تحفظ ختم نبوت کانفرنس 31دسمبر کو تونسہ شریف میں منعقد کرنے کا اعلان

لاہور (ویب ڈیسک): وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی پیر حمید الدین سیالوی کو منانے کی ایک اور کوشش ناکام ہوگئی۔ پیر حمیدالدین سیالوی رانا ثناءاللہ کے استعفی کے مطالبے پر قائم ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیرالیٰ پنجاب شہباز شریف کی ہدایت پر پیر حمید الدین سے مذاکرات کے لیے دو رکنی کمیٹی بناءیگئی تھی جس میں پیر امین الحسنات اور غلام محمد سیالوی شامل تھے۔

انہوں نے پیر آف سیال شریف سے ملاقات کی اور انہیں اپنی طرف سے قائل کرنے کی کوشش کی جو یکسر ناکام رہی۔ پیرآف سیال شریف نے کمیٹی کو وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ان سے ملاقات کے وعدے پورا نہ کرنے پر بھی شکوہ کیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق سعودی عرب روانگی کے موقع پر وزیر اعلی نے وزیر مملکت پیر امین الحسنات شاہ اور غلام محمد سیالوی سے ائیر پورٹ پر ملاقات کر کے انہیں خصوصی ٹاسک سونپا تھا کہ خواجہ حمیدالدین سیالوی سے رابطہ کر کے رانا ثنا اللہ کے استعفی کے علاوہ انکی ہر شرط پوری کرنے کو تیار ہیں، وزیر اعلی کی تشکیل کردہ کمیٹی نے جب پیر آف سیال شریف کی مذاکراتی کمیٹی سے بات چیت کی تو انہیں باور کرایا گیا کہ رانا ثنا اللہ کے استعفی کے علاوہ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف سے کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے کیونکہ خود وزیر اعلی پنجاب نے خواجہ حمیدالدین سیالوی کو ٹیلی فون کر کے چند یوم کی مہلت مانگی تھی کہ وہ رانا ثنا اللہ کا استعفی لیکر سیال شریف آئیں گے لیکن وزیر اعلی نے خواجہ حمیدالدین سیالوی سے وعدہ خلافی کی۔

اس نئی صورتحال کے بعد خواجہ عطا اللہ تونسوی نے تحفظ ختم نبوت کانفرنس 31دسمبر کو تونسہ شریف میں منعقد کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ 4 جنوری کو داتا دربار لاہور سے پنجاب اسمبلی تک ریلی نکالنے کا بھی اعلان کیا جا چکا ہے۔ علاوہ ازیں فیصل آباد میں ختم نبوتؓ کانفرنس میں مستعفی ہونیوالے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے استعفے متعلقہ سپیکرز کو موصول ہوچکے ہیں جنہیں تاحال منظور نہیں کیا گیا۔ سرگودھا سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی نظام الدین سیالوی نے کہا ہے کہ ہم نے اپنے استعفے منظور کرانے کیلئے سپیکر کو باقاعدہ طور پر آگاہ کردیا ہے مگر ضمنی انتخابات میں شکست کے خوف سے سپیکرز ہمارے استعفے منظور نہیں کررہے اس کے باوجود اب ہمارا اسمبلی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ مزید برآں نواز شریف جوکہ حلقہ این اے 68 سرگودھا سے قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے تھے ان کے ساتھ رکن پنجاب اسمبلی نظام الدین سیالوی ایم پی اے منتخب ہوئے مگر سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد اس حلقہ سے صوبائی اسمبلی کے ممبر نظام الدین سیالوی نے بھی اپنی نشست سے استعفی دیدیا اس حلقہ سے تعلق رکھنے والے موجودہ رکن قومی اسمبلی شفقت بلوچ ہیں آئندہ عام انتخابات میں یہ حلقہ ختم نبوتؓ کے معاملہ پر حساس ترین حلقہ ثابت ہوسکتا ہے اور اس حلقہ میں آئندہ ن لیگ کیلئے کامیابی حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا نواز شریف کیلئے جیتنا تھا۔

اس حلقہ میں حمید الدین سیالوی کا پیر خانہ سیال شریف بھی واقع ہے ختم نبوت کے حوالہ سے اس حلقہ کو ملک بھر میں خاص اہمیت حاصل ہوچکی ہے اس لئے اس حلقہ میں ن لیگ کو آئندہ انتخابات میں ٹف ٹائم ملے گا اور ہوسکتا ہے کہ اس نشست پر ن لیگ شکست سے دو چار ہو ۔ تاہم دوسری طرف مسلم لیگی ذرائع کے کہنا ہے کہ اس حلقہ سے مریم نواز شریف انتخاب لڑ سکتی ہیں تاہم اس کا فیصلہ آنیوالے دنوں میں ہوگا۔علاوہ ازیں تحریک لبیک یا رسول اللہ کی مجلس عاملہ نے وارننگ دی ہے کہ اگر اگلے چند دنوں میں حکومت نے ہمارے ساتھ ہونے والے معاہدے پر پور ی طرح عملدرآمد نہ کیا تو تحریک لبیک اور پورے ملک میں عاشقان رسول سڑکوں پر نکلنے میں حق بجانب ہونگے۔ تحریک لبیک کی مجلس عاملہ کا اجلاس زیرصدارت مرکزی امیر علامہ خادم حسین رضوی ہواجس میں سرپرست اعلیٰ پیر افضل قادری سمیت دیگر رہنماﺅں نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں