باغی میں قندیل کو بےچاری کیوں دکھایا جا رہا ہے؟

لاہور: (تحریم عظیم) قندیل بلوچ کی زندگی پر مبنی ڈرامہ سیریل باغی ہر نئی قسط کے ساتھ اپنی اہمیت کھوتا جا رہا ہے۔ یہ ڈرامہ آن ائیر ہونے سے پہلے ہی عوام میں بہت مقبولیت حاصل کر گیا تھا۔ ڈرامے کی شروع کی اقساط میں لوگوں کی دلچسپی برقرار تھی لیکن جب ڈرامے میں اس قندیل کو دکھانا شروع کیا گیا جس سے عوام واقف تھی، تب سے یہ ڈرامہ لوگوں کے دلوں سے اترتا جا رہا ہے۔

قندیل بلوچ نے سوشل میڈیا سیلیبریٹی کے طور پر شہرت پائی اور بہت کم وقت میں وہ میڈیا میں اپنی جگہ بنا چکی تھی۔ اسے مختلف پروگرامز میں مدعو کیا جاتا تھا۔ ہر بڑا اینکر اس کا انٹرویو کر کے اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانا چاہتا تھا۔ بڑے بڑے لوگ اس سے بات کرنا چاہتے تھے۔ مگر افسوس! اس سے پہلے کہ قندیل اپنی شہرت سے لطف اٹھانا شروع کرتی اسے قتل کر دیا گیا۔ قندیل کو جولائی 2016ء میں ان کے بھائی نے سوتے ہوئے گلہ گھونٹ کر قتل کر دیا تھا۔ قندیل کے قتل کو قومی اور بین الاقوامی میڈٰیا میں بھرپور کوریج دی گئی۔

قندیل کے قتل کے بعد مختلف حلقوں کی طرف سے احتجاج شروع ہوا۔ غیرت کے نام پر قتل کب تک ہوں گے؟ یہ سوال ہر گلی میں گونجنے لگا۔ قندیل قتل کیس سرخیاں بنانے لگا۔ میڈیا چینلز جنہوں نے قندیل کی زندگی میں ہی اس کے ذریعے خوب ریٹنگ کمائی اب کہاں پیچھے رہتے، ایک نجی چینل نے قندیل کی زندگی پر مبنی ایک ڈرامہ بنانے کا فیصلہ کیا۔

باغی کی شروع سے ہی ٹاپ ریٹنگ جا رہی ہے مگر اب باغی اپنا سحر کھوتا جا رہا ہے۔ گو ڈرامے کے شروع میں انتباہ کر دی گئی ہے کہ یہ ڈرامہ کسی حقیقی انسان کی زندگی پر مبنی نہیں ہے مگر سب جانتے ہیں کہ اس ڈرامے میں قندیل بلوچ کی زندگی کو ہی بیان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ہمارے پاکستانی ڈراموں میں ہمیشہ عورت کو بے چاری ہی دکھایا جاتا ہے۔ اس ڈرامے میں بھی قندیل کے کردار کے ساتھ کچھ ایسا ہی کیا گیا۔ جو لوگ قندیل بلوچ کا فیس بک پیج دیکھتے رہیں ہیں انہیں معلوم ہوگا کہ قندیل اپنے آپ کو بالکل بھی بےچاری نہیں سمجھتی تھی۔ وہ اپنے خوابوں کا پیچھا کر رہی تھی اور اسے اس پر فخر تھا۔ اس کے قتل کے بعد عقدہ کھلا کہ وہ تو اپنے گھر اور گھر والوں کی حالتِ زار بہتر کرنے کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی۔ صرف اس بات کو نکتہ بنا کر اس کے کردار کو مسخ کرنا بہت عجیب سا لگتا ہے۔ قندیل اپنے سابقہ شوہر اور بچے کو کتنا یاد کرتی تھی یہ راز تو اس کے ساتھ ہی دفن ہوگیا، دنیا کے علم میں بس اس کا وہ جنون ہے جو اس کی ذات سے جھلکتا تھا۔

قندیل کے فیس بک پیج، انٹرویو اور ٹی وی بیانات سے ایسا کبھی نہیں لگا کہ وہ یہ سب کام کسی مجبوری یا صرف پیسے کمانے کے لیے کر رہی تھی۔ قندیل کی ذات میں اچھائی اور برائی کا ایک حسین امتزاج تھا جس کی وجہ سے وہ دیکھی اور پسند کی جاتی تھی۔ اس نے اپنی طلاق کے بعد خود کو گرل پاور کہنا شروع کیا لیکن سب جانتے ہیں کہ وہ گرل پاور نہیں تھی۔ اس نے لوگوں کی توجہ اپنی شادی سے ہٹانے کے لیے گرل پاور کا استعمال کیا۔

قندیل نے ہمارے معاشرے کا وہ بھیانک چہرہ ہمیں دکھایا ہے جس سے ہم نے نگاہیں چرائی ہوئیں تھیں۔ ہمارے معاشرے میں عورتوں کی زندگی شادی سے باہر کوئی وجود ہی نہیں رکھتی۔ وہ کچھ بننا چاہیں تو انہیں اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے جو کہ قندیل ادا کر رہی تھی۔ قندیل اور باقی لڑکیوں میں فرق یہی تھا کہ اس نے اس معاشرے کو اس کا یہ خوفناک چہرہ دکھانے کی کوشش کی۔

باغی میں بار بار یہی دکھایا جا رہا ہے کہ قندیل کو عزت کی روٹی اور بچہ حاصل کرنے کا جنون تھا مگر وہ تو صرف شہرت چاہتی تھی جو کہ اس کی فیس بک پوسٹس کے ہیش ٹیگ سے ظاہر ہوتا تھا۔ اس ڈرامے میں وقار زکاء کے کردار کو بھی بالکل مسخ کر دیا گیا ہے۔ کل کی قسط میں دکھایا گیا کہ اسے گلوکاری کے مقابلے میں قندیل کے ساتھ کیا جانے والا ججز کا سلوک پسند نہیں آیا اور وہ اس کے خلاف بولتا ہے جبکہ حقیقت میں اس کا یہ بیان قندیل کے مرنے کے بعد آیا تھا ااور اس بیان کا مقصد صرف اور صرف عوام کی ہمدردیاں سمیٹ کر اپنے پیج پر مزید لائکس اکٹھے کرنا تھا۔

اگر باغی میں قندیل کو بےچاری اور مکمل مثبت دکھانے کی بجائے ویسے ہی دکھایا جاتا جیسی وہ تھی تو اس ڈرامے کو مزید کامیابی مل سکتی تھی مگر المیہ یہ ہے کہ اس ڈرامے کا مقصد قندیل کی زندگی پر روشنی ڈالنا نہیں بلکہ صرف پیسے کمانا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں