برطانوی دارالعمراء میں بریگزٹ ڈیل مسترد

برطانیہ کے دارالعمراء میں بریگزٹ ڈیل 152 کے مقابلے میں 321 ووٹوں سے مسترد ہو گئی جبکہ دارالعوام میں بریگزٹ ڈیل پر ووٹنگ آج ہوگی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر 100 ٹوری ارکان نے مخالفت میں ووٹ ڈالے تو حکومت کو 200 ووٹوں سے شکست کا امکان ہے، شکست کی صورت میں وزیراعظم کو تین روز میں پلان بی پیش کرنا ہوگا، پلان بی کیا ہوگا اب تک غیر واضح ہے، متبادل آپشنز میں بغیر ڈیل یورپی یونین سے علیحدگی، ڈیل پر دوسرا ریفرنڈم یا بریگزٹ کا منصوبہ سرے سے ہی ختم کرنا شامل ہوسکتے ہیں، یورپی یونین سے مزید مراعات کے حصول کے لیے دوبارہ مذاکرات یا پھر اپوزیشن کے نئے الیکشن کے مطالبے پر عمل درآمد بھی کیا جاسکتا ہے۔

برطانوی دارالعمراء میں بریگزٹ ڈیل مسترد

اپوزیشن لیبر لیڈر جریمی کوربن کہتے ہیں حکومت کو بریگزٹ پر ذلت آمیز شکست ہوگی، وزیر اعظم تھریسا مے مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔

وزیراعظم تھریسامے کا کہنا ہے کہ ڈیل کی مخالفت کرنے والے عوام کو نیچا دکھانے کا خطرہ مول نہ لیں۔ ان کی ڈیل مسترد ہوئی تو شاید ڈیل کے بغیر ہی نکلنا پڑ جائے یا پھر یوریی یونین سے علیحدگی ہی نہ ہو پائے، ارکان پارلیمنٹ سے ڈیل پر نظر ثانی کی اپیل کردی۔

وزیر اعظم کے خلاف کتنے ٹوری اراکین بغاوت کریں گے، یہ آج واضح ہو جائے گا تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق حکمران جماعت کے 100 ارکان اور شمالی آئرلینڈ کے کئی اتحادی ارکان کی جانب سے ڈیل کی مخالفت کے باعث وزیراعظم کی شکست یقینی ہے۔

برطانوی دارالعمراء میں بریگزٹ ڈیل مسترد

برطانوی ایوان زیریں میں ووٹنگ کے لیے کارروائی کا آغاز رات 12 بجے ہوگا، ایک ایک ووٹ کو کس قدر اہمیت دی جارہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن رکن ٹیولپ صدیق نے اپنے بچے کی دنیا میں آمد دو دن کے لیے موخر کردی، ڈاکٹروں نے آج منگل کی بجائے جمعرات کو آپریشن کرنے کی درخواست قبول کرلی ہے۔

ٹیولپ صدیق بنگلادیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی بھانجی ہیں، ممکنہ طور پر 639 ارکان ووٹنگ میں حصہ لیں گے 320 کی سادہ اکثریت سے ڈیل منظور یا مسترد کی جاسکے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں