تیزی سے پھیلتی بیماریاں حیدرآباد کے لئے نیاچیلنج

تازہ اور ٹھنڈی ہوائیں، کشادہ سڑکیں اور صاف ستھرا ماحول اب حیدرآباد کا پرانا قصہ بن چکا ہے، آج کے حیدرآباد میں ابلتےگٹر،گاڑیوں کا دھواں، فیکٹریوں کی آلودگی اور گندگی و غلاظت کے ڈھیر ہیں۔ ایسے میں تیزی سے پھیلتی بیماریاں شہریوں کے لیے نیاچیلنج بن چکی ہیں۔

حیدرآباد کے سول اسپتال میں مریضوں کی لمبی قطاریں لگی ہیں، کوئی ملیریا کاشکار ہوا ہے توکوئی الرجی کا، کسی کو ہڈیوں کے بخارنے جکڑا ہے تو کوئی کھانس کھانس کرسینے کے انفکیشن سے پریشان ہے۔

ایم ایس ڈاکٹر پیر منظور کا کہنا ہےکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف سول اسپتال میں ہر روز 4ہزار سے زائد مریض علاج کےلیے آتےہیں۔

صرف لطیف آباد اور قاسم آباد میں چند ماہ کے دوران ٹائیفائیڈ کے 6 سو کیسز سامنے آئے ہیں۔

شہری کہتے ہیں کہ حیدرآباد اب ویسا نہیں رہا جیسا ماضی میں تھا۔ تلک چاڑی، فقیرکاپڑ، لیاقت کالونی سمیت متعدد علاقوں میں ابلتے گٹر، گاڑیوں کادھواں، دھول مٹی، کیچڑ، نکاسی آب کا ناکارہ نظام ہے۔

بلدیاتی اداروں کے نمائندے دعوی ضرورکرتے ہیں کہ کم وسائل کے باوجود سول لائن اور قاسم آباد کے علاقے میں صورتحال بہتر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں