حدیبیہ کیس: نیب کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی اپیل دائر کرنیکا فیصلہ

ریفرنس کھلوانے کیلئے نیب پراسیکیوشن ٹیم نئے شواہد سامنے لائے گی، قانونی دلائل اور شواہد کے ساتھ نظرثانی درخواست دائر کی جائے گی: نیب ذرائع

اسلام آباد: (سنہرادور آن لائن) قومی احتساب بیورو حدیبیہ پیپرز مل ریفرنس پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کرے گا۔ ریفرنس کھلوانے کیلئے نیب پراسیکیوشن ٹیم نئے شواہد سامنے لائے گی۔

ذرائع کے مطابق حدیبیہ پیپرز مل ریفرنس پر سپریم کورٹ کے 15 دسمبر کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست پراسیکیوشن ٹیم سے مشاورت کے بعد دائر کی جائے گی۔ نیب کا مؤقف ہے کہ ریفرنس کھولنے کی درخواست تکنیکی بنیادوں پر خارج ہوئی، نظرثانی درخواست آئندہ چند روزمیں دائر کر دی جائے گی۔

سپریم کورٹ نے نیب کی حدیبیہ پیپرز مل ریفرنس کیس کھولنے کی اپیل مسترد کر دی تھی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت نیب کے دلائل پر مطمئن نہیں، اپیل زائد المیعاد ہونے پر نا قابل سماعت ہے۔

خیال رہے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے حدیببہ پیپر ملز ریفرنس کھولنے کیلئے نیب کی اپیل پر بینچ تشکیل دیا تھا۔ جس میں جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس دوست محمد اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل تھے۔ لاہور ہائیکورٹ نے شریف برادران کیخلاف حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس خارج کر دیا تھا۔ نیب نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے ریفرنس دوبارہ کھولنے کی اجازت طلب کر رکھی ہے۔ نیب نے پاناما کیس میں پانچ رکنی بینچ کی آبزرویشن پر اپیل دائر کی تھی۔

واضح رہے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے اکتوبر 2011 میں نیب کو اس ریفرینس پر مزید کارروائی سے روک دیا تھا۔ حدیبیہ ریفرنس مشرف دور میں سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار سے 25 اپریل 2000 کو لیے گئے اس بیان کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا جس میں انہوں نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے شریف خاندان کے لیے ایک کروڑ 48 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ رقم کی مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا۔ اسحاق ڈار بعدازاں اپنے اس بیان سے منحرف ہو گئے تھے اور ان کا موقف تھا کہ یہ بیان انھوں نے دباؤ میں آ کر دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں