بچوں کو کتنا سونا چاہیے

نومولود بچے سوتے وقت بھی چھوٹی موٹی سرگرمی کرتے رہتے ہیں۔ ان میں ہاتھ پاؤں ہلانا ، مسکرانا، کوئی شے چوسنا اور بے چین دکھائی دینا شامل ہیں

لاہور (سنہرادور آن لائن ) جانداروں کو نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسانی دماغ کی یہ ایک اہم سرگرمی ہے۔ سونا دن اور رات کی مناسبت سے ترتیب پاتا ہے لیکن اس کے لحاظ سے نیند کے آنے میں قدرے وقت لگتا ہے۔ یعنی نومولود بچہ سونے میں دن اور رات کی تمیز نہیں کرتا۔ گہری نیند کے دوران پٹھوں کو خون کی فراہمی میں اضافہ ہوتا ہے، توانائی بحال ہوتی ہے اور نشوونما کے لیے ضروری ہارمونز کا اخراج ہوتا ہے۔ کچی نیند کے دوران دماغ سرگرم ہوتا ہے اور اسی نیند میں خواب بھی آتے ہیں۔ نومولود بچے سوتے وقت بھی چھوٹی موٹی سرگرمی کرتے رہتے ہیں۔ ان میں ہاتھ پاؤں ہلانا ، مسکرانا، کوئی شے چوسنا اور بے چین دکھائی دینا شامل ہیں۔
نومولود نیند آنے کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ رونا شروع کر دیتے ہیںیا آنکھوں کو ہاتھوں سے ملتے ہیں۔ جوں ہی محسوس ہو کہ بچے کو نیند کی ضرورت ہے اسے آرام دہ بستر پر سلا دینا چاہیے۔ عام طور پر وہ جلد ہی سو جاتے ہیں۔ شیر خوار بچوں کو دن کے وقت روشنی اور قدرے شور میں بھی رکھنا چاہیے اور ان کے ساتھ کھیلنا بھی چاہیے تاکہ وہ اس دوران کم اور رات کو زیادہ سوئیں۔ جب شام ہونے لگے تو روشنی کم ملنی چاہیے اور شور بھی کم ہونا چاہیے۔ اس دوران ان سے کھیل کود یا بات کرنے کا سلسلہ بھی کم کر دینا چاہیے۔ یوں آہستہ آہستہ ان کو دن میں جاگنے اور رات میں سونے کی عادت پڑ جائے گی۔ بچوں کو کتنا سونا چاہیے اس کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے جن میں بچے کی عمر بھی شامل ہے۔
ذیل میں اس حوالے سے عمومی رہنمائی دی گئی ہے۔ ایک سے چار ماہ: اس عمر کے بچے کو دن اور رات میں 15 سے 16 گھنٹے سونا چاہیے۔ پیدائش کے فوراً بعد بچہ دن میں 15 سے 18 گھنٹے سوتا ہے۔ لیکن وہ مسلسل نہیں سوتا بلکہ مختلف وقفوں سے جاگتا اور سوتا ہے۔ نئے پیدا ہونے والے بچوں میں حیاتیاتی گھڑی نہیں بنی ہوتی، اس لیے ان کی نیند میں دن اور رات کی تمیز نہیں ہوئی۔ ایک سے چار ماہ : اس عمر میں بچے دن اور رات میں 14-15 گھنٹے سوتے ہیں۔ چھ ہفتوں کے بعد بچے کی نیند میں قدرے توازن پیدا ہونا شروع ہوتا ہے اور اس میں ایک قاعدہ نظر آنے لگتا ہے۔ اس دوران بچے مسلسل چار سے چھ گھنٹے کے لیے بھی سو لیتے ہیں۔ ان میں دن اور رات کی تفریق پیدا ہونے لگتی ہے اور وہ سورج ڈھلنے کے ساتھ سونے لگتے ہیں۔ چار سے 12ماہ: اس عمر میں بھی بچے دن اور رات میں 15 گھنٹے تک سوئیں تو اچھا ہے لیکن گیارہ ماہ تک وہ 12 گھنٹے تک سونا شروع کر دیتے ہیں۔
اس دور میں بچے میں نیند کی صحت مندانہ عادات کو فروغ دینا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ اب اسے اردگرد سے تعلق کا پتا چل رہا ہوتا ہے اور وہ دوسروں سے میل ملاپ بڑھا رہا ہوتا ہے۔ اس کا سونے کا طریقہ بھی بڑوں کے جیسا ہونے لگتا ہے۔ عام طور پر بچہ اس عمر میں تین مرتبہ سوتا ہے تاہم چھ ماہ کے بعد یہ کم و بیش دوبار سونے لگتا ہے۔ اس عمر میں جسمانی طور پر بچے اس قابل ہوتے ہیں کہ ساری رات سوتے رہیں اور جاگیں نہ۔ ان کے اندرایک حیاتیاتی نظام وضع ہونے لگتا ہے۔ عموماً وہ صبح اٹھنے کے بعد تقریباً نو بجے ایک گھنٹے تک کے لیے سونے لگتے ہیں۔ پھر دوپہر کو دو بجے ایک سے دو گھنٹے تک سو سکتے ہیں۔ اس کے بعد شام کے وقت سوسکتے ہیں۔ ایک سے تین سال: اس عمر میں بچے 12-14 گھنٹوں کے لیے سوتے ہیں۔ 18 -21 ماہ کی عمر میں صبح اور دوپہر کی نیند غائب ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ وہ دن میں صرف ایک بار سونے لگتے ہیں۔ رینگنے والے یا ہاتھ اور پاؤں سے چلنے والے بچوں کو سونا تو 14 گھنٹے چاہیے لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ وہ سرگرم رہنے کی صورت میں صرف 10 گھنٹے سوتے ہیں۔
سات سے 12سال: اس عمر میں بچے کو 10-11گھنٹوں کے لیے سونا چاہیے۔ اس عمر میں سماجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سکول اور خاندان کی سرگرمیاں بھی شروع ہوجاتی ہیں۔ رات کو بچہ تاخیر سے سوتا ہے اور جلد اٹھتا ہے۔ اس کے اوقات مختلف ہوتے ہیں، کچھ نو بجے رات کو سوتے ہیں اور کچھ ساڑھے سات بجے۔ 12 سے 18 سال: اس عمر میں آٹھ سے نو گھنٹے روزانہ سونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیند صحت کے لیے ضروری ہے لہٰذا نوعمری میں نیند پر پوری توجہ دینی چاہیے۔ کیونکہ تعلیم اور دوستوں کے ساتھ سرگرمیوں میں مگن ہو کر وہ نیند کو قربان کرنے لگتے ہیں۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا اس عمر میں ایسی سرگرمیاں بن چکی ہیں جو ان کی نیند کو متاثر کرتی ہیں۔ ان سے یا تو وہ کم نیند کرتے ہیں یا ان کی نیند کے اوقات بدلتے رہتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں