’بھارت میں مسلم ٹیکسی نہیں چلے گی‘

بھارت میں مسلم مخالف انتہا پسندی سوچ کی ایک اور مثال سامنے آگئی جب انتہا پسند تنظیم کے رکن کی جانب سے بھارتی مسلمانوں کو جہادی قرار دے دیا گیا۔

مسلم ڈرائیور کی موجودگی پر ہندو نوجوان نے آن لائن ٹیکسی بکنگ یہ کہہ کر منسوخ کردی کہ ’میں جہادیوں کو اپنا پیسہ دینا نہیں چاہتا۔‘

ٹوئیٹر پر اس اقدام کی مذمت کی جارہی ہے جس سے نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔

خود کو وشو ہندو پریشد کا رکن بتانے والے ایک نوجوان کے ٹویٹ پراس وقت تنازع کھڑا ہوا جب اس نوجوان نے ٹویٹ کیا کہ اس نے ’اولا کیب ‘کی رائیڈ صرف اس لئے منسوخ کردی کیونکہ اسے جو گاڑی ملی تھی، اس کا ڈرائیور ایک مسلمان تھا۔

خود کو ہندو اسکالر بتانے والے ابھیشیک مشرا نے کہا کہ 20 اپریل کو اس نے اپنی کیب رائیڈ منسوخ کردی تھی، کیونکہ وہ جہادیوں کو اپنے پیسہ نہیں دینا چاہتا ۔

ٹویٹ کے ساتھ ابھیشیک نے ایک اسکرین شارٹ بھی شیئر کیا ، جس میں ڈرائیور کا نام مسعود عالم لکھا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ مشرا کا ٹویٹر ہینڈل ویریفائیڈ ہے اور اس کے 14 ہزر سے زیادہ فالوورس ہیں۔ اسے فالو کرنے والوں میں بھارتی وزیر دفاع نرملا سیتا رمن ، پٹرولیم کے وزیر دھرمیندر پردھان اور مرکزی وزیر مہیش شرما بھی شامل ہیں۔

مشرا نے اپنے فیس بک پروفائل میں لکھا ہے کہ وہ اجودھیا کا رہنے والا ہے اور لکھنو میں ایک آئی ٹی پروفیشنل کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کا دعوی ہے کہ وہ وی ایچ پی کا آئی ٹی سیل سنبھالتا ہے اور کامرس کی وزارت کے ساتھ پروجیکٹ منیجر کے طور پر کام کرچکا ہے۔

اس پوسٹ کے بعد کئی لوگوں نے ٹویٹر پر اس کی شدید تنقید بھی کی ہے۔ کئی لوگوں نے اس سے کہا ہے کہ اسے پٹرول بھی لینا بند کر دینا چاہئے کیونکہ وہ مشرق وسطی سے آتا ہے، جبکہ کئی لوگوں نے اولا کمپنی سے اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ایک نوجوان نے لکھا کہ ’’اس جیسے لوگوں سے بھارت کو اصلی خطرہ ہے، ہم بھارتی ایسا محسوس نہیں کرتے ہیں اورنفرت کیلئے ہمارے سماج میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ــ‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں