بلاول نے وفاق کو3 مطالبات پیش کر دئیے

کراچی … پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کو3 مطالبات پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ قومی سلامتی کے امور کی نگرانی کیلئے پارلیمنٹ کی مشترکہ قومی سلامتی کمیٹی بنائی جائے ۔حکومت قومی ایکشن پلان پرعمل کرے اورکالعدم تنظیموں سے خود کو علی الاعلان الگ کرتے ہوئے وفاقی میں شامل کالعدم تنظیموں سے گٹھ جوڑکے حامل 3 وزرا کوفوری ہٹایا جائے۔ پیپلزپارٹی سندھ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہو ئے بلاول نے قومی ایکشن پلان پرعملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاافسوسناک بات ہے کہ ہمارے وزیراعظم مودی اور کالعدم تنظیموں کے خلاف بول سکتے ہیں نہ کچھ کر سکتے ہیں ۔وزیراعظم صرف اپوزیشن کے خلاف ایکشن لے سکتے ہیں ۔ خان صاحب الیکشن مہم میں عوام کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے ۔انہوں نے کالعدم تنظیموں کے ساتھ مل کر الیکشن لڑا ہے۔ وفاقی حکومت دہشتگردی کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں ۔طالبان کو این آر او مل رہاہے ۔اسطرح ہم دنیا کو کیا منہ دکھائینگے۔ انہوں نے کہاکہ آج ملک میں سلیکٹڈ حکومت ہے میڈیا پر حملے ہو رہے ہیں ۔ پی پی پی بہادر وں کی جماعت ہے جو ہر صورت حال کا مقابلہ کررہی ہے ۔ہمارے ملک میں انسانی حقوق کا بھی بحران ہے،جن اداروں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیئے وہ ادارے انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہیں۔لاپتہ افراد کا معاملہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں معاشی بحران بھی ہے ۔مہنگائی کا سونامی ہے ۔ عوام اس میں ڈوب رہے ہیں۔ وفاق سندھ کو اپنے مالی شیئر نہیں دے رہا ۔اگر سندھ کو اپنے فنڈز ملیں تو اسپتال، اسکولز اور دیگر مسائل حل ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ ملکی تاریخ میں 3 مرتبہ منتخب وزیراعظم کو انتخابی مہم کے دوران بیٹی سمیت گرفتارکیاجاتاہے ۔آصف زرداری کو ایک فون پرسزا دی جاتی ہے ۔آپ اسطرح الیکشن جیتتے ہیں جس طرح کا ایکشن سیاسی مخالفین کے خلاف لیتے ہیں ۔ اس قسم کا ایکشن کالعدم تنظیموں کےخلاف نہیں لیتے ۔ ساری دنیا کو اپنا موقف بتائیں گے ۔ آغا سراج درانی اسپیکر ہیں انہیں آپ گرفتار کرتے ہو ۔ گھر میں چادر اور چار دیواری کو پامال کرتے ہو،لیکن آپ اس قسم کے ایکشن کالعدم تنظیموں کے خلاف نہیں لیتے۔ دریں اثنائپیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کی ممکنہ گرفتاری اورسندھ حکومت کی معاشی ناکہ بندی کے خلاف پیپلزپارٹی نے بلاول بھٹو کی قیادت میں رابطہ عوام مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا ۔بلاول بھٹو زرداری کراچی سے لاڑکانہ تک بذریعہ سڑک شہر،شہرگاوں، گاوں ریلیوں اورجلسوں سے خطاب کریں گے۔اس بات کا فیصلہ پیپلزپارٹی کی سندھ کونسل کے اجلاس میں کیا گیا ۔ اجلاس میں اسپیکرسندھ اسمبلی آغا سراج درانی ، شرجیل میمن سمیت دیگرپارٹی رہنماﺅں کے خلاف نیب مقدمات اورسابق صدرآصف علی زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی راولپنڈی منتقلی کی مذمت کرتے ہوئے اسے انتقامی کارروائی قراردیا گیا ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بلاول بھٹو زرداری سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر بذریعہ سڑک لاڑکانہ جائیں گے۔ان کے سفرکورابطہ عوام مہم میں تبدیل کیا جائے گا۔ اجلاس کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے پیپلزپارٹی سندھ کے صدرنثارکھوڑو نے صحافیوں کوبتایا کہ سندھ کونسل نے سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔4 اپریل سے پہلے بلاول کی قیادت میں بذریعہ سڑک عوامی رابطے پر نکلیں گے۔ انہوںنے کہاکہ ہماری قیادت ملک میں ہے ۔ گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے۔اگر انہوں نے ٹھان لی کہ گرفتارکرنا ہے تو ہم تیار ہیں ۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں