بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی پامالی

حامد جاوید اعوان

زخم زخم اور لہو لہو کشمیر کی پکار سننے والے خواب غفلت کی نیند سو رہے ہیں،آج کی مہذب دنیا میں سیکولر ملک کہلانے والے ملک بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں کھیلی جانے والی خون کی ہولی مسلسل جاری ہے اب تک آزادی کی جنگ لڑنے والے نہتے معصوم کشمیریوں کو وحشیانہ درندگی کی بھینٹ چڑھایا جا چکا ہے۔ بھارتی افواج کی طرف سے کشمیریوں پر اندھا دھند گولیاں برسانے اور سرچ آپریشن کے نام پر انسانیت سوز ازیتیں دینے کا سلسلہ جاری ہے، شہادتوں پر وادی میں شدید احتجاج بھی جاری ہے اور کشمیری عوام بھارتی بربریت پر سراپا احتجا ج ہیں۔ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی انتہاء کر دی ہے اورگھر گھر تلاشی کے دوران معصوم اور بے گناہ کشمیریوں کو شدیدجسمانی تشدد اور ازیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 5 فروری کو پوری دنیا میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ یوم یکجہتی منایا جاتا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا جاتا ہے ؐکشمیر کاز کے دنیا کی امن پسند قومیں کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔ یوم یکجہتی کے موقع پر صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں بھارتی درندگی اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے اور مسئلہ کشمیر کے فوری حل کی قراردادیں منظور کی جائیں گی۔اس موقع پرریلیاں نکالی جائیں گی، آرٹس کونسلوں میں کشمیر ظلم و ستم کو آشکارہ کرنے کے لئے تصویری نمائشیں منعقد کی جائیں گی۔ کشمیر ی مجاہدین کی تیسری نسل آزادی کی جنگ میں اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہی ہے۔ کشمیر کا کوئی بھی گھر ایسا نہیں جس نے جدو جہد آزادی کے لئے قربانیاں نہ دی ہوں، سنگینوں کے سائیے میں زندگی گزارنے والے آج بات پر مطمئن اور پر امید ہیں کہ وہ دن ضرور آئے گا جب وہ بھارتی تسلط سے آزاد ہو کر آزادی کی فضاوں میں سانس لیں گے اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں گے اور انشاء اللہ جس طرح روز اول سے مقبوضہ کشمیر کے عوام نے بھارتی ظلم و ستم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹ کر کسی بھی جبر کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے ہٹے ہیں اس سے اب بھارت کے حوصلے پست دکھائی دیتے ہیں اور انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب وادی میں آزادی کا سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ طلو ع ہو گا اور مقبوضہ کشمیر کے وہ عوام جو اب تک اپنی جانوں پر ظلم سہتے رہے ہیں آزادی کی نعمت حاصل کر سکیں گے۔27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جب قیام پاکستان کے بعد بھارت نے عالمی قوانین اور اصولوں کی پروا کئے بغیر ڈھٹائی سے مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوجیں اتاریں اور کشمیری عوا م کی شخصی آزادیاں سلب کیں وہ اب تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دنیا عالمی طاقتوں کیلئے ایک تازیانہ ہے۔ ایک ایسا خطہ جس کے عوام اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں جہاں ان کی اکثریت ہے اور وہ 71 برسوں سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، بھارت اپنی تمام تر کوششوں اوربد اعمالیوں کے باوجود ابھی تک اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکا اور اس خطے میں قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہو سکی اور نہ ہی کشمیری عوام نے بھارتی دباو کا کوئی اثر قبول کیا ہے بلکہ حریت پسندوں کی آزادی کی جدو جہد میں مزید تیزی آتی جا رہی ہے اور برہان الدین کی شہادت تک جس طرح وادی میں شدید احتجاج اور غم و غصہ جاری ہے اس دیکھ کر بھی عالمی ضمیر پر کوئی اثر نہیں ہوا اور نہ ہی سپر پاورز کو یہ بربریت نظر آتی ہے۔ کشمیر کا بچہ بچہ آزادی کے جذبے سے شکار ہے اور بھارت کے خلاف شدید نفرت کے جذبات رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی ہٹ دھرمی اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود کشمیری عوام کا اعتماد متزلزل نہیں ہوا اور وہ آہنی دیوار کی طرح اپنی جگہ پر مضبوط کھڑے ہیں۔ بھارتی فوجیوں نے وادی میں کشت و خوں کا بازار گرم کر رکھا ہے، کاروبار حیات بند ہے، گھر گھر تلاشی کا سلسلہ جاری ہے، چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے، نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ازیتیں دی جا رہی ہیں، حریت رہنماوں کو نظر بند کرکے ان پر ظالمانہ تشدد کیا جا رہا ہے انہیں ذہنی اور جسمانی ازیتیں دی جا رہی ہیں، کشمیریوں کو مذہبی رسومات تک ادا کرنے کی آزادی نہیں، انہیں ناکردہ گناہوں کی سزا دی جا رہی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں یہ واحد مثال ہے جہاں عوام بھارتی اثر اور حکمرانی کو کسی طور قبول کرنے کو تیار نہیں پھر بھی انہیں زبردستی غلام بنانے کے لئے بھارت اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے اور اس کی فوج وادی میں اسلحے اور طاقت کے زور پر جس طرح معصوم، نہتے کشمیری مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہی ہے۔ وہ نہ تو کشمیریوں کو قابل قبول ہے اور نہ ہی دنیا کی کوئی بھی مہذ ب قوم اس جبر کو قبول کر سکتی ہے۔پاکستان کے عوام نے ہمیشہ کشمیر کاز کو اپنی ترجیحات میں سر فہرست رکھا ہے اور پاکستانی قیادت نے ہر عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف آواز بلند کی ہے اور ہر سال 27۔ اکتوبر کو یوم سیاہ اور 5۔ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اجتماعی سطح پر کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا تا ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری عوام کے ساتھ بھارتی غیر انسانی سلوک پر صدائے احتجاج بلندکی جاتی ہے اور عالمی برادری کی توجہ اس سنگین مسئلے کی جانب مبذول کرائی جاتی ہے۔ اس مرتبہ بھی یوم یکجہتی کشمیرکے موقع پر پاکستان اور پوری دنیا میں پاکستانی سفارت خانوں میں احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے ہوں گے اور مختلف سطح پر منعقدہونے والی تقریبات میں مسئلہ کشمیر اور بھارتی سیکورٹی فورسز کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا جائے گا۔ پاکستان کے ہر شہری کا دل اپنے کشمیری بہن بھائی کے دکھ دردسے مضطرب ہے اور کشمیرکی آزادی اور عالمی اداروں کی مجرمانہ غفلت پرہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کی جاتی ہے اوراس عزم کا اعاددہ کیا جاتا ہے کہ کشمیر کو بھارتی چنگل سے آزاد ی دلا کر ہر دم لیا جائے گا۔ اس سلسلے میں پاکستان کو ایسی امن پسند اقوام اور قیادت کا بھی ساتھ حاصل ہے جو حق و انصاف پر یقین رکھتی ہیں اور انشاء اللہ وہ وقت ضرور آئے گا جب کشمیری میں بھارتی فوج کی طرف سے جاری قتل و غارت گری اور خونریزی کا خاتمہ ہو گا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق کشمیری عوام کو استصواب رائے کا حق حاصل ہو گا اور وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کے مجاز ہو ں گے۔ کشمیر کی جلتی وادی اس وقت پوری دنیا کا ضمیر جھنجھوڑ رہی ہے اور شہیدوں کا لہو انصاف مانگ رہا ہے اس پر عالمی ضمیر گونگا اور بہرہ ہے لیکن حق کی آواز آخر کب تک دبائی جا سکتی ہے۔ ظلم چاہیے کس قدر بڑھ جائے اس ایک نہ ایک دن ختم ہونا ہی ہے اور آخری فتح ہمیشہ حق و انصاف کی ہی ہوتی ہے اور کشمیر میں انصاف کی شمع ضرور جلد روشن ہو گی۔ دنیا میں شاہد ہی کوئی اور ایسی طویل تحریک آزادی ہو جس میں اس قدر شہادتیں ہو چکی ہوں اور آزادی کا حق مانگنے والوں کو سنگین جسمانی تشد د کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ کشمیری عوام کا قصور یہی ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور یہ ان کا بنیادی انسانی حق ہے لیکن کشمیر میں بھارت نے ظلم و استبداد کا بازار گرم کر رکھا ہے اور کشمیر ی عوام پر زندگی تنگ کر دی گئی ہے۔ پانچ فروری کو پاکستان بھر میں کشمیری عوام سے یکجہتی کے اظہار کیا جاتا ہے اور ہر سطح پر مختلف نوعیت کی سرگرمیوں کے زریعے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کی جاتی ہے۔ پنجاب میں بھی حکومتی اور عوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے صوبے کے عوام سراپا احتجاج ہیں اوربھارتی سیکورٹی فورسز کی مقبوضہ کشمیر میں بربریت اور مظالم کی مذمت کی جا رہی ہے اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جائے تاکہ کشمیری عوام کی جدو جہد اپنے انجام کو پہنچ سکے۔ مقبوضہ کشمیر کے یوم سیاہ پر پاکستا ن بھر میں بینرز،ہورڈنگز، پوسٹرز، پلے کارڈز، ریلیوں، سیمینارز، ورکشاپس، ٹاک شوز، تعلیمی اداروں میں تقریبات، تصویری نمائشوں،اسی نوعیت کی متعدد دیگر سرگرمیوں کے زریعے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا جا رہا ہے اور حکومت کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ان سرگرمیوں میں شریک ہوکر اہلیان پاکستان کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب سردارعثمان بزدار مسئلہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے دوٹوک موقف کا واضح اظہار کر چکے ہیں اور بابانگ دہل اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ پاکستان کے عوام کے دل کشمیری عوام کے دلوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ ان کی حقوق کی پامالی پر کبھی فراموش نہیں رہیں گے اور ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ ان کی ہدایات پر یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آج وطن عزیز کے طول و ارض میں خصوصی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو پوری دنیا میں اشکارہ کرنا ہے اور اس موقع پر پاکستان کے عوام مقبوضہ کشمیر کے عوام کا بھرپور ساتھ دینے کے عزم کا اعادہ کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں