ایم والٹس کے ذریعے ملکی ترسیلات زر کے فروغ کی اسکیم متعارف

کراچی : وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں ترسیلات زر کی آمد کو فروغ دینے کے لیے متعدد اسٹرے ٹجک اقدامات کر رہی ہے۔ ہماری کوششوں کے تسلسل میں مجھے خوشی ہے کہ حکومت پاکستان، اسٹیٹ بینک اور مالی شعبے کی شراکت سے ایم والٹس کے ذریعے ترسیلاتِ زر کی وصولی کے فروغ کی اسکیم شروع کررہی ہے۔

انہوں نے یہ بات ایم والٹ اکاؤنٹس کے ذریعے ملکی ترسیلات زر کو فرو غ دینے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم سے ملک میں آنے والی ترسیلات کو برانچ لیس بینکنگ چینلز کے ذریعے لانے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے دو مقاصد حاصل ہوں گے، ایک تو اس سے لوگوں کو پاکستان بھر میں برانچ لیس بینکنگ کے ایجنٹس کا نیٹ ورک استعمال کرتے ہوئے تیز، آسان اور سستے طریقے سے ترسیلات وصول کرنے میں آسانی ہوگی، دوسرے اس سے ایم والٹس کے استعمال میں اضافہ ہوگا اور ڈجیٹل اکاؤنٹس وجود میں آئیں گے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ایم والٹ اکاؤنٹس کے ذریعے ملک میں آنے والی ترسیلات میں سہولت دینے کے لیے بجٹ سپورٹ کا بھی اعلان کیا۔

وزیر اعظم نے سامعین کو بتایا کہ 2013ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سےان کی پارٹی نےمتعدد اقدامات کیے ہیں جن میں معیشت کا استحکام، جی ڈی پی کی نمو میں اضافہ اور عام آدمی کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے متعارف کی گئی ساختی اصلاحات شامل ہیں۔ مالی شمولیت کو بہترین معاشی ترقی کی لازمی شرط سمجھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان انہی ممالک میں شامل ہے جہاں بینکنگ کی سہولتوں سے محروم دنیا کی 5 فیصد آبادی رہتی ہے۔ پاکستان میں صرف 23 فیصد بالغ آبادی کو باضابطہ مالی خدمات تک رسائی حاصل ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان میں پچھلے کئی برسوں سے ترسیلات زر ، برآمدات کے بعد زر مبادلہ کے حصول کا دوسرا بڑا ذریعہ رہی ہیں۔ پچھلے دس برسوں میں ترسیلات بارہ فیصد سے زائد کے مرکب سالانہ شرحِ نمو (سی اے جی آر) سے بڑھی ہیں جو دنیا کے کسی بھی ملک کے بلند ترین شرحِ نمو میں شامل ہے۔ خطے میں پاکستان کی نسبتاً بہتر کارکردگی کی بنیادی وجہ گذشتہ چند برسوں کے دوران تارک وطن کارکنوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ اور اس ضمن میں حکومت اور اسٹیٹ بینک کی سازگار پالیسیاں ہیں۔انہوں نے ترسیلات زر کی مضبوط نمو میں پاکستان ریمی ٹنس انی شیٹو کے کردار کو سراہا۔

قبل ازیں اپنے خیرمقدمی کلمات میں گورنر اسٹیٹ بینک جناب طارق باجوہ نے اسٹیٹ بینک کا دورہ کرنے اور اتنے اہم اقدام کا افتتاح کرنے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔ ایم والٹس کے ذریعے ملکی ترسیلات زر کی اسکیم کا تعارف کراتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اس سے دو مقاصد کے حصول میں مدد ملے گی، ایک ملک میں بڑھتی ہوئی مالی شمولیت؛ اور دوسرا، ملکی ترسیلات زر کی منتقلی کو زیادہ تیز اور کم لاگت پر مبنی بنانا ہے، تا کہ فراہمی کے بے ضابطہ ذرائع سے مسابقت کی جا سکے۔

طارق باجوہ نے کہا کہ ملک میں محدود مالی رسائی کے واضح چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اسٹیٹ بینک برانچ لیس بینکاری کےریگولیٹری اور مارکیٹ ڈویلپمنٹ اقدامات کے ذریعے مالی محرومی کو حل کرنے کی ایک طویل مدتی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متبادل ذرائع کے ذریعے مالی لین دین کے لچکدار، سستے اور باسہولت طریقے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ گذشتہ چند برسوں میں اس صنعت نے قابلِ ذکر ترقی کی ہے۔

گورنر نے مزید کہا کہ جون 2017ء تک27.3 ملین موبائل والٹس یعنی برانچ لیس بینکاری اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں جبکہ برانچ لیس بینکاری ایجنٹوں کی تعداد بڑھ کر چار لاکھ دو ہزار ہو چکی ہے۔ اس اضافے کا نتیجہ صارفین کو ان کے مقامات کے قریب بنیادی بینکاری خدمات کی فراہمی کی صورت میں نکلا ہے، جس سے ان کا وقت اور سفر کی لاگت بچ جاتی ہے۔ گورنر نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ یہ ٹیکنالوجی پر مبنی بینکاری کو استعمال کرتے ہوئے عوام کو ان کے تقاضوں کے مطابق مالی خدمات فراہم کرنے کا بہترین وقت ہے ،تا کہ ان کی مالی ضروریات احسن طریقے سے پوری کی جا سکیں۔

اس کے استفادہ کنندگان اے ٹی ایمز، متعلقہ بینک شاخوں یا ہزاروں کی تعداد میں برانچ لیس بینکاری ایجنٹوں سے رقوم حاصل کر سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ وہ اپنے ایم والٹس کو استعمال کرتے ہوئے یوٹیلٹی بلوں وغیرہ کی ادائیگی کے لیے بھی ڈجیٹل پے منٹس کو استعمال کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ توقع ہے کہ اسکیم سے ملک میں مالی شمولیت اور باضابطہ ذرائع سے ملکی ترسیلاتِ زر کی آمد کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، خاص طور پر محدود مالی انفراسٹرکچر والے دور دراز علاقوں میں۔

اس تقریب میں وزراء، ڈویلپمنٹ مشنز، عالمی شراکت داروں ، اعلیٰ سطح کے حکومتی اہلکاروں، بینکوں اور ڈی ایف آئیز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمینوں، اسٹیٹ بینک بورڈ کے ارکان اور بینکوں/ڈی ایف آئیز کے سی ای اوز/صدور نے شرکت کی۔ اس موقع پر مختلف کاروباری چیمبروں اور تجارتی تنظیموں کے صدور بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں