اٹک شہر کی خبریں ، نامہ نگار:صوفی فیصل بٹ

اٹک (نامہ نگار) حسن اسد علوی کو ڈی پی او اٹک کی حیثیت سے تبدیل کر کے پی ایس او ٹو آئی جی پنجاب لگانا آئی جی پنجاب کیلئے بد شگونی کا سبب بن گیا ان کے چارج سنبھالنے سے قبل ہی آئی جی پنجاب سمیت سی ٹی ڈی کے ایڈیشنل آئی جی سمیت دیگر اعلیٰ افسران کو او ایس ڈی بنائے جانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے سابق ڈی پی او حسن اسد علوی نگران دور حکومت میں اٹک میں تعینات ہوئے اور انہوں نے اپنی تعیناتی کے بعد عوام سے قطع تعلقی کرتے ہوئے نہ صرف عوام بلکہ میڈیا سے بھی اپنے فاصلے انتہائی دور رکھے اور چند ٹاؤٹ قسم کے پولیس افسران ان کے منظور نظر رہے ان کی تعیناتی کے دوران قمار بازی، منشیات اور دیگر جرائم کے درجنوں جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات درج کیے گئے اور بعض شہری دوہائیاں دیتے دیتے اللہ کو پیارے ہو گئے جن میں سابق ضلعی صدر پی پی پی سید شجاعت حسین گیلانی المعروف شادا شاہ شامل ہیں جو 75 سالہ ضیف العمر اور آپریشن کے سبب گھر سے نکلنے سے بھی معذور تھے ان کے خلاف نیو ٹاؤن میں قماربازی کا مقدمہ درج کر کے یہ ظاہر کیا گیا کہ وہ چھاپہ کے وقت چھلانگیں لگاتے ہوئے فرار ہو گئے ہیں انہوں نے ڈی پی او کو درخواست دی بجائے ان کی داد رسی کے الٹا انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر کے اپنے آفس سے نکل جانے کے احکامات صادر کر دیئے مشیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے بھی ان کی سفارش کی تو انہیں بھی ڈی پی او نے ایسا جواب دیا کہ ملک امین اسلم لا جواب ہو گئے اور وہ بھی سید شجاعت حسین شاہ گیلانی المعروف شادا شاہ کو ان کی زندگی میں انصاف دلانے میں ناکام رہے، مدنی چوک اٹک سے رینٹ اے کار کا کاروبار کرنے والے شعیب کو تھانہ اٹک سٹی کی حدود سے گاڑی سے زبردستی اغواء کر کے تھانہ صدر اٹک پولیس نے 9-c منشیات کا مقدمہ درج کرا دیا اور وقوعہ چائنہ چوک کا ظاہر کر دیا اس پر شعیب کی اہلیہ اور معذور بچے سمیت شہریوں نے احتجاج کیا تو اس بات پر ڈی پی او حسن اسد علوی کا غصہ آسمان سے باتیں کرنے لگا کہ پولیس پر جھوٹا ہی الزام ہو تو کسی شہری کی یہ جرأت نہیں کہ وہ پولیس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے اس پر شعیب کو تھانہ میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا میڈیکل رپورٹ میں تشدد ثابت ہو گیا تو پولیس ملازمین نے جیل میں اسیر شعیب جو اب بھی جیل میں ہے سے ملاقات کر کے اور پولیس کے منظور نظر ٹاؤٹوں اور رکن اسمبلی کی معاونت سے میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر درج ہونے والی ایف آئی آر سے قبل صلح کر لی ڈی پی او نے اس پر مذکورہ پولیس افسر کی سر زنش تک نہ کی، بجلی کے سلسلہ میں پیپلز کالونی میں روڈ بلاک ہونے پر نشہ میں دھت سب انسپکٹر کے ساتھ کونسلر بلدیہ سجاد تنولی اور شہریوں نے ہاتھا پائی کی، ڈی ایس پی اٹک ضیغم عباس موقع پر آئے اور کہا کہ نشہ کی حالت میں سب انسپکٹر کے خلاف کاروائی کی جائے گی رکن پنجاب اسمبلی یاور بخاری کسی تقریب میں کھانا ادھورا چھوڑ کر وہاں پہنچے انہوں نے ڈی پی او سے بات کی انہوں نے سب انسپکٹر کو معطل کرنے کا کہا تاہم اس پر عملدرآمد نہیں کیا اور شراب کا عادی یہ سب انسپکٹر آج بھی ڈیوٹی پر موجود ہے، اسی طرح خوشاب سے تعلق رکھنے والے اٹک پولیس کے سب انسپکٹر نے کسی دوسرے ضلع میں نشہ کی حالت میں ٹرک سے گاڑی ٹکرائی شہریوں نے اسے پکڑا اور شراب کی بوتلوں سمیت پولیس کے حوالہ کر دیا اس پر بھی کاروائی سے گریز کیا گیا مقامی صحافی ایاز خان کے خلاف جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کر کے فوری طور پر صلح کرا دی گئی مقامی صحافی ڈاکٹر مہتاب منیر خان کے خلاف تھانہ ٹیکسلا میں مقدمہ درج ہوا جس کی ساری معاونت ڈی پی او آفس اٹک سے کی جاتی رہی، شعیب کے ساتھ صلح کے بعد ڈی پی او کی ہدایت پر اٹک کے صحافیوں کو 2 حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ورکنگ جنرنلسٹس کو پسند نا پسند کی بنیاد پر پریس کانفرنسوں میں بلانے پر پابندی لگانے کے علاوہ انہیں وٹس ایپ گروپ میں بھی جو اس کے بعد بنایا گیا میں شامل نہیں کیا گیا اس طرح ان پر اطلاعات کے تمام دروازے ڈی پی او کے چارج سنبھالنے سے چارج چھوڑنے تک تاحال بند ہیں اس کا جواب وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، صدر پی ایف یو جے، صدر نیشنل پریس کلب اسلام آباد ہی دے سکتے ہیں انگریزی اخبار کیلئے کام کرنے والے انتہائی سینئر صحافی شہزاد سید کو خلاف خبر لگانے پر پہلے دھمکیاں اور پھر ان کے دفتر میں لیٹر اور بعدازاں ان پر بھی معلومات اور اطلاعات کے تمام دروازے بند کر دیئے گئے پریس کانفرنس میں بھی ان پر بین کر دیا گیا محمد شعیب کی خبر لگانے والے الیکٹرانک میڈیا کے سینئر صحافی طاہر نقاش پر بھی معلومات اور اطلاعات کے تمام دروازے بند کرنے کے علاوہ انہیں بھی پولیس کی پریس کانفرنس میں مدعو نہ کرنے کا سلسلہ جاری رہا، سر پرست اعلیٰ اٹک پریس کلب رجسٹرڈ حاجی محمد فیضیاب خان پر بھی شعیب کی حمایت اور احتجاج کرنے کے الزامات پر انہیں بھی معلومات اور اطلاعات کے دروازے بند کرنے کے علاوہ ان کے گھریلو جھگڑے پر ان کی بہو کو ان کے خلاف استعمال کر کے پہلے ڈی پی او نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ وہ صلح نہیں کریں گی اور پھر حاجی محمد فیضیاب خان ان کے تینوں بیٹوں، بھائی اور ان کے یونیورسٹی میں زیر تعلیم بیٹے کے خلاف جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ اپنے منظور نظر ایس ایچ او ماڈل پولیس اسٹیشن اٹک سٹی سب انسپکٹر مظہر حسین کے ذریعہ درج کرایا اور اس مقدمہ میں 2 مرتبہ ترمیم کر کے مزید دفعات کا اضافہ کیا گیا، ہائی کورٹ میں فاضل جج نے پولیس کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال پر خصوصی احکامات صادر کیے جن پر اٹک پولیس نے آج تک عمل نہیں کیا اور ایس ایچ او مظہر حسین سیشن کورٹ سے لے کر ہائی کورٹ تک ہر تاریخ پر خود پیش ہوتے جبکہ دیگر مقدموں میں نہ تو وہ خود اور نہ ہی کوئی ایس او پیش ہوتا ہے اس کا اظہار انہوں نے مختلف افراد کے سامنے کیا کہ وہ ڈی پی او سے مجبور ہیں وہ ان سے بازپرس کرتے ہیں، اسی طرح ڈی پی او کی جانب سے چیئرمین اٹک پریس کلب رجسٹرڈ ندیم رضا خان، صوفی فیصل بٹ اور ضلع بھر کے دیگر صحافی جنہوں نے پولیس کے خلاف کوئی بھی تحریر لکھی یا کسی مظلوم کی داد رسی کیلئے کوئی خبر شائع کی تو اس پر بھی معلومات اطلاعات کے دروازے بند کرنے کے علاوہ وٹس ایپ گروپوں سے بھی انہیں نکال باہر کیا گیا اور پریس کانفرنسوں میں بھی ان پر پابندی جاری رہی جو ان کے تبادلہ تک جاری ہے، اسی طرح تھانہ انجرأ میں کئی مقدمات جھوٹے اور بے بنیاد درج کیے گئے، تھانہ صدر حسن ابدال میں قماربازی کے الزام میں پکڑے جانے والے افراد پر منشیات کا مقدمہ درج کر لیا گیا جب انہوں نے کہا کہ ان کے پاس سے منشیات برآمد نہیں ہوئی وہ قماربازی کر رہے تھے تو ان پر قماربازی کا مقدمہ بھی درج کرا دیا گیا، مشیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کے گروپ سے تعلق رکھنے والے یہ افراد اٹک میں کھلی کچہری میں آئے تو انہوں نے اپنی دکھ بھری داستان سنائی جس پر مشیر موسمیاتی تبدیلی نے ان کی سنجیدہ باتوں کو سینکڑوں افراد کی موجودگی میں مذاق میں اڑا دیا اور یہ لوگ آج بھی انصاف کے حصول اور انصاف کیلئے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، مشیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کی باہتر میں کھلی کچہری میں بھی سب سے زیادہ شکایات پولیس کے خلاف ہوئیں جن میں سے کسی ایک شکایت پر بھی ایکشن لینے کی زحمت گوارہ نہیں کی گئی، گورا قبرستان کے قریب واقع سکول میں دن 3 بجے چوکیدار کو پرائیویٹ لوگ سکول سے گاڑی میں زبردستی ڈال کر لے گئے جس کی فوری طور پر اطلاع 15 کو دی گئی اس شخص کے خلاف سٹی چوکی اٹک میں رات 8 بجے جیل روڈ کے قریب پیدل آتے ہوئے منشیات برآمد ہونے کا مقدمہ درج کر لیا گیا، چوکیدار کے 4 معصوم بچے اور اس کی حاملہ بیوی در بدر کی ٹھوکریں کھا بیٹھے ہیں ڈی پی او سے ملاقات کے موقع پر انہوں نے متاثرہ خاتون کو ڈانٹ پیٹ کر کے اپنے دفتر سے نکال دیا، عام انتخابات کے دوران سابق وفاقی وزیر مرکزی رہنما مسلم لیگ (ن) شیخ آفتاب احمد پر انتخابی مہم کے دوران قاتلانہ حملہ کے دوران ڈی پی او ان کی رہائش گاہ پر پہنچے، گاڑی کا معائنہ کیا اور بعدازاں شیخ آفتاب احمد سے ان کے دفتر میں ملاقات کے دوران بجائے فائرنگ کے سلسلہ میں تفتیش کے بارے میں بات کرتے ان سے اس بات باز پرس کی کہ جس تقریب میں وہ شریک ہوئے تھے اس کی منظوری انہوں نے پولیس سے لی تھی یا نہیں اپنے دورہ تعیناتی میں وہ ایلیٹ فورس کی گاڑیاں اپنی گاڑی کے ہمراہ رکھتے تھے جو غالباً ایس او پی کی خلاف ورزی ہے سابق ڈی پی او حسن اسد علوی کے اٹک سے تبادلہ پر شہریوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔

اٹک (نامہ نگار) سانحہ ساہیوال کے بعد اٹک پولیس کی نا اہلی، ڈی پی او اٹک حسن اسد علوی کے تبادلہ کے آخری روز تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال حضرو کے مین گیٹ پر مخالفین نے فائرنگ کر کے عیادت کے کیلئے آنے والے شہری کو موت کے گھاٹ اتار دیا، ایک شخص زخمی، پولیس کی دوڑیں لگ گئیں مقدمہ درج، تفصیلات کے مطابق اٹک سے تبدیل ہو کر آئی جی آفس لاہور جانے والے ڈی پی او حسن اسد علوی کے آخری روز تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال حضرو کے مین گیٹ پر جہاں پولیس کی ڈیوٹی ہوتی ہے وہاں عیادت کیلئے آنے والے عبد المنان ولد فرید خان سکنہ نرتوپہ کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا اور ایک شخص زخمی بھی ہو گیا اطلاع ملنے پر فوری طور پر ریسکیو 1122 حضرو کی ایمبولینس موقع پر پہنچ گئی زخمی کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹک منتقل کر دیا جبکہ نامعلوم افراد موٹر سائیکل پر سوار ہو کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے پولیس تھانہ حضرو نے مقدمہ درج کر لیا ہے اس طرح اٹک سے تبدیل ہونے والے ڈی پی او حسن اسد علوی کو نامعلوم قاتلوں نے سلامی کے طور پر دن دیہاڑے قتل کی واردات دی اور گنجان آباد علاقہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

تصویری خبریں

اپنا تبصرہ بھیجیں