حکومت سی پیک منصوبے کے بارے میں تفصیلی معلومات تاجر برادری کے ساتھ شیئر کرے۔ راولپنڈی و اسلام آباد چیمبر آف کامرس

راولپنڈی (سنہرادور) راولپنڈی اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سی پیک منصوبے کے بارے میں تفصیلی معلومات تاجر برادری کے ساتھ شیئر کرے کیونکہ حکومت کی طرف سے اس اہم منصوبے کے بارے میں مکمل معلومات ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئی ہیں جس وجہ سے تاجر برادری میں کئی تحفظات پائے جاتے ہیں۔ یہ مطالبہ جڑواں شہروں کی تاجر برادری نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک وفد کے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورہ کے موقع پر کیا۔ وفد میں راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زاہد لطیف خان، سینئر نائب صدر محمد ناصر مرزا، نائب صدر خالد فاروق قاضی، گروپ لیڈر سہیل الطاف، ایگزیکٹیو ممبران و سابق صدور شامل تھے۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عامر وحید اور راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زاہد لطیف خان نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ سی پیک کے تحت راولپنڈی اسلام آباد میں ایک انڈسٹریل زون بنایا جائے گا لیکن حکومت نے ابھی تک جڑواں شہروں کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے کوئی مشاورت نہیں کی کہ مذکورہ انڈسٹریل زون کیلئے کہاں جگہ کا تعین کیا گیا ہے اور اس میں کون کون سی صنعتیں لگائی جائیں گی۔ انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ حکومت دونوں چیمبرز کے ساتھ مشاورت کر کے جڑواں شہروں میں قائم کئے جانے والے انڈسٹریل زون کے تمام معاملات کو حتمی شکل دے۔
انہوں نے کہا کہ جڑواں شہروں کی تاجر برادری سی پیک منصوبے کی حمایت کرتی ہے کیونکہ اس نے پاکستان کے بہتر مستقبل کے بارے میں نئی امیدیں پیدا کی ہیں تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس منصوبے کی وجہ سے مقامی صنعت کسی بھی لحاظ سے متاثر نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا دونوں شہروں کی تاجر برادری یہ جاننا چاہتی ہے کہ حکومت نے سی پیک میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے چین کے سرمایہ کاروں اور مقامی سرمایہ کاروں کیلئے کیا مراعات طے کی ہیں اور ان میں کوئی فرق ہے۔ اس کے علاوہ تاجر برادری یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ سی پیک کیلئے درآمد کردہ مشینری پر حکومت نے چین کے سرمایہ کاروں اور مقامی صنعتکاروں کو ٹیکس کی مساوی چھوٹ دی ہے یا ان میں کوئی فرق ہے۔ انہوں نے کہا یہ سوالات اس لئے پیدا ہو رہے ہیں کہ حکومت نے ابھی تک ان معلومات کو نجی شعبے کے ساتھ شیئر نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کا نجی شعبہ اس تاریخی منصوبے میں اہم سٹیک ہولڈر ہے اور حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ شروع سے ہی نجی شعبہ کو اعتماد میں لے کر اس منصوبے پر آگے بڑھتی تا کہ تاجر و صنعتکار اس بڑے ترقیاتی منصوبے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کیلئے اپنے آپ کو بروقت تیار کرتے لیکن حکومت نے ابھی تک اس منصوبے کی اہم معلومات کو منظر عام پر نہیں لایا جس سے تاجر برادری میں کئی خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے ایف بی آر کی طرف سے کاروباری اداروں پر چھاپے مارنے، ہوٹلوں پر رئیل ٹائم مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنے، تاجر برادری کے بینک اکاؤنٹس کو اٹیج کرنے، رئیل اسٹیٹ شعبے پر بھاری ٹیکس عائد کرنے اور 40Bکے نفاذ سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا اور ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ ان مسائل کا ازالہ کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے ورنہ دونوں شہروں کی تاجر براری اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے مشترکہ لائحہ عمل طے کرے گی۔ انہوں نے پاکستان سٹینڈرزاینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی سے بھی مطالبہ کیا کہ چھاپوں کی بجائے وہ دونوں چیمبرز کی مشاورت سے جڑواں شہروں کی دکانوں پر لائنس شدہ اشیاء کی دستیابی کیلئے کوشش کرے۔ انہوں نے ای او بی آئی، سوشل سیکورٹی اور لیبر انسپکٹرز کی کارروائیوں سمیت دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جس سے تاجر برادری کو مسائل کا سامنا ہے اور ان امور پر متفقہ موقف اپنانے پر اتفاق کیا۔ دونوں چیمبرز نے اس موقع پر ایک مشترکہ کمیٹی بنانے پر بھی اتفاق کیا جو دونوں چیمبروں کے درمیان قریبی روابط برقرار رکھنے اور جڑواں شہروں کی تاجر برادری کے مشترکہ مسائل کو حل کرنے کیلئے کام کرے گی۔
شیخ عامر وحید اور زاہد لطیف خان نے کہا کہ دھرنوں کی وجہ سے جڑواں شہروں کی تاجر برادری ہمیشہ متاثر ہوئی ہے اور اب وہ اس دھرنہ کلچر سے اکتا چکی ہے۔ انہوں نے جڑواں شہروں کی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ دھرنوں اور سیاسی جلسوں کیلئے شہر سے الگ کوئی جگہ مختص کرے تا کہ تاجر برادری کو مزید نقصانات سے بچایا جا سکے۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے گروپ لیڈر خالد جاوید، راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے گروپ لیڈر سہیل الطاف، عبدالرؤف عالم، ایس ایم نسیم، زبیر احمد ملک، میاں اکرم فرید، اسد مشہدی، طارق صادق، کاشف شبیر، زاہد مقبول، میاں شوکت مسعود، ہمایوں پرویز، اعجاز عباسی، احمد مغل، باسر داؤد اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور طے پایا کہ تاجر برادری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے دونوں چیمبر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں گت جس میں انجمن تاجران اور ٹریڈ ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے تاجروں اور صنعتکاروں کے مفاد کا تحفظ کیا جا سکے

اپنا تبصرہ بھیجیں