ایک قانون کے دو ترازو نہیں ہوسکتے ، وفاقی وزراء

حکومتی وزراء نے کہا ہے کہ ایک قانون کے دو ترازو نہیں ہوسکتے ،فیصلے ہمارے لئے نہ ہوشی ہے نہ حیرانی کی بات ہے ۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر وفاقی وزیر دانیال عزیز ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری ،وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور ن لیگی رہنما حنیف عباسی کا ردعمل سامنے آگیا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ ایک طرف منتخب وزیراعظم کو غیر وصول شدہ تنخواہ پر نااہل کردیا جاتاہے،دوسری طرف کہا جاتا ہے آف شور کمپنی تھی اور ظاہر نہیں کی تو کوئی بات نہيں ،ایک قانون کے دو ترازو نہیں ہوسکتے۔

دانیال عزیز نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو 5 سال تک محدود کردیا گیا ،یہ پابندی کیوں لگائی گئی ؟یہ نہ لگتی تو تحریک انصاف اورنہ ہی عمران خان رہتے ۔

ان کا مزید کہناتھاکہ نواز شریف کے کیس میں تو 1962ء تک کی تحقیقات ہوئیں ،یہ بات سپریم کورٹ اور سیاسی رہنما کہہ رہے ہیں کہ پولیٹیکل انجینئرنگ ہورہی ہے ، ہم جمہوریت کو پنپتے ہوئے دیکھنا چاہتےہیں ۔

طلال چوہدری نے کہا کہ ہمارے لیے نہ خوشی ہے نہ حیرانی کی بات ہے ،پہلے 13 ججز اور3 عدالتیں یہ فیصلہ دے چکیں ، اب 16 ججز ہوگئے ۔

انہوں نے کہا کہ آمریت کے دور میں جب کالا قانون تھا تب بھی یہ کیسز نہیں چل سکے تھے ،یہ فیصلہ عدالت کے اپنے وقار کا باعث بنے گا ۔

درخواست گزار اور ن لیگ کے سینئر رہنما حنیف عباسی نے کہا کہ اپنی رائے تفصیلی فیصلہ پڑھ کردوں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں