ایمان اور احتساب ، لازم وملزوم

محاسبہ یا احتساب بہتر سے بہترین کا سفر ہے ، اس سفر کی منزل جنت ہے،ایمان بڑھتا ہے تو احتساب کی طلب بھی بڑھتی جاتی ہے
 ڈاکٹر بشری تسنیم ۔شارجہ

ہم اس بات پہ غور کریں گے کہ اپنا احتساب اور اصلاح کیسے ہو؟ کیونکہ ایک مسلمان وہ مرد ہو یا عورت جب تک اپنا بے لاگ احتساب نہیں کرتا  اس کی اصلاح ممکن نہیں ہوگی۔
    احتساب دراصل اپنے مومنانہ معیار کو بلند کرنے کی طرف راغب ہونا ہے۔ہم نیکیاں تو کرتے ہیں مگر نیکی کے معیار پر دھیان نہیں دیتے کہ کمی کہاں ہے؟خطا کیا ہے؟گناہ کیا ہیں ؟ اور ان میں ہمارا نفس کتنا آلودہ ہے؟ نیکی کے تھیلے میں کتنے سوراخ ہیں ؟ وہ  سب  کچھ نظروں سے اوجھل رہتا ہے جن سے نیکی کا معیار ناقص ہو جاتا ہے۔
     ہم صغیرہ، کبیرہ، ظاہر ی باطنی،جانے اَن جانے کئے گئے گناہوں کی معافی مانگتے تو ہیں اور آپس میں ” کہا سنا معاف کرنا ” بھی عادتاًدہرا لیتے ہیں لیکن اس جملے کی روح سے بے گانہ ہوتے ہیں۔کوئی ندامت کا جذبہ اس جملے کے ساتھ نہیں ہوتا۔ہوائی باتیں اور زبان کی ورزش کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔نہ دل کی دنیا میں شرمندگی کا جوار بھا ٹا اٹھتا ہے اور نہ جواب دہی کے خوف کی برکھا تو کیا برسنی ہے آنکھوں میں نمی تک نہیں آتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے بڑے بڑے گناہوں پر ہماری نظر رہتی ہے اور ان کے مقابلے میں اپنے گناہ اور نافرمانیاں چھوٹی اور معمولی لگتی ہیں۔ نفس تسلی دیتا رہتا ہے کہ لوگ پتہ نہیں کیا کچھ  نافرمانیاں کرتے رہتے ہیں، ہم نے نہ کوئی قتل کیا ہے،نہ ڈاکا ڈالا ہے، نہ زنا کیا ہے اور نہ ہی ملک وقوم سے غداری کی ہے۔ہم ایک اللہ کو مانتے ہیں، اس کے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں ۔قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں، رمضان المبارک کے مہینے میں روزے رکھتے اور حج عمرہ کرتے اور زکوٰۃ و صدقات ادا کرتے ہیںاور مزید یہ کہ سب  اعمال کرنے کے ساتھ ہم استغفار بھی کرتے رہتے ہیں۔
    یقینایہ سب ایک مسلمان کی صفات ہیں اور جنت ایسے مسلمان کیلئے واجب ہے…
    دراصل فکر کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم حقوق اللہ،حقوق العباد کی ادائیگی میں معیار کا بھی خیال رکھتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ  ہم نیکی کے معاملے میں کمتر معیار پر راضی ہونے کی عادت میں مبتلا ہیں اور دنیا کی خواہشات کیلئے معیار اعلیٰ ترین ہے؟ نیکی میں اپنے سے کم معیار کے لوگوں میں میل جول رکھنے کی وجہ سے اپنی معمولی نیکیاں اور کم تر عبادتیں بھی بہت اعلیٰ لگتی ہیںاور ہم متقی ہو جانے کی خوش فریبی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
    فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقی( النجم 32)۔
    ’’اپنے آپ کو خود ہی تقویٰ کے زعم میں مبتلا نہ کرو ،وہ رب ہی بہتر جانتا ہے کہ تم میں سے زیادہ متقی کون ہے؟ (کس کی نیکیاں اللہ کی نظر میں زیادہ معیاری ہیں)۔‘‘
    میزان اسی لئے تو رکھی جائیگی کہ دنیا کی چاہت کے پلڑے میں وزن زیادہ ہے یا پھر آخرت کی چاہت میں وزن زیادہ ہے۔دل کی سچی اور کھری چاہت اور نیت پر ہی اعمال کی درجہ بندی کی جائیگی۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو تلقین کی:
    ’’اے مومنو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر نفس یہ جائزہ لیتا رہے کہ وہ اپنی کل (آخرت )کیلئے کیا جمع کر رہا ہے،بے شک اللہ تمہارے ہر عمل کی خبر رکھتا ہے (کہ وہ عمل کتنا معیاری ہے)‘‘(الحشر18)۔
    اور اگر مومن اس معیار کا جائزہ لینے سے غافل ہوتا ہے تو نتیجتاً یہ معاملہ سامنے آتا ہے:
     ’’اور تم اُن لوگوں میں شامل نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے اللہ کو(اس کی عظمت کو) بھلا دیا تو اللہ نے ان کو ان کا اپنا آپ بُھلا دیا(اپنی قدروقیمت سے غافل ہوگئے) ۔ ‘‘(الحشر19)۔
    اللہ تعالی کا اٹل فیصلہ ہے کہ:
    ’’اہل جہنم اور اہل جنت کبھی برابر نہیں ہو سکتے انجام کار اہل جنت ہی کامیاب لوگ ہیں۔ ‘‘(الحشر20)۔
    جنتوں کے بھی معیار ہیں۔ ہمارے اعمال ہی فیصلہ کریں گے کہ کس معیار کے جنتی لوگوں کے ساتھ رہنا ہے۔
    اہل جنت میں شامل ہونے کیلئے آج اور ابھی اپنا احتساب بے لاگ کرنا ہوگا اور اپنی کل کیلئے معیاری نیکیاں جمع کرنی ہوں گی اور نیکی کا معیار بھی بلند رکھنا ہوگا تاکہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ رہنا نصیب ہو۔
    محاسبہ یا احتساب بہتر سے بہترین کا سفر ہے ،اور اس سفر کی منزل جنت ہے۔ ایمان بڑھتا ہے تو احتساب کی طلب بھی بڑھتی جاتی ہے اور جب احتساب کی لگن لگ جاتی ہے تو ایمان میں اضافہ ہوتا جاتاہے۔ گویا کہ ایمان و احتساب لازم و ملزوم ہیں۔ ایمان کا پیمانہ وہی ہوگا جو احتساب کا ہوگا۔
    احتساب کیا ہے؟ :
    احتساب خوب سے خوب تر کی تلاش ہے۔ٹارگٹ یا نصب العین کو پورا کرنے کے لیے کماحقہ کوشش کرتے ہوئے جو کمی، کوتاہی ہوجائے اس کا بر وقت تدارک کرنا ہے۔ جو غلطی ہوجائے اس کو آگے بڑھنے سے پہلے درست کر لینا ہے تاکہ جب مالک کے سامنے کام کی رپورٹ پیش کرنے حاضر ہوں تو مالک خوش ہو جائے۔ اس کو قرآنی زبان میں’’ تزکیۂ نفس‘‘ کہتے ہیں اور نبی بھی نفوس کے تزکیہ کے لئے مبعوث فرمائے گئے۔
    ہمارا ایمان ہے کہ رب کائنات کے حضور پیشی کسی لمحے بھی متوقع ہے اور اس کی نگاہوں سے کسی لمحے بھی ہم اور ہمارے اعمال  اوجھل نہیں ہو سکتے۔ اُس رب کی عظمت کا احساس، اس کی ذات کی پہچان، اس رب کی رحمت کا عرفان جس قدر دل میں جاگزیں ہوگا ،اُسی قدر مؤمن “ولتنظر نفس ما قدمت لغد ” کی حقیقت سے واقف ہوگا اور اس پرہر لمحہ جواب دہی کا خوف غالب رہے گا اور یہی ایمان کا تقاضا ہے۔
    پہلا محاسبہ اپنے ایمان کا یہ ہے کہ توحید کا عرفان ہو۔”اللہ ایک ہے “۔یہ ہمارا عقیدہ ہے۔اسکی ذات پرایمان بالغیب کے تقاضے ہر شق اور ہر شرط کیساتھ پورا کرناہی اُسکو” ایک ماننا ہے”۔  شرک خفی اور جلی کا علم درست اور مکمل ہونا چاہئے۔ شرک تو کسی صورت معا ف نہیں ہوگاجب افکار و اقوال میں ،اعمال و معاملات میں اللہ رب العزت کی ذات سے تعلق رکھنے کا دعویٰ بھی ہو اور شک و تذبذب بھی موجو د ہو،” دنیا کیا کہے گی”کا خو ف بھی ہو،روزی کے حصول میں کامیاب ہونے کیلئے ” مروجہ دنیاوی اصول” بھی سہارا لگتے ہوں، مشکل کشا اللہ کی ذات بھی سمجھی جائے مگر واسطے کیلئے غیروں کے در پرحاضری بھی ہو توسوچنے کی بات یہ ہے کہ ایمان کی یہ کون سی شکل ہے ؟شرک کم ہو یا زیادہ ،توحید کو خالص نہیں رہنے دیتا۔ زمزم جیسے مقدس پانی میں پیشاب کا ایک قطرہ بھی مل جائے وہ زمزم نہیں رہتا  اسی طرح شرک کا شائبہ بھی توحید کو خالص نہیں رہنے دیتا۔
    ۰۰۰” ادخلوا  فی السلم کافہ” اور “للہ الدین الخالص” کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ایمان وہی قابل قبول ہے جو خالص ہو اور ہمہ پہلو مکمل ہو۔ ہم اپنے اعضاء و جوارح کے اقدامات سے ،ذاتی پسند و ناپسند کے معیارسے،خاندان و برادری کے اصولوں سے پرکھ سکتے ہیں کہ ہم ایک اللہ کے کتنے فرماں بردار ہیں، اس ایک اللہ کے سامنے اپنے ہر عمل کی جواب دہی کا کتنا خوف رکھتے ہیں۔
    سوچئے اور دل سے سوچئے! کیا واقعی ہم اللہ کو ایک مانتے ہیں ؟
    یہ کیسا ایمان ہے؟ کیسی محبت ہے؟ کہ اُس وحدہ لا شریک کی ایک نہیں مانتے یا جو من کو پسند ہو وہ مانتے ہیں۔ اور انفرادی و اجتماعی معاملات میں اپنے رب کو احکم الحاکمین تسلیم نہیں کرتے اور اس رب کائنات کے حضور پیشی کو اپنے باس کے سامنے پیش ہونے سے بھی زیادہ معمولی حاضری جانتے ہیں۔
    ہر مومن اپنا خود محاسب بنے اور سوچے کہ اس نے اپنے رب کے حضور پیش ہوکر زندگی کے ہر چھوٹے  بڑے معاملے میں اللہ کو صرف اور صرف” ایک “(الواحد الاحد) تسلیم کرنے کے کیا ثبوت تیار کررکھے ہیں؟
    “ولتنظر نفس ما قدمت لغد” کی تلقین سراسر ہمیں بہتر سے بہترین کی طرف راغب کرنا ہے ورنہ وہ مالک یوم الدین تو “علیم بذات الصدور” ہے۔یہ سب ریکارڈ تو ہمیں ہی دکھانے مقصود ہیں اُس دن جب زرہ برابر نیکی اور بدی سامنے لائی جائیگی اور کسی پر ظلم نہ کیا جائیگا۔جب حکم ہوگا پڑھو اپنے اعمال نامے کہ آج ہر نفس کو اپنے کرتوت دیکھ کر خود ہی اپنا مقام سمجھ آجائے گا:
    اقراء کتابک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا( بنی اسرائیل14 )۔
    اُس دن کی شرمندگی یاد رہنا بھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات کو ایک ماننا ہے۔ دنیا کے انسانوں کے سامنے شرمندگی سے بچنے کے لئے  جھو ٹ بولنا، دراصل اللہ کی ذات کو بھلا دینا ہے۔ جو دنیا کی خاطر اللہ کو بھلا دیتا ہے تو پھر اللہ بھی اسے بھلا دیتا ہے اور اللہ کا کسی کو بھلا دینا یہ ہے کہ اس سے اپنی حالت بہتر کرنے کا احساس چھین لیا جائے اور اس کیلئے  ہدایت کے راستے بند ہو جائیں۔
    اصلاح کے طریقے:
    ٭تجدید ایمان کی تلقین” لا الٰہ الا اللہ”کا  ذکر کرنے سے کی گئی ہے۔جب بھی یہ ذکر کیا جائے تو اپنے اور اللہ رب العزت کے درمیان جو رشتہ ہے اس کو شعوری کوشش کرکے دل میں محسوس کیا جائے۔
    ٭ اسماء الحسنیٰ کو یاد کرنے پر جنت کی بشارت ہے۔ اسماء الحسنیٰ در اصل اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے۔معرفت محض زبان سے نام دہرانے سے نہیں مل سکتی۔ اللہ تعالیٰ سے اس کی ذات کی معرفت مانگیں بھکاری بن کر۔ جس کی جھولی بھر گئی وہ ولی اللہ ہوگا۔
    ٭ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں کھڑے ہونے کے شعوری تصور کی پریکٹس دن میں 5 مرتبہ فرض کی گئی اس لئے کہ باقی اوقات میں بھی یہ عمل جاری رہے۔  
    رمضان المبارک کے قیام اس پریکٹس میں اضافہ کرتے ہیں،تاکہ اگلے11 ماہ یہ مشق جاری رہے۔
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لئے ہے
    اے اللہ! ہم  تجھ سے اپنے سارے معاملات کی درستی کے لیے التجا کرتے ہیں اس لئے کہ ہم صدق دل سے گواہی دیتے ہیں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔تو اکیلا ہے،بے نیاز ہے،نہ تیری کوئی اولاد ہے اور نہ تو کسی کی اولاد ہے اور نہ کوئی تیرا ہمسر ہے نہ کبھی ہوگا۔
    ہم اُن سب قصوروں کی معافی چاہتے ہیں جو تیری ذات و صفات کے ساتھ ہم سے سرزد ہوئے اور تیری خالص بندگی کیلئے تجھ سے ہی اعانت طلب کرتے ہیں۔
    جس قدر ممکن ہو اپنے دل کی گہرائیوں سے اظہار کیجئے:
    اللہ اللہ ربی لا اشرک بک شئیا۔
    اور اللہ رب العزت کے سامنے عاجزی سے اپنے قصوروں کا بار بار اعتراف کیجئے:
    ربنا ظلمنا انفسنا و ان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین۔
     لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین۔     
    “لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ” پر ایمان کی اگلی شق “کلام اللہ” پر مکمل ایمان ہے:    
    “ذالک الکتب لا ریب فیہ” کے اقرار کے بعد اسکے کسی حکم،جملہ  آیت پر شک ہونا یا اس کو آج کے دور میں قابل عمل نہ سمجھنا ایمان کے منافی ہے اور اس منفی سوچ سے” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کا اقرار بھی مشکوک ہوجاتا ہے۔ اللہ، رسول اور قرآن پر ایک ساتھ مکمل “لاریب “ایمان ہی اسلام کا مکمل دائرہ ہے۔ قرآن پاک وہ دستور زندگی ہے جس کے مطابق زندگی گزارنا ہی دائرہ اسلام  میں رہنے کی شرط ہے۔
    ہم قرآن پاک کو آئینہ بنا کر اپنے اقوال و اعمال کو پرکھیں۔ اپنا احتساب کریں تو معلوم ہوگا کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان ہونے کے نام پر دھوکا دے رہے ہیں۔قرآن پاک سے ہمارا سلوک ظالمانہ ہے۔اس کے کیا حقوق ہیں؟بہت کم مسلمان جانتے ہیں ۔اس کا حقیقی ادب واحترام کیا ہے؟اس سے ناواقف ہیں۔
    ہم انتہائی کم عمری میں کتابوں کے ڈھیر اپنی اولاد کی کمر پر لاد دیتے ہیں۔ سالہا سال وہ علم کے نام پر معلومات کا ذخیرہ جمع کرتے ہیں کہ کسی روزگار کے قابل ہو جائیںمگر وہ علم جو دستور زندگی ہے، اس کیلئے زندگی کے پورے پرائم ٹائم میں سے صرف چند گھنٹے کافی  سمجھے  جاتے ہیں ۔وہ کتاب جس پر حقیقی زندگی کا دارومدار ہے، اس سے شناسائی سرسری سی ہوتی ہے۔ تعلیم تو یہ تھی کہ اس قرآن کو زندگی کے کسی مرحلے میں بھی پس پشت نہ ڈالا جائے مگر ہم نے اس کی طرف پشت نہ ہونے کے خدشے کے پیش نظر اسے ایسے اونچے طاق پر رکھ دیا کہ رسائی مشکل ہو گئی۔ مقصد تو یہ تھا کہ اپنی بچیوں کی تعلیم و تربیت ، پرورش قرآن کی تعلیمات کے سائے میں کرتے ہوئے شوہر کے ساتھ رخصت کیا جائے مگر ہم نے اس کا بڑا آسان حل نکالا کہ پرورش تو جیسے مرضی کرلیں مگر دلہن کو قرآن مجید کے سائے میں رخصت کرکے  سمجھتے ہیں کہ قرآن کا حق ادا کر لیا ۔ اپنے معمولات ِزندگی میں قرآن پاک کے اثرو رسوخ پر غور کریں تو عموماً ایسی صورتحال نظر آتی ہے کہ وہ صرف اس وقت یاد آتا ہے جب کسی دنیاوی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کسی مرنے والے کے سرہانے یامرنے کے بعد کئی جمعرات اجرت پر بلائے گئے قار یوں سے پڑھوا کر تسلی ہوگئی کہ حق ادا ہو گیا ہے ۔ ہر مسلمان کو یہ معلوم ہونا چاہئیے کہ سمجھے بغیر، غور و فکر اور تدبر کئے بغیر اس کلام کو زبان سے ادا کر دینا اس کا حق ادا کرنا نہیں ۔ہم سے ایک سوال کیا ہے اللہ تعالی نے کہ: افلا یتدبرون القرآن ؟ کیا جواب ہے ہمارے پاس ؟
    قرآن مجید اللہ کا کلام ہے ،کسی انسان کا نہیں۔اُس کی عظمت اسی طرح سب پر برتر ہے جس طرح اللہ رب العزت کی اپنی ذات  سب سے عظیم ہے۔ اللہ کی ذات تک پہنچنے کا ذریعہ اس کا کلام ہے۔ اس کی معرفت حاصل کرنے کیلئے اس کا فہم اس پر تدبر لازمی ہے۔ اس کا علم دنیا کے سارے علوم کو وقعت عطا کرتا ہے۔ قرآن کے علم کے بغیر دنیا کا ہر علم صِفر ہے۔ ڈگریوں کے نام پر صِفر کی تعداد بڑھانے والے جب قرآن کے حقوق ادا کریں گے تو سارے  صِفر کے بائیں طرف ایک کا ہندسہ لگ جائے گا اور دنیاوی ڈگریوں کو بھی وقعت مل جائے گی۔ قرآن مجید کی تعلیم کو دنیاوی تعلیم کے مقابلے میں ثانوی حیثیت دینا اپنے اوپر ظلم اور اللہ کے کلام کی توہین ہے۔
    ہم بحیثیت مسلمان قوم کے  کوئلوں کی تگ و دو میں زندگی جیسی قیمتی متاع لٹا رہے ہیں جبکہ ہیرے جواہرات ہمارے پاس موجود ہیں۔قرآن مجید میں انفرادی و اجتماعی فلاح کے سارے راز سمو دیئے ہیں مگر ہم زبان سے ان کو دہراتے ہیں فہم نہیں رکھتے۔ اگر کچھ فہم ہے تو عمل سے بیگانہ۔ اگر کہیں کچھ عمل ہے تو اس میں ریا ہے یا دنیا کی کامیابی مقصود ہے۔
(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں