’’ تم کوئی عورت تھوڑی ہو ‘‘ فیض احمدفیض کی زندگی میں آنے والی وہ عورت جو انہیں اچھی نہیں لگتی تھی اور وہ اسے ایسے نام سے بھی پکارتے جو کوئی عورت سنے تو غصہ سے لال پیلی ہوجائے

لاہور(ایس چودھری) فیض احمد فیض کو سمجھنا اتنا آسان نہیں،جو بھی ان کے قریب رہا اس نے اپنی نظر سے انہیں دیکھا ۔وہ رومانیت پسند تھے اور انہیں ایک خاص رنگت ومزاج والی خواتین ہی پسند تھیں ،اس معاملے میں وہ خواتین کے ساتھ بے تکلفی اورصاف گوئی سے بھی کام لیتے ہوئے ایسے جملے بھی کہہ جاتے جو عام حالات میں کوئی عورت سننا پسند نہیں کرتی۔ اردو کی مشہور براڈکاسٹر، ادیبی اور شاعرہ سحاب قزلباش کو بھی فیض صاحب کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا اور انہوں نے اپنی کتاب روشن روشن چہرے میں ان کا خاکہ لکھا تھا ۔سحاب قزلباش تقسیم کے بعد پاکستان منتقل ہوئیں اور کچھ عرصہ ریڈیو پاکستان سے منسلک رہنے کے بعد وہ ایران کے زاہدان ریڈیو سے اردو کے پروگرام نشر کرتی رہیں۔ پھر کچھ عرصہ نائجیریا میں رہنے کے بعد انہوں نے لندن میں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی ۔وہ لکھتی ہیں ’’ایک دن جب میں کھانا کھارہی تھی تو فیض صاحب اسٹالن، لینن کی شمع روشن کئے بیٹھے تھے۔ پلیٹ میں ایک آدھ روٹی کا ٹکڑا پڑا ہوا تھا۔ وہ ان کی نظموں کے ٹرانسلیشن سنارہے تھے۔ جب بھی میں کچھ نہ کچھ رکھنے آتی، میز پر فہمیدہ کی پلیٹیں صاف ہوچکی ہوتیں۔ا نگلیاں چاٹ رہی ہوتی تھی۔ چٹخارے لے رہی ہوتی تھی۔ فیض صاحب کا کئی گھنٹوں کی تھکن سے چہرہ بوجھل ہوگیا تھا۔ جیسے ہی فہمیدہ ان سے پیسے لے کر سگریٹ لینے گئی تو میں نے بتایا کہ کھانا بھی کھالیجئے اور ان صاحبزادی کی عمر اُن ڈاکٹرنی صاحبہ سے بہت کم ہے چونکہ رنگ اور چہرے کی بناوٹ ایک ہے، آپ بے خبری میں پھر سے رنگ، نقش ملارہے ہیں، ان ڈاکٹرنی صاحبہ کے۔ حفیظ ہوشیار پوری کا ایک شعر سن لیں۔ پاگل جو سگریٹ لینے گئی ہے۔ وہ اپنی جگہ خوش ہے کہ آپ بھی اس کی ذہانت کا لوہا مان گئے۔‘‘

’’ذہین تو ہے وہ۔ تم نے کھانے میں کیا چیز جلا ڈالی آج‘‘ اور میں اور وہ، دونوں ہنس پڑے۔
’’جی نہیں۔ میں بڑی ڈھیٹ ہوں۔ اس تک آنچ نہیں پہنچے گی۔‘‘
’’اچھا اچھا شعر سناؤ حفیظ کا، کیا سنارہی تھیں۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں