آخری گیند پر چھکا لگا کر میچ جتوانے والے کھلاڑی

کرکٹ کی تاریخ یوں تو مختلف ریکارڈز سے بھری پڑی ہے، ان ریکارڈز میں عظیم بریڈمین صف اول میں ہیں، تاہم ایک ریکارڈ ایسا بھی ہے جس کے حوالے سے پاکستان کا نام ہمیشہ اونچا رہے گا۔

جی ہاں ون ڈے انٹر نیشنل کرکٹ میں آخری گیند پر چھکا لگا کر اپنی ٹیم کو کامیابی دلوانے کے حوالے سے پاکستان کے عظیم ریکارڈ ساز بیٹسمین جاوید میانداد کا نام صف اول پر ہے۔

حال ہی میں سری لنکا میں کھیلے گئے ندہاس کپ ٹرافی کے فائنل میں آخری گیند پر بھارتی بیٹسمین دنیش کارتھک نے بنگلہ دیش کے سومایا سرکار کی گیند پر جب چھکا لگا کر اپنی ٹیم کو سہ فریقی سیریزکا چیمپئن بنوایا تو 1986کے شارجہ میں کھیلے گئے آسٹریلیشیا کپ کے فائنل کی آخری گیند پر جاوید میانداد کا چھکے کی یاد پھر سے تازہ ہوگئی۔

کرکٹ ماہرین نے اس پر کافی کچھ تحریر کیا ، یہاں ہم اپنے قارئین کی دلچسپی کے لیے اب تک اس قسم کے میچوں اور کھلاڑیوں کی ایک تاریخ پیش کررہے ہیں۔

جاوید میانداد کا آسٹریلیشیا کپ کے فائنل کی آخری گیند پر چھکا

پاکستان کی ٹیم پچاس اوورز کے اس میچ میں 246کے ہدف کے تعاقب میں تھی اور اسکی نو وکٹیں گرچکی تھیں اور آخری گیند پر اسے چار رنز درکار تھے، 112 رنز کے انفرادی اسکور پر موجود جاوید میانداد کے ساتھ کریز پرآخری نمبر کے بیٹسمین توصیف احمد کھیل رہے تھے۔

ایسے بھارتی فاسٹ بولر چیتن شرما نے جہاندیدہ جاوید میانداد کو فل ٹاس گیند کرادی جس پر ماسٹر بیٹسمین نے بنا کسی ہچکچاہٹ کے گیند کو اسکوائر لیگ کے اوپر سے ایک بلند وبالا چھکے لیے روانہ کردیا ، یوں پاکستان اس میچ میں فاتح رہا اور بھارت بھر میں سوگ کا سا ماحول چھاگیا، اور برسوں تک اسکے اثرات دونوں ٹیموں کے میچز میں نظر آئے۔

لانس کلوزنر کا نیوزی لینڈ کے خلاف آخری گیند پر چھکا

جنوبی افریقہ کو 1999میں نیپئر میں کھیلے گئے میچ میں آخری اوورمیں کامیابی کے لیے گیارہ رنز درکار تھے، جبکہ ابھی تین افریقی بیٹسمین پویلین میں موجود تھے، آخری اوور کرانے کے لیے کیو ی بولر ڈیون ناش آئے، چالیس اوورز تک محدو د اس میچ میں افریقی الیون 192رنز کے تعاقب میں تھی، آخری اوور کی دوسری گیند پر مارک بائوچر آئو ٹ ہوگئے۔

دوسرے اینڈ پر موجود کلوزنر اسٹرائیک حاصل کرنے کے لیے بے تاب تھے، اور جب انھیں اسٹرائیک میسر آیا تو آخری بال پر چار رنز بنانا تھے، تاہم جارحانہ مزاج کے حامل کلوزنر نے نیش کی آخری گیند پر لانگ آن پر ایک بہت ہی لمبا چھکا مار کر نہ صرف اپنی ٹیم کو جتوایا بلکہ اپنا نام اس مشہور فہرست میں بھی شامل کرایا۔

زمبابوے کے برینڈن ٹیلر کا بنگلہ دیش کے خلاف آخری گیند پر چھکا

2006میں ہرارے میں کھیلے جانیوالے میچ میں زمبابوے کو بنگلہ دیش کے خلاف فتح کے لیے آخری دو اوورز میں 28رنز درکار تھے، آخری سے پہلے والے اوور میں ٹیلر اور ساتھی بیٹسمین ٹوانڈہ موپاریوانے گیارہ رنز بنالیے، آخری اوور کرانے کے لیے بنگلہ دیش کے اسٹار پیسر مشرفی مرتضٰی آئے، سترہ رنز کے لیے برسرپیکار ٹیلر نے دوسری ہی گیند پر چھکا ماردیا۔

تاہم غیر متوقع طور پر موپاریوا پانچویں گیند پر رن آئوٹ ہوگئے، اس طرح آخری گیند پر پانچ رنز درکار تھے اور اسکا واحد حل چھکا لگانا رہ گیا تھا، بس پھر کیا تھا شائقین اس وقت مبہوت رہ گئے جب ٹیلر نے مشرفی مرتضٰی کو چھکا مار کر میچ زمبابوے کے نام کیا۔

شیونرائن چندر پال کا سری لنکا کے خلاف آخری گیند پر چھکا

ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کے درمیان 2008 میں کھیلی جانیوالی ایک روزہ سیریز کے ٹرینیڈاڈ میں ہونے والے پہلے میچ کے آخری اوور میں میزبان ویسٹ انڈیز کو تیرہ رنز ددرکار تھے جبکہ چمنڈا واس جیسے تجربہ کار بولر سامنے تھے، آخری اوور سے پہلے چندر پال کے ساتھ موجود سلیمان بین آئوٹ ہوگئے۔

اس طرح نووکٹیں گرچکی تھیں، اور آخری اوور کی آخری دو گیندوں پر چندر پال کو دس رنز بنانے تھے، اس موقع پر چندر پال نے پانچویں گیندپر واس کو ایک چوکا رسید کیا، جس پر مشتعل چمنڈا واس اپنا حواس کھو بیٹھے اور غلطی کرتے ہوئے چندر پال کو ایک فل ٹاس کرادی ، جس پر چندرپال نے ڈیپ مڈوکٹ پر ایک شاندار چھکا مارکر ٹیم کو کامیابی دلوادی۔

ریان میک لارین کا نیوزی لینڈ کے خلاف آخری گیند پر چھکا

پوٹ شیف اسٹورم میں 2013میں کھیلے گئے جنوبی افریقہ ،نیوزی لینڈ میچ میں پروٹیزٹیم کو کامیابی کے لیے آخری اوورمیں آٹھ رنز درکار تھے جبکہ انکی دو وکٹیں باقی تھیں ، اور انھیں تین میچوں کی اس سیریز میں اپنے ہوم گرائونڈ پر وائٹ واش سے بھی بچنا مقصود تھا ۔

کریز پر افریقی آل رائونڈرمیک لارین اور ڈیل اسٹین موجود تھے، جنوبی افریقہ کی خواہش تھی کہ میک لارین زیادہ سے زیادہ اسٹرائیک اپنے پاس رکھیں مگر اسٹین کو کیوی فاسٹ بولر جیمز فرینکلن کی تین گیندیں کھیلنا پڑگئیں، اور پانچویں گیند پر کیچ آئوٹ ہوگئے، لیکن خوش قسمتی سے کیچ کے دوران اینڈ چینج ہوگیا اور اسٹرائیک میک لارین کے پاس آگیا ، جس پر میک لارین نے آخری گیند پر آئو دیکھا نہ تائو اور فرینکلن کی شارٹ گیند کو لانگ لیگ کے اوپر سے چھکا مار کر نہ صرف ٹیم کو جتوایا بلکہ وائٹ واش سے بھی بچالیا۔

دنیش کارتھک کا بنگلہ دیش کے خلاف آخری گیند پر چھکا

مارچ 2018میں کولمبو میں کھیلے گئے ندہاس ٹرافی سہ فریقی سیریز کے فائنل میں بھارت کا مقابلہ بنگلہ دیش سے ہورہا تھا، اور بھارت 167رنز کے تعاقب میں تھا، جبکہ بھارت کو آخری دو اوورز میں 34رنز درکار تھے، کارتھک نے ٹائیگرز کی امیدوں پر اس وقت پانی پھیر دیا جب روبیل حسین کے اوورمیں انھوں نے بائیس رنز بناڈالے۔

اسطرح آخری اوور میں بارہ رنز رہ گئے تھے۔حیرت انگیز طور پر کارتھک کو ناتجربہ کار بلے باز، وجے شنکر کے بھی بعد بیٹنگ کے لیے بھیجا گیا تھا۔آخری اوور کی پانچویں گیند پر وجے شنکر کیچ آئوٹ ہوگئے لیکن اس دوران اینڈ چینج ہوگیا اور کارتھک کو آخری گیند کھیلنے کا موقع مل گیا،جبکہ انکے سامنے نان ریگولر بولر سومایا سرکارتھے۔

بنگلہ دیش کی کوشش تھی کہ آخری گیند پر بھارتی بیٹسمین بائونڈری نہ مارسکے، کیونکہ چاررنز بننے کے نتیجے میں میچ ٹائی ہوجاتا، جبکہ بھارت کو جیت کے لیے پانچ رنز درکار تھے، ایسے میں کارتھک نے آخری گیندپرکور بائونڈری پر ایک زوردار چھکا مارکر اپنی ٹیم کو فائنل جتوادیا۔

آصف مجتبیٰ کا آسٹریلیا کے خلاف آخری گیند پر چھکا

پاکستان کے ماضی کے مڈل آرڈر بیٹسمین آصف مجتبیٰ 1992میں آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کے ہوبارٹ میں کھیلے گئے میچ میں بیٹنگ کررہے تھے اور پاکستان 228کے ہدف کے حصول میں سرگرداں تھا کہ آخری اوور میں جیت کے لیے 17رنز درکار تھے۔

اس موقع پر اسٹیو وا بولنگ کرانے کو آئے ، انکے بارے میں اسی برس ہونے والے ورلڈ کپ میں یہ مشہور ہوا تھا کہ وہ پارٹنر شپ بریک کرنے میں کامیاب رہتے ہیں، لیکن اس بار وہ کامیاب نہ ہوسکے اور اپنی ٹیم کی کامیابی کے حوالے سے اچھی شہرت رکھنے والے آصف مجتبیٰ نے انکی آخری گیند پر چھکا مار کر اس میچ کو ٹائی کردیا ، جوکہ پاکستان کے لیےغیر متوقع کامیابی اور آسٹریلیا کے کسی بھی طرح شکست سے کم نہ تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں