تلور کاشکار، ایک اورقطری شہزادے نے فیس جمع کرادی

بلوچستان میں تلورکےشکارکےلئےایک اورقطری شہزادےنےایک لاکھ ڈالر فیس جمع کرادی۔اس سے ایک ہفتہ قبل ایک قطری شہزادے نےبھی ایک لاکھ ڈالرکی خطیررقم جمع کرائی تھی۔

کنزرویٹرجنگلی حیات بلوچستان شریف الدین بلوچ کے مطابق ایک لاکھ ڈالرکی خطیررقم قطری شہزادےکی جانب سے ان کےنمائندے نےکوئٹہ کےایک سرکاری بنک میں گذشتہ روز جمع کرائی۔

کنزرویٹرجنگلی حیات کاکہناتھا کہ قطری شہزادے کو دس روز کےلئےبلوچستان کےجنوبی حصےکاایک علاقہ الاٹ کیاگیاہے اور انہیں 10روزمیں 100تلوروں کےشکارکی اجازت ہوگی، اور اگر 10روزکےبعد بھی شکار جاری رہاتو مہمان شخصیت کو ایک لاکھ ڈالرمزید جمع کراناہوں گے۔

شریف الدین کاکہناتھا کہ ایک ہفتے کےدوران بلوچستان میں دوسری قطری شخصیت کو شکار کی اجازت دی گئی ہے،اس سےقبل ایک قطری شہزادے نے29نومبر کو ایک لاکھ ڈالرکی خطیررقم کوئٹہ کےسرکاری بنک میں جمع کرائی تھی۔رواں موسم سرماکےدوران شکارکےلئے15علاقے الاٹ کئےگئےہیں۔

شریف الدین بلوچ کے مطابق عرب شہزادوں کی جانب سے جمع کردہ رقم وائلڈ لائف کےتحفظ کےلئےانڈومنٹ فنڈمیں جمع ہوگی ۔اس سے نہ صرف غیرقانونی شکارکی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ صوبے میں نایاب جنگلی حیات کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔

ماضی میں تلور کے شکار کے خلاف سخت مؤقف رکھنے والے وزیراعظم عمران خان نے اب اس معاملے پر مؤقف تبدیل کر لیاہے اور اب اُنہی کی حکومت میں قطری شہزادے کو شکار کا پروانہ مل گیا ہے۔

انہوں نے 2 سال قبل اُس وقت کی حکومت کی جانب سے تلور کے شکار کی اجازت دینے پر کہا تھا کہ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ایسا بھی دن آئے گا، جب تلور کا شکار ہماری خارجہ پالیسی کا ستون بن جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں