جائیداد قانونی، شوکت خانم کےذریعے خریدنےکےالزامات غلط ہیں: علیمہ خان

پشاور: وزیراعظم کی ہمشیرہ علیمہ خان نے جائیداد کے معاملے پر خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ شوکت خانم ہسپتال کے ذریعے جائیداد بنانے کی خبریں غلط ہیں، جائیداد جائز اثاثوں اور قانونی ذرائع سے بنائی۔ 20 سال سے ٹیکسٹائل کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرے بیرون ملک اثاثوں کے بارے میں جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں، الزام لگایا گیا کہ یہ اثاثے غیرقانونی اور شوکت خانم کی خیرات کے پیسے سے خریدے، ان تمام خبروں اور الزامات کو مسترد کرتی ہوں۔

علیمہ خان نے کہا کہ شوکت خانم خیراتی ہسپتال ہے جو میری مرحوم والدہ کی یاد میں بنا، ہسپتال کو ملنے والے چندے کی آڈٹ نامور عالمی فرم سے کرائی جاتی ہے، گذشتہ 20 سال سے ٹیکسٹائل کے کاروبار سے وابستہ ہیں، جس کے عالمی سطح پر خریدار ہیں۔ کاروبار کے سالانہ ایکسپورٹ آرڈر تقریباً 2 ارب روپے کے ہوتے ہیں، دبئی کی جائیداد سرمایہ کاری کے ذریعے 3 کروڑ 9 ہزار 234 روپے میں خریدی اور اس جائیداد کیلئے رقوم جائز بنکنگ ذرائع سے بھیجی گئیں۔

امریکہ میں موجود جائیداد کے حوالے سے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ نیوجرسی کی جائیداد 14 کروڑ 5 لاکھ میں خریدی گئی اور اس کیلئے جائز بنکنگ ذرائع سے پیسے بھیجے اور بنک سے قرض لیا، یہ مشترکہ جائیداد کاروباری مقاصد کیلئے خریدی گئی تھی اور قانون کے مطابق ٹیکس ادا کر کے ظاہر کی گئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میری جائیداد اور میرے خیراتی کام کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔

ادھر دنیا نیوز ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے دبئی فلیٹس کے معاملے میں ایف بی آر کو 73 لاکھ روپے کی ادائیگی کر دی ہے۔

ایف بی آر ذرائع کے مطابق بقیہ ٹیکس کی ادائیگی کے لیے 7 روز کی مہلت مانگی گئی ہے۔ ایف بی آر نے علیمہ خان پر ٹیکس اور جرمانہ کی مد میں 2 کروڑ 94 لاکھ روپےعائد کئے تھے، انہوں نے ادائیگی کرنے کیلیے 13 جنوری تک ایف بی آر سے مہلت مانگی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ علیمہ خان کو دبئی فلیٹ چھپانے اور کرائے کی آمدن پر ٹیکس عائد کیا گیا تھا۔ علیمہ خان کو فلیٹ چھپانے پر 100 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ علیمہ خان ایف بی آر کو اپنے ذرائع آمدن کے حوالے سے تسلی بخش جواب نہیں دے سکی تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں