آشیانہ ریفرنس، نیب الزامات مسترد، تفصیلی فیصلہ جاری

لاہور ہائی کورٹ نے آشیانہ ہائوسنگ نیب ریفرنس میں اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا،جس میں نیب کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ نیب کا شہباز شریف پر ٹھیکا منسوخ کرنے کا الزام غلط نکلا ، ٹھیکا باہمی رضا مندی سے منسوخ کیا گیا ۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں یہ بھی کہاکہ ٹھیکا غیر قانونی طورپر ایل ڈی اے کو منتقل کرنے کا الزام بھی درست نہیں ۔

عدالت نے قرار دیا کہ پی ایل ڈی سی کے بورڈ کی منظوری سے ٹھیکہ ایل ڈی اے کو منتقل ہوا، رولز آف بزنس کے تحت وزیراعلی کو اسے منتقل کرنے کا اختیار حاصل تھا۔

تفصیلی فیصلے میں نیب کے ایک ایک الزام کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور انہیں دلائل اور حقائق کے حوالہ جات کے ساتھ مسترد کردیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ نیب نے شہباز شریف پر جو الزامات لگائے تھے، قانون اور حقائق کی بنیاد پر وہ غلط اور بے بنیاد ثابت ہوئے، یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ٹھیکہ شہبازشریف نے نہیں دیا تھا۔

عدالت نے واضح کردیا کہ درخواست گزار محمد شہبازشریف کا پیراگون سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوسکا، آشیانہ میں ایک انچ سرکاری زمین منتقل نہیں ہوئی اور نہ کسی کو نقصان ہوا۔

منصوبے میں کسی کا پیسہ شامل نہیں تھا، بولیوں کے حوالے سے شکایات آنے پر خود شہبازشریف نے معاملہ تحقیقات کے لیے طارق باجوہ کی سربراہی میں کمیٹی کو بھجوایا۔

طارق باجوہ انکوائری کمیٹی نے بولی کے عمل میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی، یہ نشاندہی ہوئی کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر نے کنسلٹنٹ کو بولی والے دن بولی والے کاغذات حوالے نہیں کیے۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ بولی سے ایک روز قبل رات کو طاہرخورشیدٹھیکیدار چوہدری لطیف اینڈسنز کو ملا، طاہر خورشید نے خود اعتراف کیا کہ وہ رات کو ٹھیکیدار سے ملاتھا، اس سے اس کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں چوہدری لطیف کی بینک گارنٹی کے ایشو کی بھی نشاندہی کی ہے، عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ پی ایل ڈی سی کے بورڈ کی منظوری سے سب فیصلے ہوئے۔

عدالت نے سوال کیا کہ حکومت جب خود پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ طرز پر گھر بنارہی ہے تو پھراگر پبلک پرائیویٹ کی بنیاد پر کوئی کام کرتا ہے تونیب کو کیا اعتراض ہے ؟

عدالت نے اپنے فیصلے میں زمین منتقلی کے اعتراضات بھی مسترد کردئیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں