حب: سی پیک ہم نے شروع کیا اور (ن) لیگ نے اس پر قبضہ کرلیا، بلاول بھٹو

حب: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ بلوچستان کو ہمیشہ محروم رکھا گیا جب کہ سی پیک ہم نے شروع کیا تھا مگر (ن) لیگ نے اس پر قبضہ کرلیا ہے۔ ایک آمر نے بلوچستان میں نفرت کی آگ لگائی جسے ٹھنڈا کرنے کیلئے آصف زرداری نے بلوچوں سے معافی مانگی ۔

حب میں پاکستان پیپلزپارٹی کے تحت منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیرمین پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ جانتا ہوں بلوچوں کیساتھ تاریخی ناانصافیاں ہوئیں، آمروں نے بلوچستان کو بہت دکھ دیئے، میں بھی بلوچوں کی طرح بہت دکھی ہوں، میرے نانا کو پھانسی اور مرتضٰی بھٹو کوگولیاں مار کر قتل کیا گیا، میری ماں کو بھی شہید کیا گیا۔ایک آمر نے بلوچستان میں نفرت کی آگ لگائی جسے ٹھنڈا کرنے کیلئے آصف زرداری نے بلوچوں سے معافی مانگی ،وہ بلوچ عوام کے ز خموں سے واقف تھے، اس لیے 2008 میں نواب اکبر خان بگٹی کی موت کے بعد پیپلزپارٹی نے بلوچستان کے ماتھے سے خون صاف کیا اور نفرت کی آگ کو ٹھنڈا کیا۔ پیپلز پارٹی نے اقتدار میں آتے آمر کو ایوان صدر سے باہر پھینکا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ بی بی شہید نے وعدہ کیا تھا کہ میں بلوچستان میں آپریشن بند کراوں گی اور مساوی حقوق دلاوں گی، بلوچستان کو ہمیشہ پیچھے اور محروم رکھا، بلوچستان کے لوگوں کو بھی انصاف نہیں ملتا اور ہمیں بھی نہیں ملتا، بلاول بھٹو نے بلوچستان کے نوجوانوں کو مخاطب کرکے کہا کہ میں نے اپنے دکھوں کو اپنی طاقت میں بدلا، اپنے غم کو عزم میں بدلا اور پاکستان کھپے کا جھنڈا بلند کیا، دکھی آپ بھی ہیں اور میں بھی ہوں، بلوچوں کے بھی قتل ہوتے رہے اور ہمارے بھی قتل ہوتے رہے، لیکن ہم نے کہا کہ وہ ہمیں مارتے رہیں گے اور ہم جیوے جیوے پاکستان کہتے رہیں گے۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ہم نے 18 ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو خودمختاری دی، مخالفین پوچھتے ہیں کہ ہم نے اپنی حکومت میں کیا کیا؟ جب اقتدار سنبھالا تو آگ میں جلتا ہوا بلوچستان ملا تھا، ہماری حکومت نے بلوچستان میں سیاسی قیدیوں کو رہا کیا، 2013ء میں بلوچستان واحد صوبہ تھا جس کے پاس سرپلس بجٹ تھا، ہم نے قومی خزانے سے بلوچستان کو وسائل فراہم کئے۔

چیئرمین پی پی نے مزید کہا کہ نواز شریف نے بلوچستان کو کالونی سے زیادہ اہمیت نہیں دی، نواز شریف نے آج تک این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا، یہ بلوچستان کے مالی وسائل پر ڈاکہ نہیں تو اور کیا ہے؟ اس جرم میں نام نہاد قوم پرست پارٹیاں بھی شامل ہیں۔نواز شریف نے ساڑھے 4 سال میں بلوچستان پر توجہ نہیں دی، وفاق کے 90 فیصد فنڈز پنجاب پر خرچ ہوئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں کیوں ضم نہیں کیا جا رہا؟ بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایک بھی جیالا ایم پی اے نہیں لیکن الزام پھر ہم پر لگایا جا رہا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ بلوچستان میں 4 برسوں میں 3 وزرائے اعلیٰ آئے، ایسا لگ رہا ہے کہ نون لیگ نے بلوچستان کو ٹھیکے پر دے دیا ہے، ہماری حکومت آئی تو بلوچستان کے وسائل بلوچستان کے لوگوں کے پاس ہوں گے، بلوچستان کی گیس پر بلوچستان کے لوگوں کا حق ہو گا، بلوچستان کے سونے پر بلوچستان کے لوگوں کا حق ہو گا، بلوچستان کی نوکریوں پر بلوچستان کے لوگوں کا حق ہو گا اور بلوچستان کے سی پیک پر بھی بلوچستان کے لوگوں کا حق ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک ہم نے شروع کیا اور (ن) لیگ نے اس پر قبضہ کرلیا، سی پیک کے منصوبوں پر ایوان صدر میں آصف زرداری اور چینی صدر کی موجودگی میں دستخط ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں