‘جیتنا ہے تو محمد عامر کو ورلڈ کپ سے باہر نہ کریں’

پاکستان کے سابق سوئنگ ماسٹر وسیم اکرم نے خبردار کیا ہے کہ فاسٹ بولر محمد عامر کو ورلڈ کپ سکواڈ سے باہر کرنے سے ٹیم کا بولنگ اٹیک متاثر ہو گا۔
  ستائیس سالہ فاسٹ بولر محمد عامر کو ورلڈ کپ کے لئے پاکستان کے ابتدائی سکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا ہے، تاہم اگر وہ انگلینڈ کے خلاف پانچ ایک روزہ میچز میں اچھی کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہے تو میگا ایونٹ کے لئے حتمی 15 کھلاڑیوں میں جگہ بنا سکتے ہیں۔ آئی سی سی نے تمام ٹیموں کو 23 مئی تک ورلڈ کپ سکواڈ میں تبدیلی کا اختیار دے رکھا ہے۔
واضح رہے کہ فاسٹ بولر محمد عامر اسپاٹ فکسنگ کیس میں پانچ برس کی سزا کے باعث 2011ء اور 2015ء کے ورلڈ کپ نہیں کھیل سکے تھے۔ سزا مکمل کرنے کے بعد محمد عامر نے جون 2017ء میں چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں انڈیا کے خلاف ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا، تاہم محمد عامر کی حالیہ کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ محمد عامر نے گذشتہ 14 ایک روزہ میچز میں صرف چار وکٹیں حاصل کی ہیں۔
  خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ محمد عامر ورلڈ کپ کے لئے اپنی جگہ بنا سکتے ہیں،’ ہم محمد عامر کو ورلڈ کپ سے باہر نہیں کر سکتے’۔
وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ وہ محمد عامر کو ورلڈ کپ کے لئے اپنی پہلی ترجیح قرار دیتے ہیں، وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ محمد عامر انگلش کنڈیشنز میں بہت اچھی کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ وسیم اکرم نے کہا کہ محمد عامر ردھم میں واپس آ گئے تو میگا ایونٹ میں عمدہ کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔
سابق کپتان کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے لئے پاکستانی سکواڈ زیادہ تر نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے، ٹیم میں 2015ء کا ورلڈ کپ کھیلنے والے سرفراز احمد اور حارث سہیل بھی موجود ہیں جبکہ 2007ء کا عالمی کپ کھیلنے والے شعیب ملک اور 2007ء اور 2011ء کے میگا ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے محمد حفیظ بھی قومی سکواڈ کا حصہ ہیں۔
سنہ 1992 کے ورلڈ کپ فائنل کے ہیرو وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ بڑے ایونٹس ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ تجربہ کار کھلاڑیوں کو شامل کر کے جیتے جاتے ہیں۔ 
سابق کپتان کا کہنا ہے کہ وہ نوجوان کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے  کے حق میں ہیں تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ تجربے کا کوئی نعیم البدل نہیں۔
وسیم اکرم رواں برس پاکستان سپر لیگ کے دوران فاسٹ بولر محمد عامر کی رہنمائی بھی کر چکے ہیں، وسیم اکرم کہتے ہیں کہ محمد عامر میں بہت جلدی سیکھنے کی صلاحیت موجود ہے، انہیں امید ہے کہ وہ جلد فارم میں واپس آ جائیں گے کیونکہ ٹیم کو ان کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ ورلڈ کپ سے قبل پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف پانچ ایک روزہ اور ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنا ہے، میگا ایونٹ سے قبل قومی ٹیم افغانستان کے خلاف 24 مئی اور بنگلہ دیش کے خلاف 26 مئی کو پریکٹس میچزبھی کھیلے گی۔ شیڈول کے مطابق پاکستان نے تین کاؤنٹی ٹیموں کے خلاف بھی ایک روزہ میچز کھیلنا ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں