تنقید کی پروا نہیں، بابا رحمتے وہ ہے جو لوگوں کو سہولت دے،چیف جسٹس

لاہور،پھول نگر،پتوکی: چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ بابا رحمتے ایسے ہی لگا رہتا ہے ،مگر مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ،بابا کا تصور اشفاق احمد سے لیا اور بابا لوگوں کو سہولتیں فراہم کرتا ہے۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں تین رکنی فل بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے میڈیکل کالجوں میں اضافی فیسوں کی وصولی کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے یہ ریمارکس دیئے ۔فل بنچ نے میڈیکل کالجز کو اپنے اکاؤنٹس کا چارٹرڈ فرم سے آڈٹ کرانے کاحکم دے دیا اور واضح کیا کہ انہیں کسی کی پروانہیں ہے جو مرضی تنقید کرے، بابا وہ ہے جو لوگوں کیلئے سہولتیں پیدا کرتا ہے ایسے کام کرتا رہوں گا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے واضح کیا کہ پی ایم ڈی سی کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے قرار دیا کہ کسی کالج کو بند نہیں کرنا تاوقتیکہ کوئی مجبوری نہ بن جائے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ایجوکیشن کاکاروبار ہو سکتا ہے لیکن میڈیکل کی تعلیم ایسی نہیں کہ اس پر فیسیں لگائی جائیں ۔چیف جسٹس نے باور کرایا کہ فیسیں اتنی نہ بڑھا دی جائیں کہ لوگوں کی جیبیں ہی کاٹ لی جائیں. چیف جسٹس پاکستان نے بتایا کہ ایک ڈاکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ ایسے ڈاکٹرز آرہے ہیں جنہیں بلڈ پریشر تک چیک کرنا نہیں آتا، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سوال اٹھایا کہ کل پانچ بچے مر گئے، ان کا ذمہ دار کون ہے۔انکوائری ہوگی اور آخر میں سارا ملبہ دھوپ پر ڈال دیا جائے گا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے حکم دیا پرائیویٹ کالجز کے اکاؤئنٹس کے آڈٹ کے تمام اخراجات کالجز خود برداشت کریں گے ۔سپریم کورٹ کاتین رکنی بنچ نجی میڈیکل کالجز میں اضافی فیسوں کے کیس کی سماعت کررہا تھا کہ چیف جسٹس نے کہا وہ ابھی سروسز اسپتال ،پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور پھولنگر میں میڈیکل کالج کا دورہ کرینگے۔ یہ سنتے ہی انتظامی افسروں کے فون بجنا شروع ہوگئے،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جسٹس اعجازالاحسن کے ہمراہ پھولنگر کے پاک ریڈ کریسنٹ میڈیکل کالج کا دورہ کیا اور بھاری فیسیں وصول کرنے پر کالج کے وائس پرنسپل ڈاکٹر شوکت کو حراست میں لینے، کالج کے اکاؤنٹ منجمد کرنے اور ایف آئی اے کو ریکارڈ تحویل میں لینے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس کالج پہنچے تو طلبا نے شکایات کے انبار لگا دئیے۔کالج میں طلبا کو سہولتوں کی عدم فراہمی پر چیف جسٹس نے سخت برہم ہوئے اور ریمار کس دیئے کہ کیسے لوگ ہیں جو پچیس لاکھ روپے فیس وصول کررہے ہیں۔ چیف جسٹس نے ساڑھے آٹھ لاکھ روپے سے زائد وصول کی جانیوالی فیس واپس کرنے کے لیے کالج انتظامیہ کو ایک ہفتے کا وقت دے دیا.چیف جسٹس نے کہا کہ کالج کی حالت خرابی سے بھی نچلی سطح پر ہےہم نے آج اچھا کیا کہ اپنی آنکھوں سے جاکر دیکھ لیا. ورنہ دھوکے میں رہتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں