جہاں فرائض میں غفلت ہوئی مداخلت کریں گے، سپریم کورٹ

اسلام آباد(سنہرادور آن لائن) سپریم کورٹ نے کٹاس راج مندر از خود نوٹس کی سماعت میں بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کے وکیل کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ہمیں اتنی سمجھ آئی ہے کہ علاقے کا حسن امیر لوگوں نے تباہ کیا ہے، جہاں فرائض میں غفلت ہوگی وہاں مداخلت کریں گے۔

کٹاس راج مندر از خود نوٹس کیس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے دبنگ ریمارکس دیئے، حکم دیا کہ بیسٹ وے فیکٹری کا ٹیوب ویل کے ذریعے پانی نکالنے کا عمل اور ایک ٹربائن فوری بند کیا جائے اور کٹاس راج مندر کا تالاب ایک ہفتے میں بھرا جائے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا اگر مقامی سطح پر ماحول خراب ہوا تو فیکٹریاں بند کرادیں گے، ان فیکٹریوں نے زیر زمین موجود پانی اپنی طرف کھینچ لیا ہے، زمین کی نچلی سطح استعمال کرنے کا حق انہیں کس نے دیا؟۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے سوال اٹھایا کہ زیر زمین پانی کے استعمال پر ایک حد تک پابندی کیوں نہیں ہے؟، عدالتی حکم پر چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ صدیق الفاروق نے اپنا جواب بھی جمع کرایا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں مزید کہا ہمیں اتنی سمجھ آئی ہے کہ علاقے کا حسن امیر لوگوں نے تباہ کیا ہے، ادارے قابلیت کے بجائے سیاست سے چلائے جارہے ہیں، سیمنٹ ایکسپورٹ کے بہانے لوگوں کی زندگی اجیرن کردی گئی، ایک بچے کی صحت کروڑوں روپے سے زیادہ اہم ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کراچی کے حالات دیکھ آیا ہوں، اب پنجاب کی باری ہے، وزیراعلیٰ سندھ سے کہا کہ کیا آپ میرے ساتھ تھر جاکر ایک گلاس پانی پی سکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب سے بھی کہوں گا کیا وہ اس علاقے کا پانی پی سکیں گے؟، کیس کی آئندہ سماعت ایک ماہ بعد ہوگی.

اپنا تبصرہ بھیجیں