جامعہ نعیمیہ میں نوازشریف پر جوتا مار دیا گیا،مشکوک شخص نے جوتا مارنے کے بعد نعرے لگائے

اسلام آباد،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)لاہور میں جامعہ نعیمیہ آمد پر ایک شخص نے نواز شریف پر جوتا پھینک دیا ۔نجی ٹی وی کے مطابق آج سابق وزیر اعظم نواز شریف جامعہ نعیمیہ میں ایک سیمینار میں شریک ہوئےاور اس دوران جامعہ نعیمیہ میں سیمینار کے دوران اس وقت بد مزگی دیکھنے میں آئی جب ایک شخص نے نواز شریف پر جوتا پھینک دیا۔جب کہ جوتا پھینکنے والے شخص کی جانب سے نعرے بھی لگائے گئے۔جوتا نوازشریف کے سینے اور کان پر لگا۔جوتا پھینکنے والے شخص کو پکڑ کر مارا بھی گیا۔نوازشریف سیمینار سے مختصر خطاب کے بعد فوراً واپس چلے گئے۔ادھرسیاسی رہنمائوں نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ اس طرح کے واقعات کا تسلسل سیاسی جماعتوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری طوفان بدتمیزی کا شاخسانہ ہے ،گالی گلوچ سے بات عملی اقدامات کی جانب بڑھنا انتہائی خطرناک ہے اوراسی سے حالات خانہ جنگی کی طرف بڑھتے ہیں۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وزیر خارجہ خواجہ آصف کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب بات بگڑتی جارہی ہے اور اس سے آگے خطرناک حالا ت ہیں ۔سیاستدانوں کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے ۔تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ ہم نے خواجہ آصف کیساتھ پیش آنے والے واقعہ کی بھی مذمت کی اور نواز شریف کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی بھی مذمت کرتے ہیں اور اس عمل کو درست نہیں سمجھتے ۔انہوں نے کہا کہ اگر عوام انتخابات میں اپنے انگوٹھے کا صحیح استعمال کریں اور صحیح شخص کو ووٹ دیا ہو تو پھر سیاہی اور جوتا پھینکنے کی نوبت نہیں آئے گی ۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف ایک مذہبی جماعت کے سیمینار میں شریک تھے اور مسلم لیگ (ن) پہلے ہی ختم نبوت کے معاملے میں دبائو میں ہے ۔ انہوں ے کہا کہ سیاست میں اختلافات اور انکے اظہار کا طریقہ ہے لیکن یہ عمل کسی طرح بھی درست نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اس انتہا پسندی کے ذمہ دار خود نواز شریف اور ان کی جماعت ہے اور انہی کی وجہ سے آج ملک میں عدم برداشت کی فضاء پیدا ہوئی ہے ۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہنے بھی محمد نواز شریف اور خواجہ آصف کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلا شبہ یہ انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ واقعہ ہے ۔ بیشک کسی سے بھی اختلاف رائے ہو سکتا ہے لیکن اس طرح وضاحت یا اظہار کرنا قابل معافی نہیں ہے اور اس کی تحقیقات کر کے قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جب بات گالم گلوچ سے چلی تھی تو ہم نے ساری جماعتوں سے گزارش کی تھیکہ سوشل میڈیا پر ولگر مہم کے تدارک کے بارے میں سوچا جائے ،ان واقعات کا تسلسل سوشل میڈیا پر جاری طوفان بدتمیزی کا شاخسانہ ہے ۔ جب قائدین اس طرح کا رویہ اپنائیں گے تو یہ نیچے کارکنوں تک آئے گا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی جانب سے سوشل میڈیا پر جو ہو رہا ہے وہ درست نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تحریروں کے بعد دست و گربیان اور پھر قاتلانہ حملے ہوں گے اور اسی سے حالات خانہ جنگی کیجانب جاتے ہیں ۔ان واقعات کو لگام دینے کیلئے تمام جماعتوں کو اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنا ہو گی اور اپنے کارکنوں کو سمجھانا ہوگا۔اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال نے جامعہ نعیمیہ میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں