خدشات ا ور خطرات

بادشاہت کی بقا کا راز اس کی طاقت میں مضمر ہوتا ہے۔ بادشاہ تلوار کے زور پر علاقے فتح کرتا اور تلوار کے زور پر انہیں اپنے قبضے میں رکھتا ہے۔ اس کی سلطنت میں انسان نہیں بلکہ رعایا رہتی ہے جس کی حیثیت بھیڑ بکریوں کی سی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جمہوریت کی بقاء، طاقت اور استحکام کا راز ووٹ میں مضمر ہوتا ہے اور لوگوں کی ’’رضا‘‘ کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ برطانوی پروفیسر لاسکی سے لے کر ٹائن بی تک اسے جمہوریت کا حسن قرار دیتے ہیں کہ جمہوری نظام میں عوام کو ریاستی ڈھانچے اور حکومتی معاملات میں احساسِ شرکت مہیا کیاجاتا ہے، انہیں ریاست کی ملکیت میں شامل کیا جاتا ہے اور جس قدر عوام کو حکومتی معاملات میں شرکت کا احساس ہوگا اسی قدر مضبوط وہ ریاست یا ملک اور قوم ہوں گے۔ پسماندہ علاقوں کے لوگ صدیوں تک ذات، قبیلہ، برادری، نسل، زبان اور علاقائی تعصبات کی زنجیروں میں جکڑے رہنے کے سبب جمہوری نظام کی آمد کے بعد بھی طویل عرصے تک ان تعصبات کا شکار رہتے ہیں۔ جمہوری نظام کا حسن یہ ہے کہ وہ لوگوں کو آہستہ آہستہ ان تعصبات سے آزاد کرکے قومی دھارے میں لاتا ہے اور ان کی سوچ نسلی و لسانی قید سےنکال کر قومی سانچے میں ڈھالتا ہے، چنانچہ جمہوریت پر شدید ترین زد اس وقت پڑتی ہے جب جمہوری نظام کے شراکت دار خود غرضانہ سیاست کا کھیل کھیلتے ہوئے ووٹوں کے حصول کیلئے ان تعصبات کی چنگاریوں کو بھڑکاتے اور ہوا دیتے ہیں۔ مطلب یہ کہ جمہوریت کی بقا اور طاقت کا راز ہی عوام کے اتحاد میں پوشیدہ ہے اور یہی جمہوری نظام کی روح سمجھی جاتی ہے، اگر جمہوریت عوام کی قومی تشکیل میں ناکام ہوجائے تو اس کا مستقبل مشکوک ہوجاتا ہے، چنانچہ جب سیاسی نظام کے شراکت دار یا علمبردار عوام سے ووٹ لینے کیلئے ان کے نسلی، لسانی یا علاقائی جذبات کو ہوا دیتے ہیں تو گویا وہ جمہوریت کی روح کو مجروح کرتے ہیں۔

اس پس منظر میں ہم اپنی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو احساس ہوگا کہ خود ہمارے سیاستدان اور حکمرانی کے شراکت دار جمہوریت کو کمزور کرتے رہے ہیں۔ اسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر جمہوری نظام کی بساط کو لپیٹا جاتا رہا ہے اور آئین کو نیند کا انجکشن لگا کر سلایا جاتا رہا ہے۔ آئین کوئی ایسی کمزور، علیل اور لاغر شے نہیں کہ تھک جائے۔ جمہوری ممالک میں صدیوں حکومت کرنے کے باوجود آئین وقت کے ساتھ ہمیشہ مضبوط ہوا ہے نہ کہ کمزور۔ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس اظہاریے، رائے یا خیال پر دکھ کا اظہار کروں جسے چند دانشور آج کل فروغ دے رہے ہیں۔ علم و حکمت اور دلیل کا زعم اپنی جگہ لیکن زیادہ اہم اپنی تاریخ کا شعور ہوتا ہے۔ حکومت کی کارکردگی سے مایوسی یا اپنی پسندیدہ حکومت کی اقتدار سے محرومی کا غصہ آئین پہ نکالنا افسوسناک ہے۔ آئین ان تمام مسائل اور مناظر(Options)کا حل مہیا کرتا ہے۔ حکومت سے مایوس ہیں تو اس کی کارکردگی پر خوب تنقید کریں، دل کی بھڑاس نکالیں اور اس سے آئین کے تحت چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کریں نہ کہ جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے درپے ہوجائیں۔ یہ رویہ یا سوچ عقل کل کی علامت ہے جبکہ جمہوری نظام میں عقل کل کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ عقل کل کا تصور بادشاہت میں ہوتا ہے۔ میرا خدشہ بیجا ہوسکتا ہے مگر تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ 1958اور 1977کے مارشل لائوں سے قبل بھی کچھ دانشوروں سے ایسی باتیں لکھوائی گئی تھیں جن کا مفہوم یہ تھا کہ گمبھیر مسائل اور سیاسی بحران کے حل کیلئے تھواڑا عرصہ آئین کو آرام کرنے دیا جائے۔ 1956کے آئین کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ نہایت کٹھن کام تھا، جب ایک بار صوبوں کا قبول کردہ آئین توڑ دیا گیا تو پھر اسے دوبارہ بنانا تقریباً ناممکن تھا۔ متفقہ آئین کو دفن کرنے کے بعد ایوب خان کو 1969میں اپنا بنایا ہوا آئین بھی دفن کرنا پڑا۔ نتیجے کے طور آئینی بحران پیدا ہوا جس نے ملک ہی توڑ دیا۔ یہ طویل اور دردناک داستان ہے جسے پڑھنے کیلئے آپ کو میری دو کتابیں’’مسلم لیگ کا دورِ حکومت‘‘ اور ’’پاکستان کیوں ٹوٹا‘‘ پڑھنا پڑیں گی۔ کالم کی تنگ دامنی تفصیل کی راہ میں حائل ہے۔ مختصر یہ کہ موجودہ حالات میں آئین کی تھکاوٹ اور کچھ عرصے کیلئے اسے سلانے کی باتیں جمہوریت کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔ 2018کے انتخابات سے قبل کچھ دانشور بے رحم احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے آئین کی استراحت کا مطالبہ کرتے تھے اور اب معاشی بحران کے حل کیلئے وہی مطالبہ دہرایا جارہا ہے۔ اس کے پس پردہ کیا ہے؟ بظاہر مایوسی لیکن تجویز کردہ حل مزید مایوسی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ جمہوریت کی اصل قوت وہ احساسِ شراکت ہے جو یہ نظام عوام کو عطا کرتا ہے لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہماری سیاست کے رہنما قومی سوچ اور ملکی اندازِ فکر کو فروغ دینے کے بجائے علاقائی تعصبات کو ابھارتے رہتے ہیں جس سے جمہوری نظام کی روح پر شدید ضرب لگتی ہے، اگر آپ ٹیلی وژن کے مباحثوں میں مختلف سیاسی لیڈروں کے مباحث کو سنیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی سوچ علاقائی تعصبات سے آزاد نہیں ہوسکی۔ وہ لوگوں سے ہمدردی ا ور ووٹ لینے کیلئے علاقائی محرومیوں کا ذکر خاصے مبالغہ انداز میں کرتے ہیں۔ یہ رجحان آپ کو سارے صوبوں کے سیاستدانوں میں نمایاں نظر آئے گا جسے تجزیہ کار’’کارڈ‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں محترم زرداری صاحب نے بدین کے جلسہ عام میں ایک خطرناک بات کی جو سندھ کارڈ کی انتہا ہے، جس سے انہیں گرفتاری کا خدشہ لاحق ہوا ہے،وہ اندرونِ سندھ اپنا کارڈ خوب کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’پہلے سندھ کی زمینیں لی گئیں، اب پانی سے محروم کیا جا رہا ہے‘‘۔ جاگ پنجابی جاگ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے ناانصافیاں اور سندھ کارڈ کا استعمال اسی سیاسی مہم کی شکلیں ہیں جن سے علاقائی تعصبات اور نفرتوں کو پالا جاتا ہے اور ووٹ لئے جاتے ہیں، حالانکہ ان محرومیوں کے حل کا بہترین طریقہ اقتدار میں آکر ان مسائل کو حل کرنا ہے ویسے صوبائی خود مختاری اور صوبائی حکومتیں ان مسائل کے حل کا آئینی طریقہ ہیں۔ ہمارے سیاستدان اقتدار کے مزے بھی لوٹتے ہیں اور محرومیوں کا رونا بھی روتے ہیں، ووٹ حاصل کرنے کی اس واردات سے قومی یکجہتی اور جمہوری نظام کمزور ہوتے ہیں مگر مسائل حل نہیں ہوتے۔ مسائل حل ہو جائیں تو ہمارے پیارے سیاستدان سیاست کی دکان کیسے چمکائیں گے؟

نوٹ:سانحۂ ساہیوال پر غمگین ہوں اور آنکھیں نم، اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ مطالبہ کرتا ہوں کہ ظلم کا ارتکاب کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں