جو وزیر کام نہیں کرے گا گھر جائے گا،عمران خان

پشاور…وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تمام وزراء کو روز آفس جانا اور شام تک بیٹھنا چاہئے ، اب ہمیں فارورڈ بلاک کا بھی مسئلہ نہیں، جو وزیر کام نہیں کرے گا اور آفس نہیں جائے گا۔ اس سے وزارت لے لی جائے گی۔ا±س کے خلاف کارروائی ہوگی اور پھر وہ شکوہ نہ کریں کہ وزارت چلی گئی اور جو بیوروکریٹ کام نہیں کر رہا اسے نکال دیں گے۔عوام کے پیسے پر شخصی نظام کا خاتمہ کررہے ہیں۔پنجاب اورخیبر پختونخوا کے وزراءپر مکمل اعتماد ہے۔ عوام کاپیسہ عوام پر خرچ کرنا چاہئے ۔ قبائلی علاقوں کا پاکستان میں انضمام آسان کام نہیں۔ان علاقوں کی ترقی کیلئے ایک روڈ میپ دے رہے ہیں۔بلدیاتی نظام میں تحصیل ناظم کا الیکشن براہ راست کروائیں گے۔ پشاور میں خیبر پختونخوا حکومت کے 100 روز مکمل ہونے پرتقریب سے خطاب کرتے ہو ئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے لوگ سیاسی شعور رکھتے ہیں۔انہوں نے ہمیں دوسری مرتبہ صوبے میں حکومت سازی کا موقع دیا۔ اس پر عوام کا شکر ادا کرتا ہوں۔یہاں کے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی آئی۔ اس لئے تحریک انصاف کو دوسرا مینڈیٹ ملا۔ 2018 کے الیکشن صاف اور شفاف ہوئے۔ مینڈیٹ لینے کے لئے کوئی روایتی حربہ استعمال نہیں کیا۔ الیکشن سے قبل فنڈز جاری نہیں کئے تھے۔ اگر کوئی بھی حلقہ کھلوانا چاہتے ہیں تو تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری بھی ساری پالیسی یہ ہونی چاہیے کہ غریب طبقے کو کیسے اوپر لانا ہے۔ پیسے نہیں بھی ہیں تو ہم نے کمزور طبقے کی مدد کرنی ہے۔ ہم سارے ملک کے بچوں کے لئے ایک نصاب کے لئے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کسی نے ملک کو فلاحی ریاست بنانے کے لئے کچھ کیا ہو۔میں نے اپنے سامنے غریب اور امیر میں فرق بڑھتے دیکھا ہے۔ جب انگریز گیا تو ہمارے اسپتال بہتر تھے۔میں خود گورنمنٹ اسپتال میں پیدا ہوا لیکن آہستہ ٓاہستہ امیروں کے اور غریبوں کے لئے الگ الگ ا سپتال بن گئے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی میں چھوٹے سے طبقے کے لئے پالیسیاں بنتی رہیں۔کسی نے نچلے طبقے کو اوپر لانے کے لئے نہیں سوچا۔ملک میں امیر اورغریب میں فرق ختم ہونا چاہیے، جہاں امیر اورغریب میں فرق ہو وہ کیسے فلاحی ریاست بن سکتی ہے۔حکومت کو ریکارڈ ملکی خسارہ ورثے میں ملا۔ بیوروکریسی کی سوچ ہے کہ سرمایہ کاری اچھی چیز نہیں۔ہمیں سرمایہ کاروں کے لئے آسانیاں پیدا کرنی ہیں۔ وزیراعظم ہاو¿س کی گاڑیاں اور بھینسیں بیچنے پر ہمارا مذاق اڑایا گیا حالانکہ ہم عوام کے پیسے پر عیاشی کے نظام کا خاتمہ کررہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں