”بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے“

آج کا بچہ ”ایکسٹرا عقل“ کی وجہ سے بڑوں میں لڑائیاں بھی کروا دیتا ہے، وہ ہر اس بات کی کھوج میں رہتا ہے جو اسے معلوم نہیں،وہ ہر لحاظ سے 21ویں صدی کا بچہ ہے
ریشماں یاسین ۔ کینیڈا
کیا واقعی آج کا دور اس تیز رفتاری سے گزر رہا ہے؟ جو باتیں کسی زمانے میں کہی جاتی تھیں وہ صرف اس زمانے کی باتیں ہوتی تھیں۔ حقیقت کا اس سے کوئی لینا دینا ہی نہیں تھا مگر آج کے دور میں وہ باتیں بالکل حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔
آج کا بچہ ہر وہ بات کرتا ہے جو ہم اپنے دور میں کرتے ہوئے ڈرتے تھے۔ جب چھوٹے تھے تو سب کی باتیں سنتے تھے۔ ذرا سی غلطی پر کتنے گھنٹوں کا لیکچر سننے کو ملتا تھا۔ اپنی بات کہنے سے بھی جھجکتے اور ڈرتے تھے۔ غلط بات کو غلط نہیں کہہ سکتے تھے یا اس بات کو اس طرح سمجھ لیں کہ اظہار آزادی کا جس طرح آج میسر ہے ، ماضی میں ایسا نہیںتھا۔
ہم بات کررہے تھے آج کے دور کے بچوں کی جو جدید ٹیکنالوجی کے دور کے بچے ہیں۔ جو ہم سے ٹیکنالوجی کی باتیں کرتے ہیں۔ ویسے دیکھا جائے تو جتنی تیزی سے ترقی کے مراحل گزشتہ 20سال میں ٹیکنالوجی نے طے کئے ہیں ،اس سے پہلے اتنی ترقی نہ کبھی ہوئی، نہ دیکھی یا سنی گئی۔ اس نئی ٹیکنالوجی نے ہر طرف اپنی جگہ بنالی اور نئی نئی ایجادات روز انہ کی بنیاد پر ہمارے سامنے آنے لگیں۔ الحمد للہ ہم ان سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں اور اس ٹیکنالوجی کو ہمارے بچے بھی استعمال کرتے ہیں جو بہت ہی سمجھدار اور ذہین ہیں۔ ہر بات کی دلیل ان کے پاس ہوتی ہے اوروہ ہمیں ہربات بہت اچھے طریقے سے سمجھابھی دیتے ہیں۔ انہیں اس حوالے سے ہر قسم کی معلومات ہوتی ہیں۔ گھر والوں کی پسند، ناپسند ،دوستوں کی باتیں اور پسند ناپسند انہیں معلوم ہوتی ہے۔
آج کا بچہ اپنی ”ایکسٹرا عقل“ کی وجہ سے کبھی کبھار بڑوں میں لڑائیاں بھی کروا دیتا ہے۔ وہ آج ہر اس بات کی کھوج میں رہتا ہے جو اسے معلوم نہیں ہوتیں۔ آج کا بچہ ہر لحاظ سے 21ویں صدی کا بچہ ہے۔ اسکی باتیں اسکی سوچ، اسکا انداز بیان، اسکی حرکات وسکنات خود اسکی ذہانت بیان کررہی ہے۔ پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ گھر کی تربیت اچھی ہو تو بچہ باہر جاکر بھی نہیں بگڑتا مگر آجکل کے حالات اس کے برعکس ہیں۔ جو چیزیں اور باتیں وہ گھر میں نہیں سیکھ پاتا وہ سوسائٹی اسے سکھا دیتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو آج کا بچہ جدید ٹیکنالوجی سے واقف ہے۔ چھوٹے سے چھوٹا بچہ بھی کسی نہ کسی طریقے سے آئی فون، آئی پیڈ کو استعمال کرنا سیکھ لیتا ہے اور اس کی مدد سے اپنی مرضی اور پسند کی چیزیں دیکھتا ہے۔ ہم تو یہ سوچ کر اسکوموبائل پکڑا دیتے ہیں کہ چلو وہ کھیل لے گااور اتنی دیر میں گھر کا کام ہوجائے گا مگر آگے جاکر پھر مشکل ہوجاتی ہے۔ اگر یہ طریقہ مشکل رکھا جائے تو جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے، اسکی خواہشات بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ اسکی ضروریات کو دیکھتے ہوئے آپ کو یہ سب چیزیں خرید کر دینی ہوتی ہیں مگر یہاں ہماری ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ اسے سمجھائیں کہ ہر چیز میں اچھائی، برائی دونوں موجود ہوتی ہیں۔ یہ ایک اچھی چیز ہے جسکا استعمال ہمیں کرنا چاہئے مگراسکا غلط استعمال اسے خراب کردیتا ہے ۔کسی بھی چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے ۔
ہر گھر کے کچھ اصول اور ضابطے ہوتے ہیں۔ان پرآپ خود بھی عمل کریں اور بچوں سے بھی اس پر عمل درآمد کروائیں مثلاً:
٭ گھر میں داخل ہوں تو سیل فون بند کردیں۔
٭ دوستوں کو بتادیں کہ آپ ان اوقات میں فون کرسکتے ہیں۔
٭ کھانے کی میز پر کبھی فون کا استعمال نہ خود کریں، نہ بچوں کو کرنے دیں۔
٭ بچوں پر بھرپو ر توجہ دیں۔ انہیں کبھی اکیلا لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر یا موبائل پر نہ چھوڑیں۔ کوشش کرکے خود بھی انکے ساتھ بیٹھ جائیں۔
٭ ان سے باتیں کریں، ان کے سارے دن کا شیڈول بنائیں اور ان سے مشورہ لیں اور بات چیت کریں۔ انہیں صحیح اور غلط، اچھے اور برے کافرق سمجھائیں۔
٭ ان کے کاموں میں جیسے اسکول کے جو پراجیکٹ ہوتے ہیں ، ان میں مدد کریں تاکہ انہیں محسوس ہو کہ وہ اکیلے نہیں بلکہ ہمارے ساتھ برابری والا معاملہ ہے اور والدین کی ہم پر نظر ہے۔
٭ نمازپڑھنے کھڑی ہوں تو بچوں کو بھی ساتھ کھڑا کریں اور نماز کیلئے انہیں بھی تاکید کریں۔ انہیں اسلام کے بارے میں آگاہ کریں اور اس حوالے سے ان کے کسی بھی قسم کے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیں۔
٭ آہستہ آہستہ انہیں اپنے کام خود کرنے کیلئے کہیں۔
٭ انہیں اچھی اور اصلاحی وڈیوز اور گیمز دیں۔ پڑھائی میں ان کا خیال رکھیں۔ اگر وہ جم جانا شروع کرتے ہیں تو آپ خود بھی ان کے ساتھ جائیں۔
٭ سیل فون اور گیمز کھیلنے کیلئے ایک وقت دن میں مقرر کریں ۔اسی طرح فیس بک اور میسجز بار بار دیکھنے اور استعمال کرنے کی عادت ختم کروائیں ۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ بچے ہمیشہ والدین کی نقل کرتے ہیں۔ اس لئے بچوں کے سامنے خود بھی موبائل کا زیادہ استعمال نہ کریں اور جو قوانین گھر کے حوالے سے بچوں کیلئے بنائے گئے ہیں، ان پر خود بھی عمل کریں تاکہ بچے آپ کی بات مانیں۔
٭ گھر کا ماحول ہمیشہ خوشگوار رکھیں تاکہ بچوں کا دل گھر میں لگے ورنہ جب گھر کا ماحول اچھا نہیں ہوگا اور ہر وقت لڑائی جھگڑا رہے گا تو بچہ اس سے بچنے کیلئے باہر یا موبائل میں دل لگانا شروع کردے گا۔یا دوسرے الفاظ میں ان چیزوں میں خود کو گم کرنے کی کوشش کریگا۔
رشتہ دار ، دوست احباب کے گھر آپ خود بھی جائیں اور بچوں کو بھی لیکر جائیں اور انہیں بھی اپنے گھر مدعو کریں۔ مہینے میں ایک بار گیٹ ٹوگیدر ضرور رکھیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے بچے ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون ہیں۔ یہ خوبصورت پھول ہیں ۔ یہ وہ امتحانی پرچہ ہیں جسے انتہائی نفاست، اہتمام اور دل جمعی سے حل کرنا ہے ۔اپنے پھولوں کی حفاظت کریں اور کوشش کریں کہ یہ چھوٹا سا باغ ہرا بھرا رہے جو آپ کے گھر میں ہے۔ اس باغ کو ماں باپ اپنی محنت ، کوشش اور محبت کے ذریعے خوبصورت، سرسبز و توانا رکھ سکتے ہیں اور ہر آنے والی خزاں کا سامنا خود کرتے ہیںتاکہ ان کا باغ اور یہ پھول پودے اس سے محفوظ رہیں۔ آخر میں پروین شاکر کا بچوں کیلئے بہت ہی پیارا شعر جو تھوڑا سا شرارتی ہے ،پیش خدمت ہے:
جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے
٭٭٭٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں