ایک لڑائی سے پاکستان سدھر نہیں سکتا پاکستان کو سدھارنے کے لیے کئی جنگیں درکار ہونگی .بھارتی وزیراعظم کی زہرافشانی

سرجیکل سٹرائکس کا فیصلہ ایک بڑا خطرہ تھا ‘جوانوں کی جان کی فکر تھی جو اس آپریشن میں حصہ لے رہے تھے. نریندر مودی

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جنگ کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک لڑائی سے پاکستان سدھر نہیں سکتا پاکستان کو سدھارنے کے لیے کئی جنگیں درکار ہونگی . دہلی میں بھارتی نیم سرکاری ادارے سے ایک انٹرویو کے دوران کہی. مودی کے اس انٹرویو کو بھارت کے تما م میڈیا چینلز پر نشر اور اخبارات میں شائع کروایاگیا ہے.
نریندر مودی سے پوچھا گیا کہ کیا سرجیکل سٹرائکس کے مقاصد پورے ہوئے ہیں یا نہیں؟ نریندر مودی نے کہا کہ سرجیکل سٹرائکس کا فیصلہ ایک بڑا خطرہ تھا لیکن وہ سیاسی خطرے کی فکر نہیں کرتے، انھیں صرف ان جوانوں کی جان کی فکر تھی جو اس آپریشن میں حصہ لے رہے تھے.

انہوں نے کہا کہ میں نے بالکل واضح ہدایت دی تھی کہ کامیابی ہو یا ناکامی، کمانڈوز کو سورج نکلنے سے پہلے واپس آجانا چاہیے.

نریندر مودی شاذ و نادر ہی انٹرویو دیتے ہیں اور اپنے ساڑھے چار سال کے دور اقتدار میں انھوں نے ایک بھی پریس کانفرنس سے خطاب نہیں کیا ہے‘ انھیں اس الزام کا بھی سامنا رہا ہے کہ انٹرویو صرف انھیں صحافیوں کو دیے جاتے ہیں جو انھیں چیلنج نہ کریں. سرجیکل سٹرائکس کے دعوے کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کی حکمت عملی، اس دعوے کی صداقت اور اس کی نیت پر سوال اٹھائے تھے.
جبکہ پاکستان نے بھارتی حکومت اور فوج کے دعوے کو بالکل بے بنیاد قرار دیا تھا. نریندر مودی نے کہا کہ پاکستان کے لیے تو انکار کرنا ضروری تھا لیکن ملک میں بھی کچھ لوگ وہی بات کر رہے تھے جو پاکستان کہہ رہا تھا اور یہ بات بہت افسوس ناک تھی. انھوں نے کہا کہ میں نے پوری رات آپریشن کو مانیٹر کیا اور جب تک کمانڈو واپس نہیں آئے میں فکرمند رہا.
نریندر مودی نے کہا کہ کمانڈوز کی حفاظت کے پیش نظر سرحد پار کارروائی کی تاریخ دو مرتبہ بدلی گئی تھی اور انھیں سرجیکل سٹرائکس سے پہلے خصوصی تربیت فراہم کی گئی تھی. جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سرجیکل سٹرائکس کے جو مقاصد تھے کیا وہ حاصل ہوئے کیونکہ سرحد پار سے اب بھی حملوں اور دراندازی کا سلسلہ جاری ہے، تو انھوں نے کہا وہ اس بارے میں میڈیا سے بات نہیں کرنا چاہتے .
انہوں نے کہا کہ 1965 میں بھی لڑائی ہوئی، تقسیم کے وقت بھی ہوئی، ایک لڑائی سے پاکستان سدھر جائے گا، یہ سوچنا بہت بڑی غلطی ہوگی، پاکستان کو سدھارنے میں ابھی اور وقت لگے گا. ’اڑی کے فوجی کیمپ پر حملے کے بعد میرے اورفوج کے اندر بہت غصہ تھا. فوج اپنے جوانوں کی شہادت کا انتقام لینا چاہتی تھی، ان کے اندر مجھ سے بھی زیادہ آگ لگی ہوئی تھی، اس لیے فوج کو جوابی کارروائی کا منصوبہ بنانے اور اسے عملی شکل دینے کی کھلی چھوٹ دی گئی تھی.
نریندر مودی نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے اگر سارک کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت آتی ہے تو یہ پل اسی وقت پار کیا جائے گا‘ ہم ہر موضوع پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں. ایسا نہیں ہے کہ یہ موضوع ہوگا اور یہ نہیں کیونکہ ہمارا موقف بہت مضبوط ہے لیکن بس ہمارا کہنا یہ ہے کہ بم بندوق کی آواز میں بات چیت سنائی نہیں دیتی ہے. بھارتی وزیر اعظم نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیرکے لیے قانون سازی کے مطالبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی قدم سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ہی اٹھایا جاسکتا ہے.
یعنی اگر عدالت کا فیصلہ ہندو فریقوں کے حق میں نہیں جاتا تو حکومت ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کے لیے آرڈیننس جاری کر سکتی ہے. بی جے پی کی نظریاتی سرپرست تنظیم آر ایس ایس اور دوسری اتحادی جماعتوں کا الزام ہے کہ سپریم کورٹ تنازع کی سماعت میں تاخیر کر رہا ہے اور اب قانون بناکر مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کا وقت آگیا ہے. نریندر مودی نے کہا کہ رام مندر کا تنازع آئین کے دائرے میں ہی حل کیا جائے گا سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمہ متنازع زمین کی ملکیت کے بارے میں ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں