توہین عدالت، نہال ہاشمی کو ایک ماہ قید،50 ہزار روپے جرمانہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینیٹر نہال ہاشمی کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی، جس کے بعد وہ 5 سال کے لیے نااہل ہوگئے۔ عدالتی فیصلے کے بعد پولیس نے سینیٹر نہال ہاشمی کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا، ذرائع کے مطابق انہیں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا جائے گا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس دوست محمد اور جسٹس باقر مقبول پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آج سینیٹر نہال ہاشمی کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی اور نہال ہاشمی کو ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ توہین عدالت کیس کا فیصلہ 2-1 کے تناسب سے آیا، کیس کا فیصلہ جسٹس آصف کھوسہ نے پڑھ کر سنایا جبکہ جسٹس دوست محمد فیصلے میں خاموش رہے۔ سینیٹر نہال ہاشمی نے گزشتہ برس کراچی میں عدلیہ مخالف تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ احتساب کرنے والو ہم تمہارا یوم حساب بنا دیں گے۔ نہال ہاشمی کی عدلیہ مخالف تقریر پر سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا ازخود نوٹس لیا تھا جبکہ مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف نے بھی ان کی بنیادی پارٹی رکنیت خارج کردی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں