ایس ایس پی ملیرراؤ انوار عہدے سے فارغ، پیش کیا گیا نقیب اللہ کا کرائم ریکارڈ کسی اور کا تھا: ذرائع

کراچی: (سنہرادور آن لائن) نقیب اللہ محسود کے قتل کے معاملے میں ایس ایس پی ملیرراؤ انوار کو عہدے سے فارغ کر کے عدیل چانڈ یو کو ایس ایس پی ملیر تعینات کر دیا گیا۔ ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ الطاف ملک کی جگہ عابد قائمخانی نئے ایس پی جبکہ شیراز نظیر ایس ایس پی سٹی کراچی، اسد ملہی قمبر شہداد کوٹ مقرر کر دیئے گئے۔ ذرائع کے مطابق، تحقیقاتی کمیٹی کو مقتول نقیب محسود کے خلاف شواہد نہیں ملے، راؤانوار کی جانب سے فراہم نقیب اللہ کا کرائم ریکارڈ کسی اور کا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کو راؤ انوار اور ٹیم کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے بھی خط لکھ دیا گیا۔ آئی جی سندھ کا کہنا ہے راؤ انوار کے خلاف انکوائری مکمل ہونے پر مزید کارروائی ہوگی۔

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے ایڈیشنل آئی جی ثنااللہ عباسی، ڈی آئی جی شرقی سلطان خواجہ اور ڈی آئی جی جنوبی آزاد خان پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی، ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور بیان ریکارڈ کرایا، راؤ انوار نے نقیب اللہ محسود کے جرائم کا ریکارڈ پیش کیا جس میں ایف آئی آر اور چالان بھی شامل تھا۔ بعد ازاں راؤ انوار نے کمیٹی پر بھی اعتراض اٹھا دیا۔

ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے پولیس مقابلہ مشکوک قرار دیا، راؤ انوار اور دیگر اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے، راؤ انوار کو عہدے سے ہٹانے اور گرفتار کر کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی بھی سفارش کی گئی۔ ذرائع کے مطابق راؤ انوار نے نقیب اللہ کے غیر شادی شدہ ہونے کا غلط دعویٰ کیا جبکہ دیگر دعوے بھی غلط ثابت ہو رہے ہیں، راؤ انوار کی نقیب اللہ کے خلاف 2014 کی ایف آئی آر بھی جعلی ہے جبکہ نقیب اللہ کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آئی جی اور سندھ حکومت کو ارسال کی گئی تھی۔

گزشتہ روزنقیب اللہ محسود کی ہلاکت کے کیخلاف کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں بھی احتجاج کیا گیا،مشتعل افراد نے سپر ہائی وے پر ہنگامہ آرائی کی اور گنا منڈی کے قریب ٹائروں کو آگ لگا دی، مظاہرین نے بس کو روک کر توڑ پھوڑ کی، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کی۔ مظاہرین نے پتھراؤ کر کے پولیس موبائل کے شیشے توڑ دیئے، پولیس اہلکاروں نے بھی جوابی پتھراؤ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں