۔”
    مفسرین کے مطابق اس آیت میں “دلوک الشمس” سے مراد سورج کے زوال کی ابتدا کا وقت ہے جو 12بجے کے بعد کا ہے جب سورج نصف النھار سے اترنا شروع ہو جاتا ہے اور جس میں نماز ظہر کی ادائیگی فرض ہو جاتی ہے۔
     تفسیر قرطبی کے مطابق حضراتِ عمرو،عبداللہ بن عمر، ابو ھریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے علاوہ علمائے تابعین رحمہم اللہ کی ایک جماعت اسی موقف کی حامی ہے۔” غسق اللیل” سے مراد گہری رات ہے جب عشاء کی نماز فرض ہوتی ہے۔
    امام مالک رحمہ اللہ نے مؤطا میں لکھا ہے کہ جب شفق غائب ہو جائے تو مغرب کا وقت نکل جاتا ہے اور عشاء کا وقت داخل ہو جاتا ہے۔ گویا کہ  دلوک الشمس  سے لے کر  غسق اللیل  تک کے وقت سے مراد 4نمازیں ہیں جبکہ” قرآن الفجر “سے مراد صبح کی نماز ہے۔ چونکہ صبح کی نماز میں قرآن پاک کی طویل تلاوت کا حکم ہے اسلئے اسے” قرآن الفجر” کہا گیا ہے۔
    ہر چند کہ یہ پانچوں نمازیں وہ گلدستہ ہیں جن کے ہر پھول کی اپنی خوشبو ہے مگر فجر کی نماز کا مقام ِشرف یابی بلند تر ہے۔ اس ملکوتی وقت میں بیدار مغز ہی بیدار ہوتے ہیں کہ یہ وقت کشائشِ رزق اور آسودگی کا باعث ہے۔ صبح کے وقت عبادت کا اپنا لطف ہے کیونکہ ہر طرف یک گونہ یکسوئی، اطمینان اور سپیدۂ  سحر کے نور آگیں لمحات بکھرے ہوتے ہیں۔  
    صاحبِ تفہیم القرآن اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:
     ” فجر کے قرآن سے مراد فجر کی نماز ہے۔ قرآن مجید میں نماز کیلئے کہیں تو صلوٰۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور کہیں اسکے مختلف جزاء میں سے کسی جزو کا نام لے کر پوری نماز مراد لی گئی ہے مثلاً  تسبیح، حمد، ذکر، قیام، رکوع، سجود وغیرہ۔اسی طرح یہاں فجر کے وقت قرآن پڑھنے کا مطلب محض قرآن پڑھنا نہیں بلکہ نماز میں قرآن پڑھنا ہے۔ اگرچہ فرشتے ہر نیکی اور عمل کے گواہ ہیں مگر صبح کی نماز میں قرأت کے خصوصی طور پر شاہد ہیں۔”
    سورہ ھود کی آیت نمبر 114 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    ” نماز قائم کرو دن کے دونوں کناروں پر( یعنی فجر اور مغرب) اور کچھ رات گزرنے پر (یعنی عشاء ) “۔
    اسی طرح سورہ ق کی آیت نمبر 39 میں ارشاد ربانی ہے:
    “اور پاکیزگی بیان کرو اپنے رب کی تعریف کے ساتھ سورج نکلنے سے پہلے بھی اور سورج غروب ہونے سے پہلے۔”
    اسی طرح سورہ الروم کی آیات نمبر 17 اور 18 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
      ” پس پاکیزگی بیان کرو اللہ کی جب تم شام کرتے ہو اور جب تم صبح کرتے ہو،اور اسکے لئے حمد ہے آسمانوں اور زمین میں بعد زوال تیسرے پہر میں اور اسوقت جب تم ظہر کرتے ہو۔”
      آیت کریمہ میں”حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ” میں مغرب اور صبح کی نمازیں آتی ہیں۔
    تفسیر معارف القرآن میں لکھا ہے :
    ” قرآن الفجر سے مراد صبح کی نماز اور نماز میں پڑھی جانے والی تلاوت ہے جس کی فجر کی نماز میں طوالت کی تاکید آئی ہے۔ پانچویں نماز فجر کا علیحدہ سے ذکر کرنا اس بات کی دلالت ہے کہ نماز فجر پانچوں نمازوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔
    صبح کے وقت قرآن پڑھنے کو’’ مشھودا‘‘ کہا گیا ہے۔ لفظ  مشھودا  شہادت سے نکلا ہے یعنی حاضر ہونا۔ چونکہ صبح کے وقت رات اور دن، دونوں وقت کے فرشتوں کی حاضری ہوتی ہے اسلئے اسکو  مشھودا  کہا گیا ہے۔ اس آیت میں پانچوں نمازوں کا حکم اجمالاً آیا ہے۔”
    صبح کی نماز کے وقت کی ایک خاص بزرگی، بڑائی اور قدرو منزلت ہے۔ نور کے تڑکے کا یہ وقت ایک نئے دن کی شروعات اور آغازِکار کا وقت ہے ۔گویا ایک نئے دن کی زندگی کا پیش لفظ یا ابتدائیہ ہے۔ ایک طرف بقول احمد ندیم قاسمی”ستاروں کو بجھایا جا رہا ہے”
تو دوسری طرف نئے دن کا نیا سورج افق پر جلوہ فرما ہورہا ہوتا ہے  لہذا ایسے باسعادت اور متبرک وقت قرآن پاک کی تلاوت زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
    عام مسلمان کو چاہئے کہ اس برگزیدہ وقت میں نہ صرف یہ کہ نماز فجر میں قرآن پاک کی بھرپور تلاوت کرے بلکہ نماز کے علاوہ بھی اسوقت قرآن پاک پڑھنا اپنا معمول بنا لے کیونکہ اسوقت رات اوردن دونوں وقتوں پر مامور فرشتے گواہ ہوتے ہیں اور بارگاہ الٰہی میں تلاوت کی شہادت دیتے ہیں۔ سورج کی ضو ریزی(سورج کی روشنی پھیلنے ) سے پہلے صبح کاذب کی سحر خیزی اور صبح صادق کی عطر بیزی  میں گندھا ہوا یہ وقت ایک شبھ گھڑی ہے۔ بقول شاعر:
فرشتے تیری جانب دیکھتے ہیں
سحر کا وقت ہے، قرآن پڑھ لے
    حضور اکرم ﷺکا ارشاد ہے :
    ” اسوقت رات اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ “(راوی سیدنا ابو ہریرہؓ)۔
    تفسیر معارف القرآن میں ہے :
    “تمام عبادتوں میں سب سے افضل عبادت نماز ہی ہے۔ قرآن الفجر سے مراد ہے فجر کی نماز میں طویل قرأت کی جائے چنانچہ فجر کی نماز میں دیگر نمازوں حتیٰ کہ جمعے سے بھی زیادہ تلاوت کرنی چاہئے۔ “
    سنن ترمذی کی حدیث ہے :
    ” فجر اور عصر کی نماز میں رات اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں چنانچہ جب وہ اوپر جاتے ہیں تو اللہ تعالی پوچھتے ہیں کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا۔ اس پر فرشتے بتاتے ہیں کہ جب ہم گئے تب بھی نماز پڑھ رہے تھے اور جب ہم نے انکو چھوڑا تب بھی نماز پڑھ رہے تھے۔
    قرأت ہر نماز کا لازمی جزو ہے اور فجر کی نماز میں سب سے زیادہ تلاوت کرنی چاہئے۔صلوٰۃ فجر کی تعبیر قرآن الفجر سے کی گئی ہے۔ بے شک فجر کی نماز فرشتوں کے حاضر ہونے کا وقت ہے۔ چونکہ نماز فجر بیداری کے عالم میں نہیں بلکہ حالت نوم میں آتی ہے اور اسکے لئے خصوصی اہتمام اور مشقت کرنی پڑتی ہے اسلئے اسکا خاص اہمیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔
     فرشتے عصر اور فجر دونوں نمازوں میں مجتمع ہوتے ہیں مگر فجر کا ذکر اسلئے ہے کہ یہ وقت زیادہ شاق، کٹھن اور عام آدمی کیلئے بالعموم  ناگوارِ خاطر ہے۔ احادیث میں ارشاد ہے:
     ” رات اور دن کے فرشتے آگے پیچھے آتے ہیں۔”
     عصر کی نماز کے وقت دن والے فرشتے چلے جاتے ہیں اور رات والے آتے ہیں۔ اسطرح فجر کے وقت رات والے چلے جاتے ہیں اور دن والے آ جاتے ہیں۔  
    نماز ام العبادات المقربہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی عبادات میں سے نماز سب سے اہم عبادت ہے۔ تفسیر اسرار تنزیل میں لکھا ہے :
     ” عبادت سے قرب الٰہی اور تائیدِ باری نصیب ہوتی ہے اور تائید باری ہی مصائب کا حل اور دشمنوں سے حفاظت کا اعلیٰ ترین ذریعہ ہے لہذا قائم کیجئے صلوٰۃ کو دن ڈھلے سے رات کے اندھیرے تک اور علی الصباح بھی عبادات اور نماز میں قرآن پڑھیں کہ علی الصباح قرآن کی تلاوت نماز میں روبرو ہونے کے برابر ہے کہ شب کی رخصتی کے بعد پہلا کام اللہ جل جلالہ کے حضور حضوری کا نصیب ہو جو آئندہ دن بھر اور دوسری صبح تک برکات کا سبب بنتا ہے”
    اگرچہ مفسرین اور شارحین قرآنِ کا اس بات پر اجماع ہے کہ مذکورہ آیت میں “قرآن الفجر “سے مراد فجر کی نماز میں قرآن پاک پڑھنا ہے تاہم نماز کے علاوہ بھی صبح قرآن پاک پڑھنے کی سعادت اور فضیلت دوسرے اوقات سے زیادہ ہے۔
    تفسیر جواہر القرآن میں مذکورہ آیت کے حوالے سے لکھا ہے :
    “آیت میں تلاوت قرآن کا ذکر ہے۔”
     اسی طرح تفسیر جالندھری میں لکھا :
     “سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک نمازیں اور صبح کے وقت قرآن پڑھو کیونکہ صبح کے وقت قرآن کا پڑھنا موجب حضور ملائکہ ہے۔”
    لفظی معانی پر جائیں تو پھر بھی صبح کے وقت زیادہ قرآن پڑھنا واجب قرار پاتا ہے۔
    قرآن پڑھنا ایک مسلمان کیلئے ویسے بھی ضروری ہے۔ رمضان مبارک میں تو سارے ہی قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں مگر باقی ایام میں بھی قرآن پاک پڑھنے کا معمول بنانا چاہئے۔
    میرے والد محترم فضل کریم رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ قرآن پاک روزانہ پڑھو، بے شک مصروفیات کی وجہ سے کم ہی پڑھو۔
     قرآن پاک کو خشوع و خضوع سے پڑھنے کے بارے میں سورہ مزمل کی آیت  4 میں ارشاد ربانی ہے:
     “اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔”
    بخاری شریف میں حضرت عثمان ؓسے مروی ہے:
    “تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسکی تعلیم دے۔”
    قرآن پاک میں شفا ہے۔ حضرت ابو سعید خضریؓسے حدیث مروی ہے کہ ایک جماعت سفر میں تھی۔ کسی گاؤں کے رئیس کو بچھو نے کاٹ لیا۔ لوگوں نے صحابہ سے معلوم کیا کہ کیا اسکا علاج کر سکتے ہیں؟ انھوں نے 7 مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ ٹھیک ہو گیا۔ پھر صحابہ کرام ؓنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسکا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے اس عمل کو جائز قرار دیا۔
    رسول اللہ ﷺکی حدیث کے مطابق قرآن کے ہر حرف کے پڑھنے پر10 نیکیاں ملتی ہیں۔
    المختصر ہمیں صبح کے وقت حتی المقدور قرآن پاک باقاعدگی سے پڑھنے کو اپنا معمول بنانا چاہئے ۔ بالخصوص اپنی اولاد اور دیگر قرابت داروں کو بھی صبح کی نماز اور قرآن پاک پڑھنے کی تلقین کرنی چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں